logo logo
AI Search

چیز بیچنے کے بعد مقررہ قیمت میں کمی کرنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چیز کا وزن کرنے کے بعد مقررہ قیمت میں کمی کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم جب اپنا دھان بیچنے جاتے ہیں تو وہ توڑوں ( بوروں ) میں ہوتا ہے اور دھان کا وزن توڑے ( بورے ) سمیت کیا جاتا ہے، باہمی رضا مندی سے ہمارے اور خریدار کے درمیان ہر بڑے توڑے (جس توڑے میں 50 کلو سے زیادہ دھان ہو) کے اپنے وزن کے بدلےایک کلودھان کی قیمت کم کرنا طے ہوتا ہے، حالانکہ توڑے کا اپنا وزن ایک کلو (بلکہ آدھا کلو)سے کم ہوتا ہے، کیا ہمارا اس طرح ریٹ لگا کر خریدنا اور بیچنا جائز ہے یا نہیں ؟

نوٹ: ساہیوال، چیچہ وطنی، سمندری، ٹوبہ ٹیک سنگھ اور شورکوٹ کی غلہ منڈیوں سے بالواسطہ معلومات لیں تو وہاں بھی یہی طریقہ کار رائج ہےکہ چھوٹےتوڑے(جس توڑے میں 50 کلو یا اس سے کم دھان ہو)کے اپنےوزن کے بدلے آدھا کلودھان کی قیمت اور بڑےتوڑے(جس میں 50 کلو سے زیادہ دھان ہو)کے اپنے وزن کے بدلے ایک کلودھان کی قیمت کم کی جاتی ہے، سائل نے بھی یہی معلومات دی ہیں، نیزتوڑے بیچنے والے کے ہوتے ہیں اور وہ بعد میں اپنے توڑے واپس لے جاتا ہے، اس لئے توڑے کے وزن کے بدلے آدھا کلو یا ایک کلو دھان کی قیمت کم کی جاتی ہے۔

جواب

شریعت کی رو سے سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کے مطابق آپ کا خرید وفروخت کرنا، جائز ہے، اس میں شرعاًکوئی حرج نہیں۔

تفصیل یہ ہے کہ شریعتِ مطہرہ میں"بیع(خریدوفروخت)"مال کامال کےساتھ باہمی رضا مندی سے تبادلہ کرنےکا نام ہے، نیز عقدِ بیع میں جب مبیع(بیچی جانے والی چیز)اورثمن(بائع و مشتری کےدرمیان طے ہونے والی رقم) معین ہو اور بائع (چیزبیچنے والا)مشتری (خریدار)کےلئےبیچی گئی چیز کے ثمن میں کچھ کمی کردے یا پورا ثمن ہی معاف کردے تویہ جائز ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں کہ ہرشخص کواپنی چیزکم یازیادہ ریٹ میں فروخت کرنے کا مکمل اختیار ہوتاہے، نیزاگرچہ آدھا کلوسے کم وزن کےتوڑے کے عوض آدھا کلو یا ایک کلو دھان کی قیمت کم کرنا مشروط ہے اور اس میں مشتری کا نفع بھی ہے اور یہ شرط تقاضہ عقد کے خلاف بھی ہےکہ عقد کاتقاضا یہ تھا کہ توڑے کے وزن کے برابردھان کی قیمت کم کی جاتی، لیکن آدھا کلو یاایک کلو دھان کی قیمت کم کرنے پر عرف جاری ہےاورشرعی اُصول یہ ہے کہ عقدِ بیع میں ایسی شرط لگانا جس کا عقدتقاضہ نہ کرےاوروہ شرط بائع و مشتری میں سےکسی ایک کے لئے فائدہ مند ہوتو اگر ایسی شرط معروف و مروج ہو تو عقد میں ایسی شرط لگانا، جائز ہوتا ہےکہ اس سے عقد فاسد نہیں ہوتا، پوچھی گئی صورت میں چونکہ دھان کے مالک اور خریدار کے درمیان باہمی رضا مندی سے ہربڑے توڑے میں سےتوڑے کے اپنے وزن کے بدلے ایک کلو دھان کا ثمن کم کرنا طے ہوگیا تو اس کمی پر بائع و مشتری دونوں کی رضا مندی پائی گئی اور متعاقدین کےہاں ثمن میں اس  مشروط کمی پر عرف بھی جاری ہے، نیزمبیع بھی معلوم ہے اور ثمن بھی معلوم ہے، لہٰذا مذکورہ طریقہ کار کے مطابق خرید و فروخت کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔

بیع کی تعریف بیان کرتے ہوئے ابوالبركات علامہ عبداللہ نَسَفِی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 710ھ)  لکھتے ہیں: ”ھو مبادلۃ المال بالمال بالتراضی “ترجمہ: بیع : مال کا مال کے ساتھ باہمی رضامندی سے تبادلہ کرناہے۔ (کنزالدقائق، کتاب البیوع، صفحہ 406، دارالسراج بیروت)

