logo logo
AI Search

فارمی انڈوں کو دیسی انڈے کہہ کر بیچنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فارمی انڈوں کو دیسی انڈے کہہ کر بیچنا کیسا؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

اگر کوئی شخص انڈوں کا کاروبار کرتا ہو، اور اس کے پاس فارمی انڈے بھی ہوں، اور دیسی انڈے بھی، لیکن وہ فارمی انڈوں کو دیسی انڈے کہہ کر فروخت کرے، تو کیا یہ گناہ ہے؟

جواب

فارمی انڈوں کو دیسی انڈے کہہ کر فروخت کرنا جھوٹ اور دھوکہ ہے، اور یہ دونوں گناہ ہیں، لہذافارمی انڈوں کودیسی انڈے کہہ کرفروخت کرنا، ناجائزوگناہ ہے۔

 قرآن مجید میں جھوٹ بولنے والوں کے متعلق اللہ تعالی نے ارشاد فرمایا:

(وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌۢ بِمَا كَانُوْا یَكْذِبُوْنَ)

ترجمہ کنزالعرفان: اور ان کے لئے ان کے جھوٹ بولنے کی وجہ سے دردناک عذاب ہے۔ (القرآن، پارہ01، سورۃ البقرہ، آیت: 10)

 اس آیت کے تحت تفسیر صراط الجنان میں ہے ”اس آیت سے معلوم ہوا کہ جھوٹ بولنا حرام ہے اور اس پر درد ناک عذاب کی وعید ہے لہذا ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ اس سے بچنے کی خوب کوشش کرے۔“ (صراط الجنان، جلد 1، صفحہ 75، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

 جھوٹ کے متعلق حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:

”اياكم والكذب، فان الكذب يهدي الى الفجور، وان الفجور يهدي اِلى النار“

ترجمہ: تم جھوٹ سے بچو، کیوں کہ جھوٹ فجور کی طرف لے جاتا ہے اور فجورجہنم کی طرف لے جاتا ہے۔ (سنن ابی داود، جلد 4، صفحہ 297، حدیث: 4989، المکتبۃ العصریۃ، بیروت)

 الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی میں ہے ”والكذب محظور الأديان“ ترجمہ: جھوٹ تما م ادیان میں ناجائز ہے۔ (الھدایۃ فی شرح بدایۃ المبتدی، جلد 3، صفحہ 123، دار احیاء التراث العربی، بیروت )

 نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ”من غش فلیس منا“ یعنی: جو دھوکہ دہی کرے، وہ ہم میں سے نہیں۔ (سنن الترمذی، صفحہ 513، حدیث: 1315، دار ابن کثیر)

علامہ عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فیض القدیر میں فرماتے ہیں: ”الغش ستر حال الشیء“ ترجمہ: دھوکے کا مطلب ہے کہ کسی چیز کی اصلی حالت کو چھپانا۔ (فیض القدیر، جلد 6، صفحہ 185، مطبوعہ: مصر)

 امام اہل سنت سیدی اعلی حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”غَدَر و بد عہدی مطلقاً سب سے حرام ہے، مسلم ہو یا کافر، ذمی ہو یا حربی، مستامن ہو یا غیر مستامن، اصلی ہو یا مرتد۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 14، صفحہ 139، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4724
تاریخ اجراء: 18 شعبان المعظم 1447ھ/07 فروری 2026ء