logo logo
AI Search

نماز کے فرائض کتنے ہیں؟ تفصیلی فتوی

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نماز کے فرائض کے متعلق تفصیل

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ نماز کے کتنے فرض ہیں ؟

جواب

نماز میں سات فرائض ہیں، جن کی کچھ تفصیل درج ذیل ہے:

 (1) تکبیر تحریمہ: یعنی نماز شروع کرنے کے لیے اللہ تعالی کی تعظیم کا کوئی کلمہ کہنا، مثلا اللہ اجل، یا اللہ اعظم وغیرہ لیکن اللہ اکبر کہنا واجب ہے، لہذا اگر تکبیر تحریمہ میں اللہ اکبر کہہ لیا، تو فرض کے ساتھ ساتھ واجب بھی ادا ہو گیا، اور اگر اللہ اکبر کے علاوہ کوئی اور کلمہ تعظیم کہا، تو فرض ادا ہوجانے کی وجہ سے نماز تو شروع ہوجائے گی لیکن واجب کا ترک ہوگا۔

 (2) قیام کرنا: یعنی کھڑا ہونا، قیام کی کم از کم حد یہ ہے کہ گھٹنوں کی طرف ہاتھ پھیلائے تو ہاتھ گھٹنوں تک نہ پہنچیں۔

 (3) قراءت: یعنی تمام حروف کو مخارج کے ساتھ اس طرح ادا کرنا کہ ہر حرف دوسرے سے جُدا اور ممتاز ہو اور کم از کم ایک آیت کو اتنی آواز سے پڑھا جائے کہ اپنے کان تک آواز آئے۔

 (4) رکوع: اس کی کم از کم حد یہ ہے کہ اتنا جھکے کہ ہاتھ بڑھانے سے گھٹنوں تک پہنچ جائیں اور پورا رکوع یہ ہے کہ کمر سیدھی بچھ جائے۔

(5) سجدہ: یعنی پیشانی کا زمین پر جمنا سجدہ کی حقیقت ہے، نیز ناک کا سخت ہڈی تک زمین پر لگنا بھی ضرور ہے۔ اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا فرض اور دونوں پاؤں کی تین تین انگلیوں کا پیٹ زمین پر لگنا واجب ہے۔

 (6) قعدہ اخیرہ: یعنی نماز کی رکعتیں پوری کرنے کے بعد آخری رکعت میں اتنی دیر تک بیٹھنا فرض ہے کہ جتنی دیر میں پوری التحیات یعنی عبدہ ورسولہ تک پڑھ لی جائے۔

 (7) خروج بِصُنْعِہ: یعنی قعدۂ اخیرہ کے بعد سلام و کلام وغیرہ کوئی ایسا فعل قصدا کرنا کہ جو نماز کے منافی ہو، مگر "السلام" کہنا واجب ہے اور سلام کے علاوہ کوئی دوسرا فعلِ منافی قصداً پایا گیا، تو نماز کا فرض تو ادا ہو جائے گا، لیکن واجب ترک ہونے کی وجہ سے اسے دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا، اور اگر بغیر قصد و ارادے کے کوئی منافی فعل پایا گیا تو نماز باطل ہو جائے گی ۔

در مختار میں ہے "(من فرائضها) التي لا تصح بدونها (التحريمة) قائما۔۔۔ ( القيام) بحيث لو مد يديه لا ينال ركبتيه و مفروضة وواجبة ومسنونة ومندوبة بقدر القراءة فيه۔۔۔ ( القراءة) ۔۔۔ ( الركوع) بحيث لو مد يديه نال ركبتيه۔۔۔ (السجود) بجبهته وقدميه، ووضع إصبع واحدة منهما شرط۔۔۔ ( القعود الأخير) ۔۔۔ (قدر) أدنى قراءة (التشهد) إلى عبده ورسوله۔۔۔ (الخروج بصنعه)" ترجمہ: نماز کے فرائض کہ جن کے بغیر نماز صحیح نہیں ہوتی یہ ہیں: (1) حالت قیام میں تکبیر تحریمہ کہنا، (2) قیام، اس طرح کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنوں تک نہ پہنچیں اور یہ قراءت کی مقدار کے مطابق فرض، واجب، سنت اور مستحب ہوتا ہے۔ (3) قراءت، (4) رکوع، اس طرح کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنوں تک پہنچ جائیں۔ (5) پیشانی اور قدموں کے ساتھ سجدہ کرنا، اور دونوں پاؤں کی انگلیوں میں سے ایک انگلی کا لگنا شرط ہے۔ (6) تشہد کی ادنی مقدار یعنی عبدہ و رسولہ تک قعدہ اخیرہ، (7) خروج بصنعہ۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 158 تا 170، مطبوعہ: کوئٹہ)

تنوير الابصار میں ہے "من فرائضهاالتحريمة" ترجمہ: نماز کے فرائض میں سے ہے تکبیر تحریمہ کہنا۔

اس کے تحت رد المحتار میں ہے "المراد بها جملة ذكر خالص. مثل: اللہ أكبر" ترجمہ: تحریمہ سے مراد خالص ذکر الہی والا جملہ بولنا ہے، جیسے اللہ اکبر کہنا۔ (تنوير الابصار و در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 158، مطبوعہ: کوئٹہ)