بیچنےوالےکاثمن میں رعایت کرنا، جائز ہے، چنانچہ علامہ مَرْغِینانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ/1196ء) لکھتے ہیں:

”ويجوز للبائع ان يزيد للمشتری فی المبيع، ويجوز ان يحط عن الثمن“

ترجمہ: بائع کا مشتری کیلئے مبیع میں اضافہ کرنااور ثمن میں کمی کرنا، جائز ہے۔ (الھدایہ، کتاب البیوع، جلد3، صفحہ 59، مطبوعہ دار احیاء التراث العربی )

  اعلیٰ حضرت، امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ/1921ء) ایک سوال (اگر ایک جائیداد بیع کی جائے اور اسی مجلس خواہ دوسری مجلس میں بائع، ثمن مشتری کو معاف کردے تو جائز ہے یانہیں؟)کے جواب میں ارشاد فرماتے ہیں: ” بیشک جائز ہے کہ بائع کوئی چیز بیچے اور اس مجلس خواہ دوسری میں کل ثمن یا بعض مشتری کو معاف کردے اور اس معافی کے سبب وہ عقد، عقد بیع ہی رہے گا اور اسی کے احکام اس پر جاری ہوں گے۔“ ( فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ246، رضا فاؤنڈیشن لاھور)

بیع میں مبیع و ثمن کا معلوم ہونا شرط ہے، چنانچہ تنویر الابصار مع درمختار میں ہے:

”(وشرط لصحتہ معرفۃ قدر ) مبیع وثمن“

ترجمہ: خرید و فروخت کےصحیح ہونے کے لئے ثمن اور مبیع کی مقدار معلوم ہونا شرط ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، صفحہ 396، دار الفکر بیروت)

فتاویٰ امجدیہ میں ہے: ” ہر شخص کو اختیار ہے کہ اپنی چیز کو کم یا زیادہ، جس قیمت پر مناسب جانے، بیع کرے۔ تھوڑا نفع لے یا زیادہ، شرع سے اس کی ممانعت نہیں ۔“ ( فتاویٰ امجدیہ، جلد 3، صفحہ 181، مکتبہ رضویہ، کراچی)

عقد بیع میں شرط لگانے کے متعلق تنویرالابصار مع درمختارمیں ہے:

”الاصل الجامع فی فسادالعقد بسبب شرط(لایقتضیہ العقد ولایلائمہ وفیہ نفع لاحدھما او لمبیع من اھل الاستحقاق ولم یجر العرف بہ ولم یردالشرع بجوازہ)امالوجری العرف بہ کبیع نعل مع شرط تشریکہ او وردالشرع بہ کخیار شرط فلا فساد“

 ترجمہ: کسی شرط کے سبب عقد کے فاسد ہونےکا جامع اُصول یہ ہے کہ وہ ایسی شرط ہو کہ جس کا عقد تضاضہ نہ کرےاورنہ ہی وہ عقد کے مناسب ہو اور اس میں بائع و مشتری میں سے کسی ایک کا نفع ہو، یا مبیع کانفع ہو جبکہ مبیع اہل استحقاق میں سے ہو اور اس شرط پر عرف جاری نہ ہو اور نہ ہی شریعت نے اس کا جائز ہونابیان کیا ہو، لیکن! اگر عرف میں یہ شرط مروج ہو جیسے پیشگی آرڈر پر جو تا سلوانا ، یا اس شرط کے جائز ہونے پر شریعت وارد ہو، جیسا کہ خیارِ شرط، تو  عقد فاسد نہ ہوگا۔ (تنویر الابصار مع در مختار، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، صفحہ 417، دار الفکر بیروت)

  صدرالشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/1947ء) لکھتے ہیں: ” بیع میں ایسی شرط ذکر کرنا کہ خود عقد اُس کا مقتضی ہے، مضر نہیں اور اگر وہ شرط مقتضائے عقد نہیں، مگر عقد کے مناسب ہو، اس شرط میں بھی حرج نہیں۔۔۔۔ اور اگر وہ شرط نہ اس قسم کی ہو (عقد اس کا مقتضی نہ ہو)نہ اُس قسم کی (عقد کے مناسب نہ ہواورتقاضہ عقد کے خلاف ہو)مگر شرع نے اُس کوجائز رکھا ہے، جیسے خیار شرط یا وہ شرط ایسی ہے، جس پر مسلمانوں کا عام طور پرعمل درآمد ہے، جیسے آج کل گھڑیوں میں گارنٹی سا ل دوسال کی ہوا کرتی ہے کہ اس مدت میں خراب ہوگی تو درستی کا ذمہ دار بائع ہے، ایسی شرط بھی جائز ہے۔“ (بھارِ شریعت، جلد02، حصہ 11، صفحہ 701، مکتبۃ المدینہ )

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: OKR-0120
تاریخ اجراء:24 ربیع الثانی 1447 ھ / 18 اکتوبر 2025 ء