امام سے غلطی ہو جائے تو مقتدی کی نماز کا کیا حکم ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا امام کی غلطی کا مقتدی کی نماز پر اثر پڑتا ہے؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے ایک پوسٹ دیکھی، جس میں یہ حدیثِ پاک لکھی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: امام لوگوں کو نماز پڑھاتے ہیں، پس اگر امام نے ٹھیک نماز پڑھائی تو اس کا ثواب تمہیں ملے گا اور اگر غلطی کی، تو بھی (تمہاری نماز کا) ثواب تم کو ملے گا اور غلطی کا وبال ان پر رہے گا۔
اس حدیثِ پاک کی وضاحت فرما دیں، کیونکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ امام کی غلطی کا مقتدی کو علم ہو جائے تب بھی مقتدی اعادہ وغیرہ نہیں کرے گا۔کیا اس حدیثِ پاک کا یہی معنی و مفہوم ہے؟
جواب
سوال میں مذکور مکمل حدیثِ پاک بخاری شریف میں ہے: ”عن أبی هريرة: أن رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم قال:يصلون لكم، فإن أصابوا فلكم، وإن أخطئوا فلكم وعليهم“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں رسول ا ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں امام نماز پڑھایا کریں گے، اگر درست نماز پڑھائیں تو تمہارے لیے مفید ہے اور اگر خطا کریں، تو تمہارے لیے مفید، ان کے لیے مضر۔ ( صحيح البخاری، جلد 1، صفحہ 140، دار طوق النجاہ)
اس حدیثِ پاک کی شرح علمائے کرام نے یہ بیان فرمائی ہے کہ جب امام نماز پڑھائے اور نماز کی شرائط وغیرہ کا لحاظ کرتے ہوئے درست طریقے سے نماز پڑھائے، تو امام اور مقتدی دونوں کو اجر و ثواب ملے گا اور اگر امام ایسی غلطی کرے جس سے نماز فاسد ہوجائے، جس کی مقتدی کو خبر نہ ہو، تو مقتدی کی نماز ہو جائے گی اور امام مجرم ہوگا اور اگر مقتدی کو معلوم ہو جائے، تو مقتدی پر بھی اعادہ وغیرہ لازم ہوگا۔
حدیث پاک کے مضمون کا خلاصہ یہ ہے کہ امام پر اعتماد کر کے نماز پڑھی جائے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ امام کی طرف سے کوئی غلطی سامنے آنے کے بعد اگر وہ نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے یا اس نماز کا فساد سامنے آتا ہے، تو واجب الاعادہ ہونے کی صورت میں دہرانے اور فساد سامنے آنے پر وقت میں دوبارہ پڑھنے اور وقت گزرنے کے بعد قضا پڑھنے کی حاجت نہیں، ایسا بالکل نہیں ہے۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب تک امام کی غلطی کی اطلاع نمازی کو نہ ہو، نمازی پر کوئی الزام نہیں ہے۔
یہی وجہ ہے کہ امام مقرر کرتے وقت اس کا نیک پرہیز گار ہونا اور بدمذہب نہ ہونا وغیرہ دیکھا جاتا ہے، کیوں کہ فاسق معلن یا گمراہ شخص دین کے معاملے میں قابل اعتماد نہیں ہوتا۔
اس حدیثِ پاک کے تحت عمدۃ القاری میں ہے: ”وقال الكرمانی: فإن أصابوا فی الأركان والشرائط والسنن فلكم (وان أخطأوا) أی: وإن لم يصيبوا (فلكم) أی: ثوابها، (وعليهم) أی: عقابها۔۔۔ وعندنا يتبع له مطلقا، یعنی: فی الصحة والفساد، ۔۔۔ عندنا الحكم بالعكس۔۔۔ودليلنا ما رواه الحاكم مصححا عن سهل بن سعد: (الإمام ضامن)، یعنی: صلاتهم فی ضمن صلاته صحة وفسادا“ یعنی: امام کرمانی علیہ الرحمة فرماتے ہیں: اگر امام نماز کے ارکان، شرائط و سنن درست ادا کرے تو تمہارے لیے اجر ہے اور اگر امام غلطی کرے یعنی ارکان وغیرہ درست ادا نہ کرے تب بھی تمہارے لیے ثواب ہے اور امام کی پکڑ ہے۔۔۔ احناف کے نزدیک مقتدی مطلقاً امام کے تابع ہوتا ہے یعنی صحت و فساد میں بھی امام کا تابع ہوتا ہے۔ ۔۔ ہمارے نزدیک حکم اس کے برعکس ہے۔۔۔اور ہماری دلیل وہ حدیث پاک ہے جو امام حاکم نے حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے روایت کی تصحیح کے ساتھ نقل کی کہ امام) مقتدیوں کا (ضامن ہے یعنی مقتدیوں کی نماز امام کی نماز کے ضمن میں ہوتی ہے صحت و فساد کے اعتبار سے۔ (عمدة القاری شرح صحيح البخاری، جلد 5، صفحہ 229، دار إحياء التراث العربی، بيروت )
