موجودہ دور میں رائج فاریکس ٹریڈنگ (Forex-trading) شرعاً ممنوع و ناجائز ہے؛ کیونکہ اس میں کئی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں۔
تفصیل اس کی کچھ یوں ہے:
فاریکس (Forex) دراصل "Foreign Exchange" کا مخفف ہے، اس سے مراد زر مبادلہ کا تبادلہ ہے۔ فاریکس مارکیٹ کو ایک بڑی آن لائن مالیاتی منڈی تصور کر سکتے ہیں، جہاں مختلف ممالک کی کرنسیاں باہم خریدی اور بیچی جاتی ہیں۔ یہ ٹریڈنگ کرنسی کے جوڑوں (Currency Pairs) میں ہوتی ہے جیسے EUR/USD، GBP/JPY وغیرہ، نیز قیمت کے اتار چڑھاؤ سے نفع یا نقصان حاصل ہوتا ہے۔ فاریکس مارکیٹ کا بنیادی مرکز کرنسیوں کا آن لائن لین دین ہے، تاہم فاریکس بروکرز عموماً اسی پلیٹ فارم پر دیگر مالیاتی اثاثوں مثلاً سونا، چاندی اور آئل وغیرہ کی ٹریڈنگ کی سہولت بھی فراہم کرتے ہیں۔ نیز اصولی طور پر اس میں کئی طریقے رائج ہیں، جن میں سپاٹ ٹریڈنگ (Spot Trading)، فاروَرڈ ٹریڈنگ (Forward Trading) اور سواپ ٹریڈنگ (Swap Trading) وغیرہ شامل ہیں، البتہ متعدد طریقے زیادہ تر اوپری سطح پر استعمال ہوتے ہیں، جبکہ عام ریٹیل فاریکس ٹریڈر عملاً سی ایف ڈی (Contract for Difference) اور مارجن ٹریڈنگ (Margin Trading) ہی کرتا ہے۔
قوانین شریعت کی رو سے خواہ فاریکس ٹریڈنگ میں کرنسی کا معاملہ ہو یا دیگر مالیاتی اثاثوں کا، یہ کئی شرعی قباحتوں کا مجموعہ ہونے کی وجہ سے ممنوع و ناجائز اور غیر شرعی کام ہے؛
اولاً یہ کہ تقریباً عام صارفین سی ایف ڈی (Contract for Difference) کے تحت کام کرتے ہیں، جس میں ٹریڈر کسی اصلی اثاثے (مثلاً کرنسی، سونے وغیرہ) کو نہ خریدتا ہے نہ بیچتا ہے، بلکہ صرف اس کی قیمت میں کمی یا زیادتی پر اندازہ لگا کر ٹریڈ کھولتا ہے اور اگر مارکیٹ اس کے اندازے کے مطابق جائے اور قیمت بڑھے تو منافع، ورنہ نقصان اٹھاتا ہے، یہ در حقیقت امید موہوم پر پانسا ڈالنے کے مترادف ہے جو کہ سراسر جوا اور سٹہ بازی ہے، اور یہ قطعاً حرام و ناجائز ہے۔
ثانیاً فاریکس میں عام ٹریڈر کا مقصود حقیقی خرید و فروخت نہیں ہوتا، نہ ہی دوسری کرنسی یا اثاثہ بذات خود مطلوب ہوتا ہے اور نہ ہی طلب پر متعلقہ اثاثہ اپنی اصل صورت میں اسے مل پاتا ہے، بلکہ در حقیقت یہ مختلف ناموں پر محض حسابی اندراجات (Ledger Entries) اور اعداد (Digits) کا لین دین ہو رہا ہوتا ہے اور اعداد و شمار فی نفسہ کوئی مال نہیں جو شرعاً قابل خرید و فروخت ہوں، لہذا یہ معاملہ باطل ہے۔ اسی لیے ان اعداد کے پیچھے حقیقی کرنسی یا اثاثہ اتنی بڑی مقدار میں موجود ہونا بداہۃً ناقابل یقین ہے۔
ثالثاً اگر بالفرض کہیں کچھ مال ہو اور اسے خرید و فروخت مانیں تو بھی یہ بیع کے شرعی اصولوں کے خلاف ہی ہے، کیونکہ منقولہ (Movable) اشیا کو خریدنے کے بعد قبضہ کیے بغیر آگے بیچنا ناجائز ہے؛ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے اور کرنسی میں تو نقد خرید و فروخت بھی ضروری ہے، ادھار جائز نہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
﴿یَسْــٴَـلُوْنَكَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِؕ-قُلْ فِیْهِمَاۤ اِثْمٌ كَبِیْرٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ٘-وَ اِثْمُهُمَاۤ اَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَاؕ-وَ یَسْــٴَـلُوْنَكَ مَا ذَا یُنْفِقُوْنَ۬ؕ-قُلِ الْعَفْوَؕ-كَذٰلِكَ یُبَیِّنُ اللّٰهُ لَكُمُ الْاٰیٰتِ لَعَلَّكُمْ تَتَفَكَّرُوْنَ﴾
ترجمہ کنز العرفان: تم سے شراب اور جوئے کا حکم پوچھتے ہیں، تم فرما دو کہ ان دونوں میں بڑا گناہ ہے اور لوگوں کے کچھ دنیوی نفع بھی اور ان کا گناہ ان کے نفع سے بڑا ہے۔ (پارہ 2، سورۃ البقرۃ 2، آیت 219)
امام ابوبکر احمد بن علی قاضی جصاص حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 370ھ/ 980ء) لکھتے ہیں:
”وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل في بطلان عقود التمليكات الواقعة على الأخطار كالهبات والصدقات وعقود البياعات ونحوها إذا علقت على الأخطار“
