جمعہ کی اذان کے بعد تجارت کی آمدنی کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحيم
جمعہ کی اذان کے بعد تجارت کی تو حاصل شدہ آمدنی کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
جمعہ کی اذان اول سے لے کر نماز جمعہ کے ختم ہونے تک ان لوگوں کا تجارت کرنا کہ جن پر جمعہ فرض ہے، ناجائزو گناہ ہے لیکن اس تجارت سے جو مال حاصل ہوگاوہ حلال ہی ہے، حرام نہیں، کیونکہ یہاں ممانعت عقدسے خارج کسی معاملے کی وجہ سے ہے، لہٰذا عقد بالکل درست ہے تو اس سے حاصل ہونے والا مال بھی حلال ہے۔ جیسے کوئی شخص کسی کی زمین غصب کر کے مالک کی اجازت کے بغیر اس پر اپنا مال رکھ کر تجارت کرے تو اس کا یہ کرنا جائز نہیں ہے لیکن اس تجارت سے جو مال حاصل ہوگا وہ حلال ہے کہ یہاں ممانعت عقد سے خارج کسی معاملے یعنی غصب کی وجہ سے ہے لہذا عقد درست ہے تو اس سے حاصل ہونے والا مال بھی حلال ہے۔
نوٹ: ہم نے یہ قید لگائی کہ جن پر جمعہ فرض ہے ان کا تجارت کرنا جائز نہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ جن پر جمعہ فرض نہیں جیسے عورتیں وغیرہ جبکہ ان کے ساتھ تجارت کرنے والے بھی ایسے ہی ہوں تو ان کا تجارت کرنا جائز ہے کیونکہ ان پر جمعہ کی نماز کے لیے جانا واجب نہیں ہے تو اب اسے چھوڑ کر تجارت کرنے میں کوئی حرج نہیں۔
قرآن پاک میں ارشادخداوندی ہے: (یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَؕ- ذٰلِكُمْ خَیْرٌ لَّكُمْ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ(۹)) ترجمہ کنز الایمان: اے ایمان والو جب نماز کی اذان ہو جمعہ کے دن تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ (سورۃ الجمعۃ، پ 28، آیت 09)
اس آیت مبارکہ کے تحت خزائن العرفان میں ہے مسئلہ: اس سے معلوم ہوا کہ جمعہ کی اذان ہوتے ہی خرید و فروخت حرام ہوجاتی ہے اور دنیا کے تمام مشاغل جو ذکرِ الٰہی سے غفلت کا سبب ہوں اس میں داخل ہیں اذان ہونے کے بعد سب کو ترک کرنا لازم ہے۔
ہدایہ اور اس کی شرح فتح القدیر میں ہے (فتح القدیر بین الھلالین) و البیع عند أذان الجمعۃ قال اللہ تعالی﴿وَ ذَرُوا الْبَیْعَ﴾ (الجمعۃ:9) ثم فیہ إخلال بواجب السعی علی بعض الوجوہ . . . . و کل ذلک یکرہ (أی کل ما ذکرناہ من أول الفصل إلی ھنا یکرہ أی لا یحل) لما ذکرنا، و لا یفسد بہ البیع (باتفاق علمائنا حتی یجب الثمن و یثبت الملک قبل القبض) لأن الفساد فی معنی خارج زائد لا فی صلب العقد و لا فی شرائط الصحۃ'' ترجمہ: جمعہ کی اذان کے وقت سے بیع کرنا مکروہ ہے۔ اللہ عزوجل نے ارشاد فرمایا: اورخریدوفروخت چھوڑ دو۔ (سورۃ جمعہ، آیت: 9) پھر یہ کہ اس وقت بیع میں مشغول ہونا بعض صورتوں میں سعی والے واجب کی ادائیگی میں خلل انداز ہوگا۔ اور یہ تمام بیوع یعنی جو فصل کے شروع سے یہاں تک بیان ہوئیں مکروہ ہیں یعنی ان کا کرنا حلال نہیں، اس وجہ سے جو ہم نے بیان کی۔ البتہ باتفاقِ علماء ان صورتوں میں بیع فاسد نہیں ہوگی یہاں تک کہ خریدار پر ثمن کی ادائیگی واجب ہو جائے گی اور قبضہ کرنے سے قبل ہی وہ مبیع کا مالک بن جائے گاکیونکہ یہاں خرابی نفسِ عقد یا شرائطِ صحت میں نہیں بلکہ ایک خارجی امر کی وجہ سے ہے۔ (فتح القدیر، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، فصل فی ما یکرہ، جلد 6، صفحہ 438، کوئٹہ)
فتاوی ہندیہ میں ہے "و كره البيع عند أذان الجمعة و المعتبر الأذان بعد الزوال كذا في الكافي. ترجمہ: اذان جمعہ کے وقت سے خریدو فروخت مکروہ ہے اور اس میں اعتبار زوال کے بعد کی اذان کا ہے (یعنی پہلی اذان کا) اسی طرح کافی میں ہے۔ (فتاوی ھندیہ، کتاب البیوع، الباب العشرون فی البیاعات المکروھۃ، ج 03، ص 211، کوئٹہ)
درمختار میں ہے (و كره) تحريما مع الصحة (البيع عند الأذان الأول) ۔ ۔ ۔ ۔ وقد خص منه من لا جمعة عليه" ترجمہ: پہلی اذان کے وقت سے خریدو فروخت مکروہ تحریمی ہے لیکن عقددرست ہے۔ ہاں جن پر جمعہ فرض نہیں وہ اس حکم کے تحت داخل نہیں۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب البیوع، باب البیع الفاسد، ج 07، ص 309، مطبوعہ کوئٹہ)
المبسوط للسرخسی میں ہے ”الحكم يثبت بحسب السبب ۔ ۔ ۔ (ألا ترى) أن بالعقد النافذ الصحيح يثبت ملك حلال و بالعقد الفاسد يثبت ملك حرام بحسب السبب“ ترجمہ: حکم باعتبارِ سبب ثابت ہوتا ہے، کیا تم دیکھتے نہیں کہ عقد صحیح نافذ ہو تو اس سے ملکِ حلال ثابت ہوتی ہے اور عقد فاسد ہو تو باعتبارِ سبب ملکِ حرام ثابت ہوتی ہے۔ (المبسوط للسرخسی، کتاب الفرائض، ج 30، ص 130،دار المعرفۃ، بیروت)
حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی میں ہے "من لم تجب عليه الجمعة مستثنى من الحكم كما في القهستاني يعني من لم تجب عليهما معا أما إذا وجبت على أحدهما دون الآخر أثما جميعا لأن الأول ارتكب النهي و الثاني أعانه عليه كذا في شرح البخاري للعيني" ترجمہ: جس پرجمعہ واجب نہیں وہ اس حکم سے مستثنی ہیں جیساکہ قہستانی میں ہے یعنی جن عاقدین دونوں پر جمعہ واجب نہیں وہ اس حکم سے مستثنی ہیں بہرحال جب ان میں سے ایک پرواجب ہو،دوسرے پرواجب نہ ہوتووہ سب گنہگارہوں گے، کیونکہ پہلے نے ممانعت کا ارتکاب کیا ہے اور دوسرے نے اس پر اس کی مددکی ہے۔ اسی طرح عینی کی شرح بخاری میں ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، باب الجمعۃ، ص 517، کوئٹہ)
بہار شریعت میں ہے اذان جمعہ کے شروع سے ختم نماز تک بیع مکروہ تحریمی ہے اور اذان سے مراد پہلی اذان ہے کہ اُسی وقت سعی واجب ہوجاتی ہے مگر وہ لوگ جن پرجمعہ واجب نہیں مثلاً عورتیں یا مریض اُن کی بیع میں کراہت نہیں۔ (بھار شریعت، ج 02، حصہ 11، ص 723، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: GRW-661
تاریخ اجراء: 20 جمادی الاولی1444ھ / 15 دسمبر 2022ء