کیا اسٹاک ایکسچینج میں انویسٹ کرنا جائز ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
اسٹاک ایکسچینج میں انویسٹ کرناکیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
اسٹاک ایکسچینج(Stock Exchange) میں مروجہ طریقۂ کار کے مطابق پیسے لگانا شرعاً ممنوع و ناجائز ہے، خواہ اپنی رقم بروکر کے سپرد کی جائے کہ وہ آپ کے لیے شیئرز کی خرید و فروخت کرے یا آپ خود شیئرز کا لین دین کریں؛ اس لیے کہ اسٹاک مارکیٹ کے موجودہ نظام میں حصص(Shares) کے معاملات عمومی طور پر سود اور دیگر فاسد عقود سے خالی نہیں، چاہے صراحتاً ہوں جیسے ترجیحی حصص(Preferred Shares) میں یا ضمناً ہوں جیسے عام حصص(Common Shares) میں، اور شریعت کی رو سے سود قطعی طور پر حرام اور سخت گناہ ہے اور دیگر متعدد عقود بھی گناہ ہیں، لہذا ایسے کسی کام میں پڑنے کی ہرگز اجازت نہیں جس سے آدمی سود لینے دینے یا دیگر عقود فاسدہ کی آفت میں گرفتار ہو جائے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ﴿اَحَلَّ اللّٰهُ الْبَیْعَ وَ حَرَّمَ الرِّبٰوا﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اللہ نے خرید و فروخت کو حلال کیا اور سود کو حرام کیا۔ (پارہ 3، سورۃ البقرۃ 2، آیت 275)
صحیح مسلم، سنن الکبری للبیہقی، جمع الجوامع، مشکوۃ المصابیح وغیرہ میں ہے: عن جابر قال: لعن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم آكل الربا و موكله و كاتبه و شاهديه و قال: هم سواء“ ترجمہ: حضرت جابر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے سود کھانے والے، سود کھلانے والے، اس کے لکھنے والے اور اس کے گواہوں پر لعنت فرمائی، اور ارشاد فرمایا: یہ سب (گناہ میں) برابر ہیں۔ (صحيح المسلم، كتاب البيوع، باب لعن آكل الربا و مؤكله، جلد 5، صفحہ 50، حدیث 1598، دار الطباعة العامرة، تركيا)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ان اقرض نوط عشرۃ و شرط ان یرد المستقرض اثنتی عشرۃ ربیۃ او احدی عشرۃ او عشرۃ وقطعۃ مثلاحالا او مالا منجما او غیر منجم فھذا حرام و ربا قطعا لانہ قرض جر نفعا و قد قال سیدنا رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کل قرض جر منفعۃ فھو ربا، رواہ الحارث بن ابی اسامۃ عن امیر المؤمنین علی کرم اللہ تعالی وجهہ“ ترجمہ: اگر کوئی شخص دس روپے قرض دے اور یہ شرط کر لے کہ قرض لینے والا بارہ روپے، یا گیارہ روپے، یا دس روپے کے ساتھ مثلاً کچھ آنے اوپر لوٹائے گا، خواہ ابھی یا کچھ مدت بعد، قسط بندی سے یا بلا قسط، تو یہ حرام اور قطعی سود ہے؛ کیونکہ یہ ایسا قرض ہے جس نے نفع کھینچا۔ حالانکہ بلاشبہ ہمارے سردار رسول مختار صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: ہر وہ قرض جو کوئی نفع کھینچ کر لائے تو وہ سود ہے۔ اس حدیث کو حارث بن ابی اسامہ نے امیر المؤمنین حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ الکریم سے روایت کیا ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 17، صفحہ 493 - 494، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