ترجمہ: اور جوئے کی حقیقت خطرے پر مال کی ملکیت سونپنا ہے اور یہ ان تمام تملیکی عقود کے باطل ہونے کے بارے میں اصل ہے جو خطرات پر واقع ہوتے ہیں، جیسے ہبہ جات، صدقات اور خرید و فروخت کے عقود اور ان جیسے دیگر معاہدے، جب انہیں خطرات پر معلق کیا جائے۔ (أحكام القرآن للجصاص، جلد 2، صفحہ 582، دار الكتب العلمية، بيروت)
علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالی علیہ (سال وفات: 1014ھ/1606ء) لکھتے ہیں:
”ان القمار كون الرجل مترددا بين الغنم والغرم“
ترجمہ: جوا یہ ہے کہ آدمی نفع اور نقصان کے مابین تردد (خوف و تذبذب) میں ہو۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الجهاد، باب إعداد آلة الجهاد، جلد 6، صفحہ 2505، دار الفكر، بيروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ” اور خاصہ قمار ہے کہ بائع مشتری کے لیے ایک آئندہ نامعلوم صورت میں کہ خدا جانے کس طرح واقع ہوگی، ہار جیت بدی گئی (طے کی گئی) ہے اور قمار بنص قطعی قرآن حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 161، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ سے ایک اسکیم کے متعلق سوال ہوا جس میں ایک (فی نفسہ بے قیمت ٹکٹ کی) خریداری اور اس پر ملنے والے نفع (زائد قیمت کی گھڑی) اور اس نفع کو پانے کی شرط و صورت کا معاملہ تھا، اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: ”معاملۂ مذکورہ محض حرام و قمار (ہے)۔ ...حقیقت دیکھیے تو معاملہ مذکورہ بنظر مقاصد ٹکٹ فروش و ٹکٹ خراں ہر گز بیع و شرا وغیرہ کوئی عقد شرعی نہیں، بلکہ صرف طمع کے جال میں لوگوں کو پھانسنا اور ایک امید موہوم پر پانسا ڈالنا ہے اور یہی قمار ہے۔ ...حقیقت امر تو یہ تھی اور صورت الفاظ پر نظر کیجئے تو ٹکٹ کی خرید و فروخت ہے، اول تو اس کے مال ہونے میں کلام ہے کہ وہ جس کی طرف طبائع میل کریں اور وقت حاجت کے لیے ذخیرہ رکھا جائے، یہ ٹکٹ دونوں وصف سے خالی ہے۔ ...اس تقدیر پر تو یہ بیع سرے سے محض باطل ہوگی؛
لانہ مبادلۃ مال بمال کما فی الکنز والملتقی وغیرہما
(یعنی اس لیے کہ بیع تو مال کے بدلے مال کا تبادلہ کرنا ہے، جیسا کہ کنز اور ملتقی وغیرہ میں ہے) اور بالفرض مال ہو تو متعدد شرائط فاسدہ پر مشتمل ہے تو عقد بوجوہ فاسد ہوا اور ہر فساد جداگانہ حرام ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 329-333 ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) اسی قسم کے ایک سوال کے جواب میں لکھتے ہیں: ”یہ جوا اور حرام ہے؛ کہ ایک روپیہ دے کر اس رقم کثیر کے ملنے کی خواہش ہوتی ہے اور اس کے ملنے نہ ملنے دونوں کا احتمال ہوتا ہے، اگر فارم فروخت ہو گئے تور قم ملے گی ورنہ روپیہ گیا، اس میں شرکت حرام ہے۔ “ (فتاوی امجدیہ، جلد 4، صفحہ 234، مکتبہ رضویہ کراچی)
علامہ علاؤ الدین محمد بن علی حصکفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1088ھ/1677ء) لکھتے ہیں:”بطل بيع ما ليس بمال“ ترجمہ: جو چیز مال نہیں اس کی خرید و فروخت باطل ہے۔ (الدر المختار شرح تنویر الابصار، کتاب البیوع، باب البيع الفاسد، صفحہ 413، دار الکتب العلمیة، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) در مختار کے حوالے سے لکھتے ہیں:
”بطل بیع ما لیس فی ملکه لبطلان بیع المعدوم وما له خطرا لعدم الا بطریق السلم لانه صلی الله تعالی علیه وسلم نھی عن بیع ما لیس عند الانسان و رخص فی السلم“
ترجمہ: معدوم شے کی بیع کے بطلان کے سبب اس چیز کی بیع باطل ہے جو بائع کی ملکیت میں نہ ہو اور اس چیز کی جس کے معدوم ہونے کا خطرہ ہو، سوائے بطریقۂ عقد سلم؛ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کی بیع سے منع فرمایا ہے جو آدمی کے پاس نہ ہو اور سلم میں رخصت دی ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 484، رضا فاؤنڈیشن، لاھور)
صحیح بخاری، صحیح مسلم، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن نسائی، مسند احمد اور مصنف عبد الرزاق وغیرہ کتب حدیث میں ہے:
واللفظ للمسلم ”عن ابن عباس قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يقبضه" قال ابن عباس: وأحسب كل شيء بمنزلة الطعام“
