logo logo
AI Search

قرض کی شرط پر چیز مہنگی بیچنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مقروض کو اس شرط پر قرض دینا کہ وہ قرض دینے والے سےمعمولی قیمت کی چیز مہنگی خریدے

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

اگر قرض دیتے ہوئے یہ شرط لگادی گئی کہ مقروض، قرض دینے والے  سے  20 ہزار کی چیز خریدے گا جبکہ  اس چیز کا ریٹ مارکیٹ ویلیو کے حساب سے انتہائی معمولی ہے جیساکہ سوال میں پین کا ذکر کیا گیا، تو یہ معاملہ حرام اور بلاشبہ سودی معاہدہ ہے کہ اس طرح قرض دینے والا اپنے قرض سے مشروط نفع اٹھا رہا ہے  کیونکہ اگر یہ قرض والا معاملہ نہ ہو تو مقروض ہرگز معمولی قیمت کا پین 20 ہزار روپے میں نہ خریدے۔ لہٰذا ایسا معاملہ کرنا، ناجائز و حرام ہے۔

النتف فی الفتاوی میں ہے: الربافی القروض: و الآخر ان یجر الی نفسہ  منفعۃ بذلک  القرض و ھو ان ۔ ۔ ۔  یشتری منہ شیئا باغلی  مما یشتری ۔ ۔ ۔ و لو لم  یکن سبب ذلک  ھذا القرض  لما کان ذلک الفعل فان ذلک ربا یعنی: قرضوں میں سود کی ایک صورت  یہ بھی ہے کہ  اس قرض کی وجہ سے قرض خواہ کو منفعت حاصل ہو، اور وہ یہ کہ مقروض، قرض خواہ سے کوئی چیز (مارکیٹ میں رائج) قیمت ِ خریدسے بڑھ کر مہنگے داموں میں  خریدے، اگر یہ قرض والا سبب نہ ہو تا، تو وہ ایسا ہرگز نہ کرتا۔ بلاشبہ یہ سود ہے۔ (ملتقطاً از النتف فی الفتاوی للسغدی، ج 1، صفحہ 484، 485، مطبوعہ  مؤسسۃ الرسالۃ)

امام اہلسنت رحمۃ اللہ علیہ اسی انداز کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: قرض لینے والا بضرورتِ قرض قرض کے ساتھ کم مالیت کی شے زیادہ قیمت کو اس طرح خریدے کہ وہ بیع اس قرض پر مشروط ہو تو بالاتفاق حرام ہے، لان النبی صلی اللہ تعالٰی علیہ و سلم نھی عن بیع و شرط (ترجمہ: کیونکہ نبی صلی اللہ تعالیٰ  علیہ و سلم نے بیع اور شرط سے منع فرمایا ہے۔) خواہ یہ شرط نصّاً ہو یا دلالۃً لان المعروف کالمشروط (ترجمہ: کیونکہ معروف، مشروط کی طرح ہوتا ہے)۔ اور  اگر عقدِ قرض پہلے ہو اور یہ بیع اس میں  نصاً یا دلالۃً مشروط نہ ہو تو اس میں  اختلاف ہے، بعض علماء اجازت دیتے ہیں  کہ یہ بیع بشرط القرض نہیں  بلکہ قرض بشرط البیع ہے اور قرض شروطِ فاسدہ سے فاسد نہیں  ہوتا، اور راجح یہ ہے کہ یہ بھی ممنوع ہے کہ اگرچہ شرط مفسدِ قرض نہیں  مگر یہ وہ قرض ہے جس کے ذریعہ سے ایک منفعت قرض دینے والے نے حاصل کی اور یہ ناجائز ہے۔ نبی صلی اللہ تعالیٰ  علیہ وسلم فرماتے ہیں: کل قرض جر منفعۃ فھو ربوا (جو قرض نفع کھینچے وہ سود ہے۔ت) (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 274275-، مطبوعہ لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی 
فتویٰ نمبر: Web-2566
تاریخ اجراء: 05 جمادی الاولٰی 1447ھ / 28 اکتوبر 2025ء