logo logo
AI Search

مدنی قافلے میں مختلف جگہوں پر جانے سے مسافر یا مقیم کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

شہر میں پندرہ دن ٹھہرنے کی نیت ہو اور پھر اس کے گاؤں میں جانا ہو تو نمازوں کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائےدین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ جب ہم مدنی قافلے میں جاتے ہیں تو شرعی مسافت طے کرنے کے بعدمثلاًایک شہر کے اندر پندرہ دن کی نیت کرتے ہیں لیکن اسی شہر میں ہم ایک جگہ نہیں رکتے بلکہ مختلف مساجد میں چلے جاتے ہیں، جو ایک دوسرے سے تین تین چار چار کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہوتی ہیں۔ تو کیا ہم وہاں پر مقیم رہیں گے؟ اسی طرح اگر شہر سے اس کے قریبی گاؤں دیہات میں چلے جاتے ہیں، جو شہر سے شرعی مسافت پر نہیں، تو کیا حکم ہوگا؟ یا ایک گاؤں میں پندرہ دن کی نیت سے چلے جاتے ہیں لیکن پھر ایک گاؤں میں نہیں رکتے بلکہ اس کے قریب قریب دوسرے گاؤں میں بھی چلے جاتے ہیں، جو شرعی مسافت پر نہیں، تو کیا اس دوران ہم مسافر رہیں گے، جبکہ ان مقامات میں سے کوئی بھی ہمارا وطن اصلی نہ ہو؟ تفصیل کے ساتھ ان ساری صورتوں کا جواب عطا فرما دیجئے۔

جواب

چند اصول ذہن نشین فرما لیجیے:

(1) کوئی شخص شرعی مسافت کے ارادے سے سفر پر نکلا ہے، تو اس کے لیے کسی مقام پر مقیم ہونے یامسافر رہنے میں نیت کرتے وقت کا اعتبار ہے، اگر نیت کرتے وقت اس شہر یا گاؤں میں کم ازکم پورے پندرہ دن رہنے کی نیت تھی تو مقیم ہوجائے گا، اب اگرچہ بعدمیں پندرہ دن پوراہونے سے پہلے کسی دوسرے شہریاگاؤں چلا جائے لیکن وہ شہر یا گاؤں شرعی مسافت پرنہ ہو تو اب مقیم ہی رہے گا، دونوں جگہ نماز پوری پڑھے گا۔ اور نیت کرتے وقت یہ معلوم تھاکہ پورے پندرہ دن اس شہر یا گاؤں میں نہیں رہنا بلکہ اس دوران کسی دوسرے شہریاگاؤں چلا جانا ہے، اگرچہ وہ شہر یا گاؤں اس پہلے شہر یا گاؤں سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ہو، تو ایسی صورت میں مقیم نہیں ہوگا، بلکہ مسافر ہی رہے گا۔

(2) نیت میں رات کالحاظ ہوگایعنی ان پندرہ دنوں کی راتیں اسی شہریامقام پرگزارنے کی نیت ہو،ان دنوں میں کسی دوسرے مقام پرجانے کی نیت کرنے یا جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا جبکہ وہ دوسرامقام شرعی مسافت سے کم فاصلے پرہو۔ مثلانیت یہ ہے کہ لاہورمیں پندرہ دن کے لیے رہناہے لیکن معلو م ہے کہ پندرہ دنوں کے دوران، دن ہی دن میں مریدکے یاکامونکی وغیرہ جاکر دن کے دن ہی واپس لاہور آجانا ہے اور رات لاہور ہی گزارنی ہے تو اس سے فرق نہیں پڑے گا، لاہور میں مقیم ہی رہے گا لہذا نماز پوری پڑھے گا۔ اور اگر نیت کرتے وقت معلوم ہے کہ پندرہ دنوں کے اندر کوئی رات بھی کسی دوسرے مقام پر گزارنی ہے، اگرچہ وہ مقام شرعی مسافت پرنہ ہوبلکہ اگرچہ وہ لاہور سے چند کلومیٹر کے فاصلہ پر ہو، تو ایسی صورت میں لاہور میں مقیم نہیں ہوگا، مسافر ہی رہے گا اور چار رکعتی نماز میں قصر کرے گا۔

(3) دوسرا مقام اگر شرعی مسافت پر ہو تو اب خواہ دن کے دن جائے تب بھی مقیم نہیں رہے گا۔