ترجمہ: حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما سے روایت ہے، فرماتے ہیں: رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص طعام خریدے تو اسے نہ بیچے یہاں تک کہ اس پر قبضہ حاصل کر لے۔" حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہما فرماتے ہیں: اور میں ہر (فروخت کی جانے والی) چیز کو بمنزلۂ طعام ہی سمجھتا ہوں۔ (صحيح مسلم، كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، جلد 5، صفحہ 7، حدیث 1525، دار الطباعة العامرة، تركيا)
ملک العلماء علامہ ابوبکر بن مسعود كاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 587ھ/1191ء) لکھتے ہیں:
”ومنها القبض في بيع المشتري المنقول فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي صلى الله عليه وسلم نهى عن بيع ما لم يقبض، والنهي يوجب فساد المنهي“
ترجمہ: بیع کے صحیح ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط منقولی شے (یعنی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو سکنے والی چیز) کی خریداری میں قبضے کا ہونا ہے، پس (خریدار کا) قبضے سے پہلے منقولی شے کو آگے بیچنا درست نہیں؛ کیونکہ مروی ہے کہ "نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس چیز کو بیچنے سے منع فرمایا جو قبضے میں نہ لی گئی ہو" اور ممانعت اس منع شدہ معاملے کے فساد کی موجب ہوتی ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع، جلد 5، صفحہ 180، دار الكتب العلمية، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) لکھتے ہیں: ”اگر پیش از قبضہ بائع کے ہاتھ بیع کر دے گا تو بیع فاسد و ناجائز ہوگی، غیر کے ہاتھ بیچنے میں تو صرف اشیائے منقولہ پر قبضہ شرط ہے، مثلاً عمرو نے زید سے کوئی منقول چیز مول لی اور ہنوز اپنے قبضہ میں نہ آئی کہ بکر کے ہاتھ بیچ ڈالی، یہ بیع فاسد ہوئی، اور جائداد غیر منقولہ لے کر پیش از قبضہ غیر بائع کے ہاتھ بیع کر دی تو جائز ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 594، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
فاریکس ٹریڈنگ کے حوالے سے معروف تفصیلی کتاب "Naked Forex" میں ہے:
Forex is simply an abbreviation for foreign exchange. All foreign exchange transactions involve two currencies. If an individual trader, a bank, a government, a corporation, or a tourist … decides to exchange one currency for another, a forex trade takes place. In every instance, one currency is being bought and, simultaneously, another currency is being sold. Currencies must be compared to something else in order to establish value; this is why forex trading involves two currencies.
ترجمہ: فاریکس (Forex) دراصل Foreign Exchange کا مخفف ہے۔ تمام غیر ملکی زرِ مبادلہ کے لین دین میں دو کرنسیاں شامل ہوتی ہیں۔ اگر کوئی انفرادی تاجر، بینک، حکومت، ادارہ یا سیاح ایک کرنسی کو دوسری کرنسی سے تبدیل کرنے کا فیصلہ کرتا ہے تو فاریکس ٹریڈ منعقد ہوتی ہے۔ ہر صورت میں ایک کرنسی خریدی جاتی ہے اور بیک وقت دوسری کرنسی فروخت کی جاتی ہے۔ کرنسیوں کی قدر متعین کرنے کے لیے ان کا کسی اور چیز سے موازنہ ضروری ہوتا ہے؛ اسی وجہ سے فاریکس ٹریڈنگ میں دو کرنسیاں شامل ہوتی ہیں۔(Naked Forex, pp. 3–4, Published by John Wiley & Sons, Inc., USA)
انویسٹوپیڈیا (Investopedia) پر شائع ماہرین کے آرٹیکل میں ہے:
The forex market is a global, over-the-counter market where currencies can be traded, bought and sold. There are three key types of forex markets: spot, forward, and futures. The spot market is the exchange of currency between buyers and sellers at the current exchange rate. This makes up much of daily currency trading. The major participants in the spot market include commercial, investment, and central banks as well as dealers, brokers, and speculators. … Speculation: Taking on risk in anticipation of future price moves. Speculators try to predict market trends and profit from short-term fluctuations in exchange rates.