سوال میں مذکور حدیثِ پاک سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ امام کی غلطی کا مقتدی کو علم ہو جائے تب بھی وہ اعادہ نہیں کرے گا، بلکہ جب امام کی غلطی کا علم مقتدی کو ہو جائے، تو امام کے ساتھ ساتھ مقتدی بھی اعادہ وغیرہ کرے گا، کیونکہ نماز کی صحت و فساد کے اعتبار سے امام مقتدی کی نماز کا ضامن ہوتا ہے، جیسا کہ امام محمد بن حسن رحمۃ اللہ علیہ نے کتاب الآثار میں روایت کیا کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے فرمایا جس نے قوم کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھائی تھی کہ وہ بھی اعادہ کرے اور مقتدی بھی اعادہ کریں۔
سنن ترمذی میں ہے: ”عن أبی هريرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم: الإمام ضامن، والمؤذن مؤتمن، اللهم أرشد الأئمة، واغفر للمؤذنين“ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی الله عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے فرمایا: امام ضامن ہے اور مؤذن امین ہے، اے اللہ! تو اماموں کو راہ راست پر رکھ اور مؤذنوں کی مغفرت فرما۔ (سنن الترمذی، جلد 1، صفحہ 282، مطبوعہ دار الغرب الإسلامی، بيروت)
"الآثار للشیبانی" میں ہے: ”عن عمرو بن دينار، أن علی بن أبی طالب رضي اللہ عنه، قال فی الرجل يصلی بالقوم جنبا، قال: يعيد ويعيدون“ یعنی: حضرت عمرو بن دینار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ نے اس شخص کے بارے میں فرمایا: جس نے قوم کو جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی تھی کہ وہ بھی اعادہ کرے اور مقتدی بھی اعادہ کریں۔ (الآثار لمحمد بن الحسن، جلد 1، صفحہ 359، دار الكتب العلمية، بيروت)
مصنف عبد الرزاق میں ہے: ”عن أبي أمامة قال: صلى عمر بالناس وهو جنب، فأعاد ولم يعد الناس، فقال له علي: «قد كان ينبغي لمن صلى معك أن يعيدوا» قال: فنزلوا إلى قول علي قال: قلت: ما نزلوا؟ قال: رجعوا، قال القاسم: وقال ابن مسعود مثل قول علي“ یعنی: حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں: کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دفعہ جنابت کی حالت میں نماز پڑھا دی، تو انہوں نے خود اعادہ کیا، لیکن لوگوں نے اعادہ نہیں کیا، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ سے کہا جنہوں نے آپ کے ساتھ نماز پڑھی ہے انہیں بھی اعادہ کرنا چاہیے تو صحابہ کرام علیہم الرضوان نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قول کی طرف رجوع کیا۔ راوی حدیث قاسم کہتے ہیں حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ عنہ نے بھی مولا علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے قول کی مثل فرمایا ہے۔ ( مصنف عبد الرزاق الصنعانی، جلد 2، صفحہ 350، مطبوعہ هند)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی ابو محمد علی اصغر عطاری مدنی
فتوی نمبر: Gul-3479
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1446ھ/26 مئی 2025ء