logo logo
AI Search

کیا مٹی مال ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مٹی کے مال ہونے نہ ہونے کے متعلق تفصیل

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ مٹی مال ہو سکتی ہے یا نہیں؟

جواب

ہر وہ چیز کہ جس کی طرف طبیعت مائل ہو، اس کو لیا اور دیا جاتا ہو، دوسروں سے اس کی حفاظت کی جاتی ہو، اور وقتِ ضرورت کے لیے اسے جمع کر کے رکھا جاتا ہو، ایسی ہر چیز مال ہے۔

اس تعریف کی روشنی میں فقہاے کرام فرماتے ہیں کہ تھوڑی سی مٹی، جو اپنی جگہ یعنی زمین میں ہی موجود ہو، یا ایک مٹھی خاک، وہ تو مال نہیں، لیکن کثیر مٹی، خاص طور پر زمین سے منتقل کرنے کے بعد، بلاشبہ شرعی اعتبار سے مال ہے، اور اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہے۔ ہمارے ہاں اس کی ایک مثال ملتانی مٹی ہے۔

درِ مختار میں ہے ”المال ما يميل إليه الطبع ويجري فيه البذل والمنع۔۔۔فخرج التراب ونحوہ“ ترجمہ : ہر وہ چیز کہ جس کی طرف طبیعت مائل ہو، اس چیز کو خرچ کرنا اور اپنے پاس روکنا، جاری ہو، مال ہے، لہٰذا مٹی اور اس جیسی چیزیں مال ہونے سے نکل گئیں۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے ”أي القليل ما دام في محله وإلا فقد يعرض له بالنقل ما يصير به مالا معتبرا ومثله الماء، وخرج أيضا نحو حبة من حنطة والعذرة الخالصة، بخلاف المخلوطة بتراب، ولذا جاز بيعها كسرقين“ ترجمہ : یعنی تھوڑی مٹی، جو اپنے محل (زمین) میں ہی موجود ہو، ورنہ تو مٹی کو منتقل کرنے سے اس کی حیثیت ایسی ہو جائے گی کہ جس سے وہ معتبر مال بن جائے گی اور اس کی مثال پانی ہے اور اسی طرح ذکر کردہ تعریف سے گندم کا ایک دانہ اور خالص پاخانہ نکل جائے گا، برخلاف جب وہ (پاخانہ) مٹی کے ساتھ ملا ہوا ہو، (تو مال ہوگا) اور اسی وجہ سے اس کی بیع جائز ہوگی، جیسے گوبر کھاد کی بیع۔ (در مختار ورد المحتار، جلد 7، صفحہ 234، مطبوعہ: کوئٹہ )

فتاوی رضویہ  میں ہے ”مٹی کہ مال و صالح بیع نہیں، وہ تراب قلیل ہے، جس میں بذل و منع نہیں، جیسے ایک مٹھی خاک، ورنہ تراب کثیر خصوصا بعد نقل بلاشبہ مال ہے اور عموما اس کی بیع میں تعامل بلاد، مٹی کی گاٹھیا چھتو ں پر ڈالنے یا کہگل کرنے یا استنجو ں کے ڈھیلو ں کے لئے سب جگہ بکتی ہے، رد المحتار میں اسی عبارتِ در مختار پر لکھا: قولہ فخرج التراب ای القلیل مادام فی محلہ والا فقد یعرض لہ بالنقل مایصیر بہ مالا معتبرا ومثلہ الماء (ماتن کے اس قول کہ ''مٹی تعریف مال سے خارج ہو گئی''  کا مطلب یہ ہے کہ وہ مٹی قلیل ہو اور ابھی تک اپنی جگہ پر پڑی ہو ورنہ وہاں سے نقل کر لینے کے بعد وہ مال معتبر بن جاتی ہے۔ اور پانی بھی اسی کی مثل ہے) بلکہ زمین خود مٹی ہے اور اس کی بیع قطعا جائز، تو مناط وہی تحقق حد مال ہے۔“ (فتاوی رضویہ ، جلد 17، صفحہ 157، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”مال وہ چیز ہے، جس کی طرف طبیعت کا میلان ہو، جس کو دیا لیا جاتا ہو، جس سے دوسروں کو روکتے ہوں، جسے وقت ضرورت کے لیے جمع رکھتے ہوں، لہٰذا تھوڑی سی مٹی، جب تک وہ اپنی جگہ پر ہے، مال نہیں اور اس کی بیع باطل ہے، البتہ اگر اُسے دوسری جگہ منتقل کرکے لے جائیں، تو اب مال ہے اور بیع جائز۔ گیہوں کا ایک دانہ اس کی بھی بیع باطل ہے۔ انسان کے پاخانہ پیشاب کی بیع باطل ہے، جب تک مٹی اس پر غالب نہ آ جائے اور کھاد نہ ہو جائے۔“ (بہار شریعت، جلد 2، حصہ 11، صفحہ 696 ، 697 ، مکتبۃ المدینہ، كراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا عبدالرب شاکر عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5140
تاریخ اجراء: 07 محرم الحرام 1448ھ/23 جون 2026ء