logo logo
AI Search

کباڑ کا کاروبار کرنا جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کباڑ کے کاروبار کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اِس مسئلہ کے بارے میں کہ کباڑ کا کاروبار کرنا شرعاً کیسا ہے؟ چونکہ یہ کام ایسا ہے کہ اِس میں بعض اوقات چوری کی چیزیں بیچے جانے کا بھی اِمکان ہوتا ہے، نیز کباڑیے کی کمائی کا کیا حکم ہے؟ شرعی حکم بیان فرمائیں۔

جواب

کباڑ کا کاروبار کہ جس میں ناکارہ، خراب اور رَدی مال کو خریدا اور بیچا جاتا ہے، یہ بیع یعنی خرید و فروخت کی ہی صورت ہے، لہذا اگر خرید و فروخت کی تمام شرائط واَرْکان کا لحاظ رکھا جائے تو دیگر جائز کاروباری شکلوں کی طرح یہ بھی جائز ہے اور اِس کاروبار سے حاصل شدہ کمائی بھی حلال ہے، البتہ اِس کاروبار میں چوری کی چیزیں آنے کا محض اِمکان اِس کاروباری صورت پر ایسا اثر واقع نہیں کرے گا کہ یہ کاروبار ہی ناجائز ہو جائے، البتہ اگر یقیناً معلوم ہو یا کسی قرینے کی وجہ سے غالب گمان ہو کہ میرے کباڑ خانے میں آنے والا یہ شخص چوری کا مال لایا ہے، تو کباڑیے کا اُس سے وہ چیز خریدنا حرام اور گناہ قرار پائے گا اور اگر یقینی علم یا واضح قرینہ موجود نہ ہو، تو خریدنا، جائز ہے، لیکن اگر اِس صورت میں بھی خریدنے کے بعد معلوم ہوگیا کہ یہ مال چوری کا ہے تو اب اس کا استعمال جائز نہیں، بلکہ مالک کو تلاش کر کے اُسے واپس کرنا لازم ہے۔

نوٹ: کچھ کباڑیوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ انسانی بالوں کی خرید وفروخت بھی کرتے ہیں۔ یاد رکھیے کہ انسانی بالوں کو خریدنا یا بیچنا، ناجائز، گناہ اور حرام ہے۔اِس خرید وفروخت سے مکمل اجتناب کیا جائے۔

چوری کی چیز خریدنے کے متعلق امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: چوری کا مال دانستہ (جان بوجھ کر) خریدنا حرام ہے، بلکہ اگر معلوم نہ ہو مظنون (گمان غالب) ہو جب بھی حرام ہے، مثلاً کوئی جاہل شخص کہ اس کے مورثین بھی جاہل تھے، کوئی علمی کتاب بیچنے کو لائے اور اپنی ملک بتائے اس کے خریدنے کی اجازت نہیں اور اگر نہ معلوم ہے، نہ کوئی واضح قرینہ تو خریداری جائز ہے، پھر اگر ثابت ہوجائے کہ یہ چوری کا مال ہے تو اس کا استعمال حرام ہے، بلکہ مالک کو دیا جائے اور وہ نہ ہو تو اس کے وارثوں کو، اور اُن کا بھی پتہ نہ چل سکے تو فقراء کو۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 17، صفحہ 165، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاھور)

بالوں کی خرید و فروخت کے متعلق مہذِّب فقہ حنفی، امام محمد بن حسن شیبانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات:189ھ / 804ء) لکھتے ہیں:

لا يجوز بيع شعر الانسان والانتفاع به۔

ترجمہ: انسانی بالوں کی خرید وفروخت اور اُس سے نفع کا حصول جائز نہیں۔ (الجامع الصغير مع شرحه النافع الكبير، صفحہ 328، مطبوعہ دار عالَم الكتب، بيروت)

اِس عدمِ جواز کی عِلَّت بیان کرتے ہوئے ابو الحسنات علامہ عبد الحی لکھنوی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1304ھ / 1886ء) نے لکھا:

لأن الإنسان مكرم فلا يجوز أن يكون منه شيء مبتذل۔

ترجمہ: کیونکہ انسان کو عزت والا بنایا گیا ہے، لہذا یہ جائز نہیں کہ اُس کے بدن کے کسی حصے کو (بیع وشراء) کے ذریعے حقیر و ذلیل بنایا جائے۔ (النافع الكبير علی الجامع الصغير، صفحہ 328، مطبوعہ دار عالَم الكتب، بيروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-8562
تاریخ اجراء: 22 ربیع الاوَّل 1445ھ / 09 اکتوبر2023ء