logo logo
AI Search

کیا بلی کی خرید و فروخت جائز ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بلی کی خرید و فروخت منع ہے؟ ایک حدیث پاک کی شرح

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتےعلمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں نے دار الافتاء اہلسنت کے ایک فتوی میں پڑھا کہ بلی کی خریدو فروخت جائز ہے، جبکہ ایک حدیث پاک نظر سے گزری جس میں لکھا ہے:

نهى النبي صلى اللہ عليه وسلم عن أكل الهر و ثمنه

ترجمہ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلی كو کھانے اور اس کے ثمن (قیمت) سے منع فرمایا۔ میرا سوال یہ ہے کہ حدیث پاک میں تو بلّی کے ثمن سے منع کیا گیا، تو فتوی میں جواز کا حکم کیوں بیان ہوا؟ رہنمائی فرمادیں۔

جواب

شرعی مسئلہ یہی ہے جو دار الافتاء اہلسنت کے فتوی میں بیان ہوا کہ بلّی کی خرید و فروخت جائز اور اس کا ثمن (قیمت)حلال ہے، یہی ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء کرام رحمۃ اللہ علیہم کا مؤقف ہے۔ البتہ سوال میں بیان کردہ حدیث پاک (رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بلّی کے ثمن سے منع فرمایا) کے متعلق محدثین کرام اور فقہاء عظام رحمۃ اللہ علیہمنے متعدد جوابات دئیے ہیں، جوکہ درج ذیل ہیں؛

(1)۔۔ یہ حدیث پاک ضعیف ہے اور ضعیف حدیث پاک سے احکام ثابت نہیں ہوتے۔

(2)۔۔ حدیث پاک میں وہ بلّی مراد ہے جو وحشی ہو گئی ہو اور اس کو حوالے کرنا ممکن نہ ہو۔

(3)۔۔ یہ حدیث پاک ابتداء اسلام میں تھی، جب بلّی کے نجس ہونے کا حکم تھا، تو جب اس کے جوٹھے کی پاکی کا حکم بیان ہوا، تو اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہوگئی، لہذا اس کا ثمن بھی حلال ہوگیا۔

(4)۔۔ حدیث پاک میں ممانعت تنزیہی ہے، تحریمی نہیں۔

(5)۔۔ امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معتمد جواب یہ ہے کہ اس حدیث پاک کو ان بلّیوں پر محمول کیا جائے جن میں کوئی نفع نہیں ہوتا یا پھر حدیث پاک میں بیان کردہ ممانعت کو تنزیہی شمار کیا جائے، یعنی ان کا فروخت کرنا غیر مناسب ہے، کہ یہ جانور تو یوں ہی بطور ہبہ یا عاریتاً دے دینا چاہیے۔

نیزاس روایت کے بعض اور بھی جوابات دئیے گئے ہیں۔

جزئیات:

سوال میں بیان کردہ حدیث پاک ترمذی شریف میں موجود ہے، چنانچہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ :

نهى ‌النبي صلى اللہ عليه وسلم ‌عن ‌أكل ‌الهر ‌و ثمنه

ترجمہ :رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے بلی كو کھانے اور اس کے ثمن (قیمت) سے منع فرمایا۔ (سنن الترمذی، جلد 03، الرقم 1280، شركة مكتبة و مطبعة، مصر)

مرقومہ بالا حدیث پاک کے تحت علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں:

و اختلف العلماء في جواز بيع الهر، فذهب قوم إلى جواز بيعه و حل ثمنه، و به قال الجمهور، و هو قول الحسن البصري و محمد بن سيرين و الحكم و حماد و مالك و سفيان الثوري و أبي حنيفة و أصحابه و الشافعي و أحمد و إسحاق،۔۔۔ و أجاب القائلون بجواز بيعه عن الحديث بأجوبه: أحدها: أن الحديث ضعيف وهو مردود. و الثاني: حمل الحديث على الهر إذا توحش فلم يقدر على تسليمه۔۔۔ و الثالث: ما حكاه البييهقي عن بعضهم أنه: كان ذلك في ابتداء الإسلام حين كان محكوما بنجاسته، ثم لما حكم بطهارة سؤره حل ثمنه. و الرابع: أن النهي محمول على التنزيه لا على التحريم۔۔۔ و قال النووي: و الجواب المعتمد أنه محمول على ما لا نفع فيه، أو: على أنه ‌نهي تنزيه حتى يعتاد الناس هبته و إعارته