(4) جس شہر یا گاؤں میں پندرہ دن رہنے کی نیت کی ہے، اس کی پوری آبادی مقام واحدکی طرح ہے، لہذا مقیم ہونے کے لیے اس شہر یا گاؤں میں صرف ایک خاص جگہ رہنا ضروری نہیں ہے بلکہ اس شہریاگاؤں کی پوری آبادی میں جہاں بھی رہے گا تو اس شہرمیں رہنا ہی شمار ہوگا۔

پس اس کے مطابق جواب درج ذیل ہے:

(1) ایک شہر یا گاؤں میں پندرہ دن رہنے کی نیت کی تو اب اس شہر یا گاؤں کے اندر مختلف مساجد میں جانے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا، اگرچہ وہ مساجد تین چار کلومیٹر بلکہ اس سے بھی زائد فاصلے پر ہوں۔

(2) اگر نیت کرتے وقت معلوم ہے کہ پندرہ دن کے اندر شہر یا گاؤں سے باہر شرعی مسافت سے کم سفر پر جانا ہے، اب اگر یہ معلوم ہے کہ دن کے دن جاکر واپس آجائیں گے اور رات اسی شہر یا گاؤں میں گزاریں گے، تو اب بھی اسی شہر یا گاؤں میں مقیم رہیں گے۔

(3) اور اگر یہ معلوم ہے کہ شہر یا گاؤں سے باہر شرعی مسافت سے کم پر جانا ہے اور رات شہر یا گاؤں سے باہر ہی گزارنی ہے تو اب شہر یا گاؤں میں مقیم نہیں ہوں گے بلکہ مسافر ہی رہیں گے اور دوسرے مقام پر بھی اگر پندرہ دن رہنے کی نیت نہیں تو وہاں بھی مسافر ہی رہیں گے۔

(4) اگر دوسرے شہر یا گاؤں کی مسافت شرعی مسافت کے مطابق ہے تو اب اگرچہ دن کے دن ہی وہاں جانا ہو، تب بھی مسافر ہی رہیں گے۔

درمختار میں ہے "فلو دخل الحاج مكة أيام العشر لم تصح نيته لأنه يخرج إلى منى و عرفة فصار كنية الإقامة في غير موضعها و بعد عوده من منى تصح" ترجمہ: اگر کوئی حاجی مکہ میں ذوالحج کے عشرہ میں داخل ہوا تو اس کی نیت ( برائے اقامت) درست نہیں کیو نکہ اس نے منٰی اور عرفات کی طرف انہی دنوں میں جانا ہے، یہ ایسے ہی ہے جیسے اس مقام پر اقامت کی نیت کرنا، جو اقامت کی صلاحیت نہ رکھتا ہو اور منٰی سے لوٹ کر نیت کرنا درست ہے۔ (الدر المختار مع حاشیۃ الطحطاوی، باب صلاۃ المسافر، ج 01، ص 333، کوئٹہ)

حاشیۃ الطحطاوی علی الدرمیں ہے "و في البحر لو كان الموضعان من مصر واحد أو قرية واحدة فإنها صحيحة لأنهما متحدان حكما ألا ترى أنه لو خرج إليه مسافرا لم يقصر." ترجمہ: اور بحرمیں ہے: اگر ایک شہر یا ایک گاؤں کے دو مقام ہوں تو نیت درست ہے کیونکہ یہ دونوں حکما ایک ہی ہیں، کیا تو نہیں دیکھتا کہ اگر اس کی طرف سفر کر کے جائے تو قصر نہیں کرتا۔ (حاشیۃ الطحطاوی، باب صلاۃ المسافر، ج 01، ص 333، کوئٹہ)

