آن لائن شاپنگ میں ڈلیوری چارجز کون دے گا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
آن لائن چیز منگوائی تو ڈلوری چارجز کس پر ہوں گے ؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک شخص نے آن لائن کوئی چیز دیکھی اور بائع سے فون پر رابطہ کرکے اسے خرید لیا، خریدنے کے بعد اس شخص(یعنی مشتری)کے گھر اس چیز کو پہنچانے کے اخراجات کس پر لازم ہوں گے، بائع پر یا مشتری پر؟ اس حوالے سے رہنمائی فرمادیں۔
جواب
شریعت اسلامیہ کی روسے خرید و فروخت ہو جانے کے بعد بائع (چیز بیچنے والے) کی ذمہ داریوں میں سے یہ ہےکہ وہ مبیع(بیچی گئی چیز) کو مشتری (خریدار) کے سپرد کرے اور مشتری اس مبیع کا ثمن بائع کے سپرد کردے، جہاں تک آن لائن خریدو فروخت کا تعلق ہے، تو چونکہ یہاں مبیع مشتری کے سپرد کرنے میں اخراجات لازم آتے ہیں اور ان اخراجات کے ادائیگی کس پر لازم ہوگی ؟ اس حوالے سے تفصیل درج ذیل ہے:
(1)اگر بائع اور مشتری کے درمیان معاہدہ میں متعین ہو کہ ہوم ڈیلیوری چارجز بائع یا مشتری میں سے کوئی ایک ادا کرے گا، تو پھر معاہدہ کی پاسداری کرتے ہوئے اس شخص پر ادائیگی لازم ہوگی، جیسے بائع کی طرف سے صراحت ہو کہ ہوم ڈیلیوری فری ہے یا اخراجات میرے ذمہ ہیں، تو پھر ڈیلیوری چارجز بائع پر لازم ہوں گے۔ اسی طرح معاہدہ میں بائع نے اگر بالصراحت کہہ دیا ہوکہ ڈیلیوری چارجز الگ سے لاگو ہوں گے، جو کہ مشتری ادا کرے گا، تو اس صورت میں ان کی ادائیگی مشتری پر لازم ہوگی۔
(2)اگر ہوم ڈیلیوری چارجز متعین نہ ہوں، تو پھر عرف و عادت پر محمول کیا جائے گا کہ عرف میں یہ اخراجات اگر بائع ادا کرتا ہے، تو بائع پر لازم ہوں گے اور اگر مشتری ادا کرتا ہے، تو مشتری پر لازم ہوں گے، کیونکہ جو چیز عرفاً مشروط ہو وہ شرعاً مشروط کے حکم میں ہوتی ہے۔
(3)اگر ڈیلیوری چارجز کی ادائیگی کے حوالے سے عرف بھی نہ ہو، تو پھر ان کی ادائیگی بائع پر لازم ہوگی کہ مبیع کو سپرد کرنا بائع پر لازم ہوتا ہے اور سپرد کرنے میں جو اخراجات آئیں گے، وہ بھی بائع ہی ادا کرے گا۔
بیع ہو جانے کے بعد مشتری پر ثمن اور بائع پر مبیع سپرد کرنا لازم ہوتا ہے۔ جیسا کہ الفقہ الاسلامی وادلہ میں ہے:
”يجب على المشتري تسليم الثمن، وعلى البائع تسليم المبيع“
ترجمہ: (بیع ہو جانے کے بعد) مشتری پر ثمن سپرد کرنا لازم ہے اور بائع پر مبیع سپرد کرنا لازم ہے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتۃ، جلد 5، صفحہ 3384، مطبوعہ دار الفكر، دمشق)
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”بائع پر واجب ہے کہ مبیع کو مشتری کے حوالہ کرے اور مشتری پر واجب کہ بائع کو ثمن دے دے۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ11، صفحہ 617، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
اگر معاہدہ میں بائع یا مشتری میں سے کسی ایک پر ہوم ڈیلیوری چارجز متعین کردیے گئے ہوں، تو اسی پر ادائیگی لازم ہوگی۔ جیسا کہ درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
”إذا بيع مال على أن يسلم في محل كذا لزم تسليمه في المحل المذكور مثال ذلك أن يبيع شخص حنطة من مزرعة له على أن يسلمها إلى المشتري في داره فيجب عليه تسليمها إلى المشتري في داره وكذلك إذا شرط تسليم المبيع الذي يحتاج إلى مئونة في نقله إلى محل معين فيجب تسليمه هناك“