سیدی اعلیٰ حضرت رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ایک مقام پر فرماتے ہیں: بر بنائے قرض کسی قسم کا نفع لینا مطلقاً سود و حرام ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 25، صفحہ 223، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مفتی محمد وقار الدین قادری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1413ھ / 1993ء) لکھتے ہیں: کسی کمپنی کے شیئرز خریدنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے اس کمپنی کے ایک حصہ کو خرید لیا ہے اور آپ اس حصہ کے مالک ہو گئے اور وہ کمپنی جو جائز و ناجائز کام کرے گی، اس میں آپ بھی حصہ دار ہوں گے۔ جتنی کمپنیاں قائم ہوتی ہیں وہ اپنے شیئرز کے اعلان کے ساتھ مکمل تفصیلات بھی شائع کر دیتی ہیں کہ یہ کمپنی کتنے سرمایہ سے قائم کی جائے گی، اس میں غیر ملکی سرمایہ کتنا ہوگا اور ملکی قرضہ کتنا ہوگا اور کمپنی قائم کرنے والے اپنا کتنا سرمایہ لگائیں گے اور کتنے سرمایہ کے شیئرز فروخت کیے جائیں گے، لہذا شیئرز خریدنے والا اس سود کے لین دین میں شریک ہو جائے گا۔ جس طرح سود لینا حرام ہے اسی طرح سود دینا بھی حرام ہے تو وہ شیئر خریدنا بھی حرام ہے۔ اس کے علاوہ شیئرز مارکیٹ میں عام طور پر سٹہ ہوتا ہے، جو جوا ہے اور وہ بھی حرام ہے۔ (وقار الفتاوی، جلد 1، صفحہ 234، بزم وقار الدین، کراچی)
فقیہِ ملت علامہ مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1423ھ / 2001ء) لکھتے ہیں: اپنا شیئر دوسرے سے بیچنا یا دوسرے کا شیئر خریدنا حرام ہے، ہرگز جائز نہیں ۔ . . . شیئر کا بیچنا خریدنا اس لیے بھی جائز نہیں کہ اس طرح کی کمپنیاں نقصان کی صورت میں حصہ داروں (شیئر ہولڈرز) کی پوری رقم ضبط کر لیتی ہیں یا ان کے سرمایہ سے سودی قرض ادا کرتی ہیں جو شرعاً ناجائز ہے، لہذا شیئر کی خرید و فروخت کے ذریعہ یا کسی اور طریقہ سے (ایسی) کمپنی میں شریک ہونا حرام و گناہ ہے، اس لیے حکم دیا جاتا ہے کہ مسلمان ہرگز ہرگز کمپنی کی شرکت قبول نہ کریں۔ (فتاوی فقیہ ملت، جلد 2، صفحہ 196-197، شبیر برادرز، لاہور)
مجلس شرعی کے فیصلے جلد اول میں ہے: محدود بہ حصص کمپنی کی سرمایہ کاری کی بنیاد تین امور پر ہے: (۱) ترجیحی حصص (۲) قرض تمسکات (۳) مساواتی حصص۔ اس پر سیمینار کا اتفاق ہے کہ ترجیحی حصص سرمایۂ قرض ہیں جن پر ملنے والا نفع سود ہے، اس لیے ان حصص کے ذریعہ سرمایہ کاری حرام ہے۔ یہی صورت قرض تمسکات میں بھی ہوتی ہے، اس لیے ان کے ذریعے بھی سرمایہ کاری حرام ہے۔ نیز کچھ آگے فیصلے میں ہے: مساواتی حصص کے ذریعے سرمایہ کاری عقود فاسدہ و ربا کے دخل کی وجہ سے ناجائز ہے۔ و اللہ تعالیٰ اعلم (مجلس شرعی کے فیصلے، جلد 1، صفحہ 140و 144، مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ، مبارک پور)
نوٹ: اسٹاک ایکسچینج اور شیئرز کی خرید و فروخت کے حوالے سے طریقہ کار اور شرعی حکم کی تفصیلات جاننے کے لیے دار الافتاء اہلسنت کے تفصیلی فتوی شیئرز کے کاروبار کا حکم کا مطالعہ فرمائیں۔
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1260
تاریخ اجراء: 25 محرم الحرام 1448ھ / 11 جولائی 2026ء