مبسوط سرخسی، بدائع، محیط برھانی اورحاشیۃ الطحطاوی علی المراقی وغیرہ میں ہے (واللفظ للآخر) "نوى أن يقيم الليل في إحداهما و يخرج بالنهار إلى الموضع الآخر فإذا دخل أولا الموضع الذي عزم على الإقامة فيه بالنهار لم يصر مقيما أي حتى يدخل الموضع الذي نوى المبيت فيه وإن دخل أولا الموضع الذي عزم على الإقامة فيه بالليل صار مقيما ثم بالخروج إلى الموضع الآخر لم يصر مسافرا لأن موضع إقامة المرء حيث يبيت فيه ألا ترى أنك إذا قلت لشخص أين تسكن يقول في محلة كذا و هو بالنهار يكون بالسوق" ترجمہ: کسی نے نیت کی کہ وہ رات ایک مقام پر گزارے گا اور دن کو دوسرے مقام پر جائے گا، پس جب وہ اولا اس مقام میں داخل ہو کہ جہاں دن گزارنے کی نیت ہے تو وہ مقیم نہیں ہوگا یعنی جب تک وہ اس مقام میں نہ چلا جائے جہاں رات گزارنے کی نیت ہے اور اگر اولا اس مقام میں گیا کہ جہاں اس نے رات گزارنے کی نیت کی ہے تووہ مقیم ہوجائے گا پھر دوسرے مقام پر جانے سے وہ مسافر نہیں ہوگا کیونکہ آدمی کی جائے اقامت وہی ہوتی ہے جہاں وہ رات گزارتا ہے، کیا تو نہیں دیکھتا کہ جب توکسی شخص سے پوچھتا ہے کہ تو کہاں رہائش اختیار کیے ہے، تو وہ کہتا ہے کہ فلاں محلے میں، حالانکہ وہ دن میں بازار میں ہوتا ہے۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، باب صلاۃ المسافر، ص 426، کوئٹہ)

ردالمحتارمیں ہے "إنشاء السفر من وطن الإقامة مبطل له و إن عاد إليه" ترجمہ: وطن اقامت سے سفر شرعی اختیار کرنا، وطن اقامت کو باطل کردیتا ہے، اگرچہ اس کی طرف واپس لوٹ آئے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، ج 02، ص 740، کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے "الہ آباد تمھارا وطن اصلی نہیں ۔ ۔ ۔ جب تک کسی خاص جگہ پندرہ دن ٹھہر نے کی نیت الہ آباد میں کرلی ہے تو اب الہ آباد وطن اقامت ہوگیا نماز پوری پڑھی جائے گی، جب تک وہاں سے تین منزل کے ارادہ پر نہ جاؤ اگر چہ ہر ہفتہ پر بلکہ ہرروز الہ آباد سے کہیں تھوڑی تھوڑی دور یعنی چھتیس ۳۶ کوس سے کم باہر جانا اور دن کے دن واپس آنا ہو جبکہ نیت کرتے وقت اس پندرہ دن میں کسی رات دوسری جگہ شب باشی کا ارادہ نہ ہو ورنہ وہ نیت پورے پندرہ دن کی نہ ہوگی مثلاً الہ آباد میں پندرہ روز ٹھہر نے کی نیت کی او رساتھ ہی یہ معلوم تھاکہ ان میں ایک شب دوسری جگہ ٹھہرنا ہوگا تو یہ پورے پندرہ دن کی نیت نہ ہوئی اور سفر ہی رہا اگر چہ دوسری جگہ الہ آباد کے ضلع میں بلکہ اس سے تین چار ہی کوس کے فاصلہ پر ہو، اور اگر پندرہ راتوں کی نیت پوری یہیں ٹھہرنے کی تھی اگر چہ دن میں کہیں اور جانے اور واپس آنے کا خیال تھا تو اقامت صحیح ہوگئی نماز پوری پڑھی جائے گی جبکہ وہ دوسری جگہ الہ آباد سے چھتیس ۳۶ کوس یعنی ستاون ۵۷، اٹھاون ۵۸ میل کے فاصلے پر نہ ہو غرض قیام کی نیت کرتے وقت ان خیالوں کا اعتبار ہے بعد کو جوپیش آئے اُس کا لحاظ نہیں مثلاً پندرہ رات پورے کا قیام ٹھہرالیا اور اس کے بعد اتفاقاً چندراتوں کے لئے اورجگہ جانا ہوا جو الہ آباد سے تین منزل کے فاصلہ پر نہیں اگر چہ دس بیس بلکہ چھپن میل تک ہو سفر نہ ہوگا اس مقامِ دیگر میں بھی نماز پری پڑھنی ہوگی اور الہ آباد میں بھی ان سب صورتوں کو خوب غور سے سمجھ لو۔" (فتاوی رضویہ، ج 08، ص 251، 252، رضا فاونڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: ابو حفص مولانا محمد عرفان عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتوی نمبر: Lar-11040
تاریخ اجراء: 13 جمادی الاولی 1443ھ / 18دسمبر 2021ء