ترجمہ: بلّی کی خرید و فروخت کے متعلق علماء کرام کے درمیان اختلاف ہے، علماء کرام کے ایک گروہ نے اس کی بیع (خرید و فروخت) اور اس کی قیمت کے حلال ہونے کا قول کیا اور یہی جمہور کا قول ہے، یہی قول امام حسن بصری، محمد بن سیرین، حکم، حماد، امام مالک، سفیان ثوری، امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب، امام شافعی، امام احمد اور امام اسحاق کا ہے۔ بلّی کی خرید و فروخت کے جواز کا قول کرنے والوں کی طرف سے حدیث پاک کے جوابات دئیے گئے ہیں؛ پہلا یہ کہ یہ حدیث ضعیف ہے اور ضعیف حدیث مردود ہوتی (یعنی اس سے احکام ثابت نہیں ہوتے)، دوسرا یہ کہ حدیث پاک کو اس بلی پر محمول کیا جائے جو وحشی ہو گئی ہو اوراسے حوالے کرنا ممکن نہ ہو، تیسرا جواب جو امام بیہقی نے بعض علماء سے نقل کیا ہے، یہ ہے کہ یہ ممانعت اسلام کے ابتدائی دور میں تھی، جب بلی کے نجس ہونے کا حکم تھا، پھر جب اس کے جوٹھے کو پاک قرار دیا گیا تو اس کی قیمت لینا جائز ہوگئی، چوتھا یہ کہ ممانعت تنزیہی پر محمول ہے، نہ کہ تحریمی پر۔ علامہ نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ معتمد جواب یہ ہے کہ اس کو محمول کیا جائے ان بلیوں پر جن میں کوئی نفع نہیں ہوتا یا یہ کہ ممانعت تنزیہی ہے، یہاں تک کہ لوگ اس کو ہدیہ دینے یا عاریتاً دینے کے عادی ہوجائیں۔ (عمدۃ القاری، جلد 12، صفحہ 60، دار الفكر، بيروت)

اسی طرح کی ایک اور حدیث پاک (جس میں بلّی کے ساتھ کتے کا بھی ذکر ہے) کے تحت مفتی محمد احمد یار خان نعیمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1391ھ / 1971ء) لکھتے ہیں: یا تو کتے بلی سے مراد غیر نافع کتے بلی ہیں جیسے دیوانہ کتا،وحشی بلی کہ اگر اسے باندھ کر رکھو تو چوہوں کا شکار نہ کرسکے اور اگر کھول دو تو بھاگ جائے اور یا مطلقًا کتا بلی مراد ہے اور نہی کراہت تنزیہی کے لیے ہے یعنی ان کا فروخت کرنا غیر مناسب ہے، یہ جانور تو یوں ہی بطور ہبہ دے دینا چاہئیں۔ یہ حدیث امام اعظم کی دلیل ہے کہ کتے کی بیع جائز ہے کیونکہ بلی کی بیع تمام آئمہ کے ہاں درست ہے اور یہاں ممانعت میں کتے بلی دونوں کو ملا دیا گیا ہے۔ (مراۃ المناجیح، جلد 04، صفحہ 257، حسن پبلیشر، لاہور)

بلّی کی خریدوفروخت کے متعلق علامہ زَبِیدی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 800ھ / 1397ء) لکھتے ہیں:

و يجوز ‌بيع ‌الهرة بالإجماع

ترجمہ: بلّی کی خرید و فروخت بالاجماع جائز ہے۔ (الجوھرۃ النیرۃ، جلد 01، صفحہ 220، المطبعة الخيرية)

اسی طرح تنویر الابصار مع در مختار میں ہے:

(و صح بيع الكلب و الفهد) و الفيل و القرد (و السباع) بسائر انواعها حتى الهرة و كذا الطيور

ترجمہ: کتے، چیتے، ہاتھی، بندر اور تمام اقسام کے درندے، یہاں تک کہ بلی اور اسی طرح پرندوں کی خرید و فروخت صحیح ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 05، صفحہ 226، دار الفکر، بیروت)

و اللہ اعلم عزوجل و رسولہ اعلم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0172
تاریخ اجراء: 19 جمادی الاخری 1447ھ / 11 دسمبر 2025ء