ترجمہ: فاریکس مارکیٹ ایک عالمی، او ٹی سی (غیر رسمی) مارکیٹ ہے جہاں کرنسیوں کا لین دین، خرید و فروخت کی جاتی ہے۔ فاریکس مارکیٹ کی تین بنیادی اقسام ہیں: سپاٹ، فارورڈ اور فیوچرز۔ سپاٹ مارکیٹ خریداروں اور فروخت کنندگان کے درمیان موجودہ شرحِ تبادلہ پر کرنسی کے تبادلے (کا نام) ہے۔ روزانہ ہونے والی کرنسی ٹریڈنگ کا بڑا حصہ یہی مارکیٹ بناتی ہے۔ سپاٹ مارکیٹ کے بڑے شرکاء میں کمرشل بینک، سرمایہ کاری کے بینک اور مرکزی بینک، نیز ڈیلرز، بروکرز اور اندازہ لگانے والے (سٹے باز) شامل ہیں۔ مستقبل میں قیمت کے اتار چڑھاؤ کی توقع میں خطرہ مول لینا سٹہ بازی ہے۔ سٹے باز مارکیٹ کے رجحانات کی پیش گوئی کرنے اور شرحِ تبادلہ میں قلیل مدتی اتار چڑھاؤ سے منافع کمانے کی کوشش کرتے ہیں۔
(Forex Market: Definition, How It Works, Types, and Trading Risks, By James Chen)
یوں ہی سی ایف ڈی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا گیا:
Contract for Difference (CFD): A derivative that lets traders speculate on price movements without owning the underlying asset. Trading EUR/USD CFDs means betting on price changes, not owning euros or dollars.
ترجمہ: کنٹریکٹ فار ڈیفرنس ایک ماخوذ معاہدہ ہے جو ٹریڈرز کو بنیادی اثاثے کی ملکیت حاصل کیے بغیر قیمتوں کے اتار چڑھاؤ پر سٹہ لگانے کا موقع دیتا ہے۔ EUR/USD کی سی ایف ڈی ٹریڈنگ کا مطلب قیمت میں تبدیلی پر شرط لگانا ہے، نہ کہ یورو یا ڈالر کی اصل ملکیت حاصل کرنا۔
(How To Start Forex Trading: A Guide To Making Money with Forex, By James Chen)
فاریکس بیسکس (Forex Basics) میں ہے:
When you carry out a forex transaction, you don’t actually buy all the currency and deposit it into your trading account. Practically speaking, what you do is speculate on the exchange rate. In other words, you estimate how the exchange rate will move, and you make a contract-based agreement with your broker that he will pay you, or you will pay him, depending on whether your estimation has proved to be correct or wrong (i.e., whether the exchange rate has moved in your favor or against your initial speculation).
ترجمہ: جب آپ فاریکس کا کوئی لین دین سر انجام دیتے ہیں تو در حقیقت آپ پوری کرنسی خرید کر اسے اپنے ٹریڈنگ اکاؤنٹ میں جمع نہیں کرتے۔ عملی طور پر جو آپ کرتے ہیں وہ شرحِ تبادلہ پر سٹہ لگانا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، آپ اندازہ لگاتے ہیں کہ شرحِ تبادلہ کیسے حرکت کرے گی، اور اپنے بروکر کے ساتھ معاہدے کی بنیاد پر ایک سمجھوتہ کرتے ہیں کہ وہ آپ کو ادائیگی کرے گا یا آپ اسے ادائیگی کریں گے، اس پر انحصار کرتے ہوئے کہ آپ کا اندازہ درست ثابت ہوا یا غلط، یعنی آیا شرحِ تبادلہ آپ کے حق میں گئی ہے یا آپ کی ابتدائی قیاس آرائی کے خلاف۔ (Forex Basics for New Traders, pp. 21, by FxKampala)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمدقاسم عطاری
فتوی نمبر:FAM-1037
تاریخ اجراء: 9 رجب المرجب 1447ھ/30 دسمبر 2025ء