ہدایہ میں ہے "فإن قال بدل التكبير اللہ أجل أو أعظم أو الرحمن أكبر أو لا إله إلا اللہ أو غيره من أسماء اللہ تعالى أجزأه" ترجمہ: اگر اس نے تکبیر کی جگہ اللہ أجل یا أعظم یا الرحمن أكبر یا لا إله إلا الله یا اس کے علاوہ اللہ تعالی کے نام ذکر کیے تو اسے کافی ہے (نماز ہو جائے گی)۔ (ہدایہ، جلد 1، صفحہ 99، مطبوعہ: لاہور)

اور کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی نماز کے متعلق در مختار ميں ہے "كل صلاة أديت مع كراهة التحريم تجب إعادتها" ترجمہ: کراہت تحریمی کے ساتھ ادا کی گئی ہر نماز کا دہرانا واجب ہے۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 182، مطبوعہ: کوئٹہ)

بہارِ شریعت میں ہے "سات چیزیں نماز میں فرض ہیں: (۱) تکبیر تحریمہ (۲) قیام (۳) قراء ت (۴) رکوع (۵) سجدہ (۶) قعدہ اخیرہ (۷) خروج بصنعہ ۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 508، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

بہار شریعت میں ہے "اَللہُ اَجَلُّ یا اَللہُ اَعْظَمُ یا اَللہُ کَبِیْرٌ یا اَللہُ الْاَکْبَرُ یا اَللہُ الْکَبِیْرُ یا اَلرَّحْمٰنُ اَکْبَرُ یا اَللہُ اِلٰـہٌ یا لَا اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ یا سُبْحَانَ اللہُ یا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ یا لَا اِلٰـہَ غَیْرُہٗ یا تَبَارَکَ اللہُ وغيرہا الفاظ تعظیمی کہے، تو ان سے بھی ابتدا ہوجائے گی مگر یہ تبدیل مکروہ تحریمی ہے۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 509، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

بہارِ شریعت میں ہے "قیام کمی کی جانب اس کی حد یہ ہے کہ ہاتھ پھیلائے تو گھٹنوں تک نہ پہنچیں اور پورا قیام یہ ہے کہ سیدھا کھڑا ہو۔۔۔قراء ت اس کا نام ہے کہ تمام حروف مخارج سے ادا کيے جائیں، کہ ہر حرف غیر سے صحیح طور پر ممتاز ہو جائے اور آہستہ پڑھنے میں بھی اتنا ہونا ضرور ہے کہ خود سنے، اگر حروف کی تصحیح تو کی مگر اس قدر آہستہ کہ خود نہ سنا اور کوئی مانع مثلاً شور و غل یا ثقل سماعت بھی نہیں، تو نماز نہ ہوئی۔ ۔۔ رکوع: اتنا جھکنا کہ ہاتھ بڑھائے تو گھٹنے کو پہنچ جائیں، یہ رکوع کا ادنیٰ درجہ ہے۔ اور پورا یہ کہ پیٹھ سيدھی بچھاوے۔۔۔ ( سجدہ:) پیشانی کا زمین پر جمنا سجدہ کی حقیقت ہے اور پاؤں کی ایک انگلی کا پیٹ لگنا شرط۔ تو اگر کسی نے اس طرح سجدہ کیا کہ دونوں پاؤں زمین سے اٹھے رہے، نماز نہ ہوئی بلکہ اگر صرف انگلی کی نوک زمین سے لگی، جب بھی نہ ہوئی اس مسئلہ سے بہت لوگ غافل ہیں۔…ناک کی ہڈی زمین پر لگنا ضرور ہے۔۔۔قعدہ اخیرہ: نماز کی رکعتیں پوری کرنے کے بعد اتنی دیر تک بیٹھنا کہ پوری التحیات یعنی رسولہ تک پڑھ لی جائے، فرض ہے ۔ ۔۔ خروج بصنعہ یعنی قعدۂ اخیرہ کے بعد سلام و کلام وغیرہ کوئی ایسا فعل جو منافی نماز ہو بقصد کرنا، مگر سلام کے علاوہ کوئی دوسرا منافی قصداً پایا گیا، تو نماز واجب الاعادہ ہوئی اور بلاقصد کوئی منافی پایا گیا تو نماز باطل ۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 509 تا 516، مکتبۃ المدینۃ، کراچی )

فتاویٰ امجدیہ میں ہے "سجدہ میں پیشانی کا زمین پر جمنا فرض ہے اور ناک اس طرح جمانا کہ جو حصہ ناک کا نرم ہے، اس کے دبنے کے بعد ناک کی ہڈی زمین پر جَم جائے یہ واجب، اگر ناک کی نوک زمین سے چھو گئی اور ہڈی نہ لگی، نماز واجب الاعادہ ہوئی، حدیث میں ارشاد ہوا ”امرت ان اسجد علی سبعۃ اعظم واشار الی انفہ“ یعنی پیشانی زمین پر لگنے کا یہ مطلب ہے کہ ناک کی ہڈی بھی زمین ہر لگ جائے ۔" (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 84، 85، مکتبہ رضویہ، کراچی)

نماز کے شرائط و فرائض اور واجبات سے متعلق دیگر احکام اور مزید تفصیل جاننے کے لیے "بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3"کا مطالعہ کیجئے، اور یہ کتاب آپ کو دعوتِ اسلامی کے ناشر ادارہ "مکتبۃ المدینہ" سے مل سکتی ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5210
تاریخ اجراء: 03 صفر المظفر 1448ھ/18 جولائی 2026ء