logo logo
AI Search

کیا قسطوں پر نفع کے ساتھ مال بیچنا منع ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قسطوں پر کاروبار کرنے کا حکم؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نعیم اختر نے دس لاکھ روپے کا مال خرید کر عمر رضا کو ایک سال کے ادھار پر تیرہ لاکھ ساٹھ ہزار روپے (1360000) میں اس طرح فروخت کیا کہ خریدار ہر ماہ تیس ہزار روپے قسط دے گا اور سال کے آخر میں بقیہ دس لاکھ روپے یکمشت ادا کرے گا، جبکہ قسط لیٹ ہونے پر کوئی جرمانہ وصول نہیں کیا جائے گا۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ کیا شرعاً اس طرح ادھار اور قسطوں پر مال بیچ کر نفع کمانا جائز ہے؟ اور اگر یہ جائز ہے تو جو شخص اس کاروبار کو "سودی کام" کہتا ہے اس کے بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟ نیز اگر خریدار (عمر رضا) کو آگے کاروبار میں نقصان ہو جائے تو کیا ادھار پر مال بیچنے والا (نعیم اختر) بھی اس نقصان میں شریک سمجھا جائے گا یا وہ نقصان صرف خریدار کا ہوگا اور اُسے قسطوں کی پوری رقم ادا کرنی ہوگی؟

جواب

قسطوں پر کاروبار کرنا دراصل ادھار خرید و فروخت ہی کی ایک قسم ہے، جس میں چیز نقد کے مقابلے میں زائد قیمت پر بیچی جاتی ہے اور قیمت کی ادائیگی قسطوں کی صورت میں ہوتی ہے۔ اِسے سودی کام کہنا ہرگز درست نہیں، لہذا جب خرید وفروخت کی شرائط مکمل ہوں اور کوئی ناجائز شرط نہ ہو تو قسطوں پر چیز بیچنا جائز ہے، نیز قسطوں کی صورت میں جو قیمت بڑھائی جائے، اُس میں مالک کو اختیار ہوتا ہے کہ جتنی چاہے، قیمت متعین کر دے، کیونکہ بحیثیتِ مالک کوئی شخص جتنے مرضی پیسوں میں اپنی چیز کو بیچ دے، اُسے اجازت ہے۔ فقہاءِ اسلام نے واضح طور پر لکھا کہ اگر کوئی شخص محض کاغذ کے سادہ ٹکڑے کو ہزار روپے میں بیچ دے، تو جائز ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں آپ کا دس لاکھ کا مال خرید کر ”عمر رضا“ کو قسطوں پر تیرہ لاکھ ساٹھ ہزار روپے (1360000) میں بیچنا بالکل جائز ہے، بشرطیکہ کسی طرح کی ناجائز شرط کو شامل عقد نہ کیا جائے۔

سوال کے دوسرے حصے کا جواب یہ ہے کہ اگر قسطوں کی ادائیگی باقی تھی کہ خریدار (عمر رضا)کو نقصان ہو گیا، تو یہ نقصان اُس کی اپنی ملکیت میں ہوا ہے، اس سے نعیم اختر کا کوئی تعلق نہیں، کیونکہ بیع ہوجانے سے وہ مال عمر رضا کی ملکیت میں آ چکا تھا۔ اب ہرطرح کے نفع نقصان کا مالک وہی ہے، لہذا نقصان ہونے کے باوجود شرعاً عمر رضا پر پوری رقم کی ادائیگی ہی لازم ہے، کیونکہ قسطوں پر چیز بیچنا ایک ”تجارتی معاملہ“ ہے، شراکت داری نہیں، یعنی نعیم اختر نے مال ”بیچا “ہے، کاروبار میں سرمایہ کاری نہیں کی۔ لہذا عمر رضا کو ہونے والا کاروباری نقصان اُسے خود ہی برداشت کرنا ہو گا۔

قسطوں کی صورت میں بیع کرنا سود نہیں، بلکہ مدت مقرر کرتے ہوئے ادھار بیچنے کی ہی ایک شکل ہے، چنانچہ امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں:

