logo logo
AI Search

چاول اسٹاک کرنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

چاول کی فصل کی کٹائی پر چاول سٹاک کرنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میں کاروبار کرتا ہوں، سٹاکیہ ہوں، جیسے ابھی چاول کا سیزن آیا تھا، یعنی چاول کی فصل کی کٹائی ہوئی تھی، تو میں نے اپنے شہر سے چاول لے کر سٹاک کر لیا، کہ جب مہنگا ہو جائے گا، تب اس کو بیچ دوں گا، اس کا شرعی حکم کیا ہے؟ بالکل واضح کر دیں۔

جواب

چاولوں کی فصل کی کٹائی کے موقع پر اپنے شہر سے چاول خرید کر اسٹاک کر لینا، اور بعد میں بیچ کر نفع کمانا، جائز ہے، جبکہ شہر والوں کے لیے تنگی کا باعث نہ ہو، اور نہ یہ آرزو اور خواہش ہو کہ چاولوں کا قحط پڑے اور مجھے بہت نفع ملے۔ نیز اس کے ساتھ ساتھ حکومت کی طرف سے اسے سٹاک کرنے کی ممانعت بھی نہ ہو۔ فتاوی رضویہ میں ہے "قدرتی طور پر ہے کہ غلہ فصل پرارزاں اور بیج پر گراں ہوتا ہے، اس سے فائدہ اٹھانا منع نہیں، غلہ بند رکھنا وہ منع ہے، جس سے شہر پر تنگی ہو جائے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 356، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید فتاوی رضویہ میں ہے "بریلی میں پانسو بلکہ پانچ ہزار کے گیہوں فصل پر خریدنے اور بیج پر بیچنے میں کوئی مواخذہ نہیں کہ ان دونوں زمانوں میں نرخ کا اختلاف معمولی طور پر ہمیشہ ہوتا ہے، ہاں اگر گرانی پڑنے کی خواہش کرے تو خلق اللہ کا بد خواہ اور ماخوذ گناہ ہے۔" (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ  190، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

قانونی جرم کے حوالے سے فتاوی رضویہ میں ہے "کسی ایسے امر کا ارتکاب جو قانوناً ناجائز ہو، اور جرم کی حد تک پہنچے، شرعاً بھی ناجائز ہو گا، کہ ایسی بات کے لئے جرمِ قانونی کا مرتکب ہو کر اپنے آپ کو سزا اور ذلت کے لئے پیش کرنا شرعاً بھی روا نہیں۔" (فتاوی رضویہ، جلد 20، صفحہ 192، رضا فاؤنڈیشن، لاہور )

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4711
تاریخ اجراء: 17 شعبان المعظم1447ھ/06 فروری 2026ء