چوتھی رکعت پر قعدہ نہ کیا تو نماز کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام نے چوتھی رکعت پر قعدہ نہ کیا تو نماز کا حکم
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
امام صاحب نے چار رکعات والی فرض نماز میں پانچ رکعتیں پڑھائی ہیں، قعدہ اولی ٹھیک کیا ہے، تیسری پر پھر بیٹھ گئے، چوتھی پر کھڑے ہو گئے، بالکل قعدہ نہیں کیا، پانچویں میں پھر بیٹھ گئے، پانچویں کے بعد سجدہ سہو کر لیا، کیا سجدہ سہو سے نماز ہو جائے گی؟ یا نماز دوبارہ پڑھنی ہو گی؟
جواب
چار رکعتوں والی نماز کے حوالے سے بیان کی گئی صورت میں یہ نماز درست نہیں ہوئی، بلکہ دوبارہ پڑھنی ہو گی؛ کیونکہ اگر کوئی شخص چار رکعتوں والی نماز کی چوتھی رکعت کے بعد قعدہ نہ کرے، اور پانچویں کا سجدہ کر لے تو اس کے فرض باطل ہو جاتے ہیں۔
کنز الدقائق میں ہے "وإن سها عن الأخير عاد ما لم يسجد وسجد للسّهو فإن سجد بطل فرضه برفعه وصارت نفلًا" ترجمہ: اور اگر وہ قعدہ اخیرہ بھول گیا، تو جب تک سجدہ نہ کر لے، واپس لوٹ آئے اور سجدہ سہو کرے، پس اگر اس نے سجدہ کر لیا، تو سجدے سے سر اٹھاتے ہی اس کے فرض باطل ہو جائیں گے، اور نفل ہو جائیں گے۔ (کنز الدقائق، صفحہ 182، دار البشائر الإسلامية)
بہار شریعت میں ہے "قعدۂ اخیرہ بھول گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کرے ۔۔۔اور اگر اس رکعت کا سجدہ کر لیا تو سجدہ سے سر اٹھاتے ہی وہ فرض نفل ہوگیا لہٰذا اگر چاہے تو علاوہ مغرب کے اور نمازوں میں ایک رکعت اور ملالے کہ شفع پورا ہو جائے اور طاق رکعت نہ رہے اگرچہ وہ نماز فجر یا عصر ہو مغرب میں اور نہ ملائے کہ چار پوری ہوگئیں۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 712، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5389
تاریخ اجراء:25 ربیع الاول 1448ھ/08 ستمبر 2026ء