التأجیل جائز کما حققنا کل ذلک وما التنجیم الا نوع من التأجیل

یعنی (بیع میں) مدت مقرر کرنا، جائز ہے جیسا کہ ہم نے اس کی تحقیق کی ہے اور قسطیں مقرر کرنا بھی مدت مقرر کرنے ہی کی ایک قسم ہے۔ (فتاوٰی رضویہ، جلد 17، صفحہ 493، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

اگر کوئی شخص اپنی چیز کو قسطوں کی صورت میں ڈبل قیمت پر بھی بیچنا چاہے تو شرعاً اجازت ہے اور یہ سود بھی نہیں، چنانچہ امام کمال الدین ابنِ ہُمَّامرَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 861ھ / 1456ء) لکھتےہیں:

ان كون الثمن على تقدير النقد ألفا و على تقدير النسيئة ألفين ليس في معنى الربا۔

ترجمہ: کسی چیز کی قیمت نقد کی صورت میں ایک ہزار اور ادھار کی صورت میں دو ہزار ہو، تو یہ سود کی صورت نہیں ہے۔ (فتح القدیر، جلد 06، صفحہ 447، مطبوعہ مصر)

امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان قادری رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے پوچھا گیا کہ جب غلہ بازار میں نقدوں 16 سیر کا ہو، تو قرضوں 15 یا 12 سیر کا بیچنا جائز ہے یا حرام یامکروہ؟ تو آپ رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا: یہ فعل اگر چہ نرخ بازار سے کیساہی تفاوت ہو، حرام یا ناجائز نہیں کہ وہ مشتری پر جبر نہیں کرتا، نہ اُسے دھوکا دیتا ہے اور اپنے مال کاہر شخص کو اختیار ہے۔ چا ہے کوڑی کی چیز ہزار روپیہ کو دے۔ مشتری کو غرض ہو، لے۔ (غرض)نہ ہو، نہ لے۔

فی رد المحتار:  لوباع کاغذۃ بالف یجوز و لا یکرہ

ترجمہ: ردالمحتار میں ہے: اگر کسی نے کاغذ کا ٹکڑا ہزار کے بدلے میں بیچا، تو جائز ہے اور مکروہ نہیں ہے (فتاوٰی رضویہ، جلد 17، صفحہ 97، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1367ھ / 1947ء) نے تحریر فرمایا: ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کو کم یا زیادہ، جس قیمت پر مناسب جانے، بیع کرے۔ تھوڑا نفع لے یا زیادہ، شرع سے اس کی ممانعت نہیں، مگر صورت مسئولہ میں یہ ضرور ہے کہ نقد یا ادھار دونوں سے ایک صورت کو معین کر کے بیع کرے اور اگر معین نہ کیا، یوہیں مجمل رکھا کہ نقد اتنے کو اور ادھار اتنے کو، تو یہ بیع فاسد ہوگی اور ایسا کرنا، جائز نہ ہوگا۔ (فتاوٰی امجدیہ، جلد 03، صفحہ 181، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)

بیع خواہ نقد ہو یا ادھار، اُس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیچے جانے والے مال کا مالک خریدار بن جاتا ہے۔ اب آئندہ اُس مال سے جو نفع نقصان ہو گا، وہ اِسی خریدار کا قرار دیا جائے گا، چنانچہ بیع کا حکم بیان کرتے ہوئے تحفۃ الفقہاء میں ہے:

اما حکم البیع فھو ثبوت الملک فی المبیع للمشتری و ثبوت الملک فی الثمن للبائع۔

ترجمہ: بیع کا حکم یہ ہے کہ خریدی گئی چیز کا مالک خریدا ر ہو جائے اور قیمت کا مالک فروخت کنندہ ہو۔ (تحفۃ الفقھاء، جلد 2، صفحہ 37، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9656
تاریخ اجراء: 11 جمادی الاخری 1447ھ / 03 دسمبر 2025ء