ترجمہ: جب مال اس شرط پر بیچا جائے کہ اسے فلاں جگہ پر سپرد کیا جائے گا، تو اسی متعین جگہ پر اس کا سپرد کرنا لازم ہوگا۔ اس کی مثال یہ ہے کہ کوئی شخص اپنی کھیتی کی گندم اس شرط پر فروخت کرے کہ وہ خریدار کے گھر پہنچا کر دے گا، تو اس پر لازم ہے کہ وہ گندم خریدار کے گھر ہی پہنچا کر دے۔ اسی طرح اگر ایسی مبیع کو سپرد کرنے کی شرط لگائی جائے جس کی نقل و حمل میں خرچ آتا ہو اور کسی خاص جگہ پر سپرد کرنے کی شرط ہو، تو اسے وہیں سپرد کرنا لازم ہوگا۔ (درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام، جلد 1، صفحہ 270، مطبوعہ دار الجيل)
الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:
”وإذا بيع مال على أن يسلم في مكان كذا لزم تسليمه في المكان المذكور“
ترجمہ: اور جب مال اس طور پر بیچا گیا کہ اسے فلاں جگہ سپرد کیا جائے گا، تو اسی جگہ مال کو سپرد کرنا لازم ہے۔ (الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ، جلد 38، صفحہ 370، مطبوعہ دارالسلاسل، الكويت)
اگر معاہدہ کے وقت کوئی صراحت نہ ہو، تو پھر عرف و عادت پر محمول کیا جائے گا کہ معروف مشروط کی طرح ہوتا ہے۔چنانچہ مجلۃ الاحکام میں ہے:
”مایباع محمولا علی الحیوان کالحطب والفحم تکون اجرۃ نقلہ وایصالہ الی بیت المشتری جاریۃ علی حسب عرف البلدۃ وعادتھا“
یعنی جو چیزیں جانوروں پر لاد کر بیچی جاتی ہیں جیسے لکڑیاں، کوئلہ، تو اس کو منتقل کرنے اور مشتری کے گھر تک پہنچانے کی اجرت شہر کے عرف و عادت کے مطابق جاری ہوگی۔ (مجلۃ الاحکام، الفصل الرابع فی مؤنۃ التسلیم ولوازم اتمامہ، صفحہ 58، مطبوعہ آرام باغ کراچی)
الموسوعہ الفقہیہ الکویتیہ میں ہے:
”والمعروف بين التجار كالمشروط بينهم، قال السرخسي: والمعلوم بالعرف كالمشروط، وفيه أيضا: الثابت بالعرف كالثابت بالنص“
ترجمہ: تاجروں کے درمیان جو بات معروف ہو، وہ ان کے درمیان مشروط کی طرح ہوتی ہے۔ امام سرخسی فرماتے ہیں کہ عرف کے ذریعے معلوم ہونے والی چیز مشروط کی طرح ہوتی ہے۔ اور اسی میں یہ بھی ہے کہ جو چیز عرف کے ذریعے ثابت ہو، وہ نص کے ذریعے ثابت ہونے کی مانند ہوتی ہے۔ (الموسوعۃ الفقہیہ الکویتیہ، جلد 30، صفحہ 56، مطبوعہ دارالسلاسل، الكويت)
اگر ہوم ڈیلیوری چارجز کی ادائیگی کے متعلق عرف بھی نہ ہو، تو پھر بائع پر لازم ہوں گے۔ جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے:
”والتسليم على البائع فكانت مؤنة التسليم عليه“
ترجمہ: مبیع سپرد کرنا بائع پر لازم ہوتا ہے، پس سپرد کرنے کے اخراجات بائع پر لازم ہوں گے۔ (بدائع الصنائع، جلد 5، صفحہ 243، مطبوعہ دار الكتب العلمية، بیروت)
درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام میں ہے:
”المصارف المتعلقة بتسلم المبيع تلزم البائع وحدہ۔۔۔ولما كان تسليم المبيع لازما له فيلزمه ما يتم به نفقة ما يكون به تسليم المبيع لازمة له“
ترجمہ: مبیع کو سپرد کرنے کے متعلق اخراجات صرف بائع پر لازم ہوں گے۔ جب مبیع کو حوالے کرنا بائع پر لازم ہے، تو جو اخراجات مبیع کی حوالگی کو مکمل کرنے کے لیے ضروری ہوں، ان کی ذمہ داری بھی بائع ہی پر ہوگی۔ (درر الحکام شرح مجلۃ الاحکام، جلد 1، صفحہ 271، مطبوعہ دار الجيل)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0187
تاریخ اجراء: 29 رجب المرجب1447 ھ/19 جنوری 2026 ء