logo logo
AI Search

قعدہ اخیرہ میں التحیات پڑھ کر کھڑے ہوگئے تو نماز کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

قعدہ اخیرہ میں تشہد پڑھ کر کھڑے ہونے کے بعد بیٹھ جانے سے نماز کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ میں نے عشا کے بعد کی سنتوں میں دوسری رکعت پر التحیات پڑھی اور غلطی سے کھڑا ہو گیا، پھر یاد آیا تو بیٹھ گیا اور التحیات پڑھ کر سلام پھیر دیا تو کیا وہ نماز ہو گئی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں آپ پر عشا کی وہ دو سنتیں واجب الاعادہ ہیں، یعنی ان کا دہرانا آپ پر لازم ہے۔

تفصیل اس کی یوں ہے کہ جب کوئی قعدۂ اخیرہ میں تشہد کی مقدار بیٹھنے کے بعد بھولے سے کھڑا ہو جائے تو اسے حکم ہے کہ یاد آنے پر جب تک اس زائد رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو واپس لوٹ کر بیٹھ جائے اور بغیر تشہد دہرائے، سجدۂ سہو کرے، پھر حسب دستور التحیات پڑھ کر سلام پھیر دے، اس کی نماز ہو جائے گی۔ یہ سجدۂ سہو بھولے سے کھڑے ہو جانے کی وجہ سے سلام میں واقع ہونے والی تاخیر کی تلافی کے لیے واجب ہوتا ہے اور سجدۂ سہو واجب ہونے کے باوجود نہ کرنے کی صورت میں نماز واجب الاعادہ ہوتی ہے، لہذا آپ پر بھی سجدۂ سہو نہ کرنے کے سبب یہی حکم ہوگا۔

واضح رہے کہ قعدے کی طرف لوٹنے کے بعد سجدۂ سہو سے پہلے تشہد یعنی التحیات کا اعادہ نہیں کرتے؛ اس لیے کہ زائد قیام پہلے پڑھی ہوئی تشہد کو باطل نہیں کرتا۔ البتہ آپ نے دوبارہ جو تشہد پڑھ لی اس کی وجہ سے نماز میں مزید کوئی خرابی نہیں آئی؛ کیونکہ قعدۂ اخیرہ میں تشہد کا تکرار کسی فرض یا واجب کے ترک کا موجب نہیں، بلکہ قعدۂ اخیرہ میں تشہد کے بعد ذکر اور دعا ہی کا محل ہے اور تشہد خود ثناء و ذکر پر مشتمل ہے۔

علامہ محدث محمد عابد بن احمد سندی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1257ھ/1841ء) لکھتے ہیں: ”وإن قعد في ثانية الثنائي قدر التشهد ثم قام سهوا في الثنائي عاد الى القعود وسلم لان التسليم في حالة القيام غير مشروع وامكنته الاقامة على الوجه المشروع بالقعود لان ما دون الركعة بمحل الرفض فليقعد حتى يأتي بالسلام في موضعه واذا عاد لا يعيد التشهد“ ترجمہ: اور اگر دو رکعت والی نماز کی دوسری رکعت میں بقدرِ تشہد قعدہ کر لیا پھر اس دو رکعتی نماز میں بھول کر (تیسری رکعت کے لیے) کھڑا ہو گیا تو قعدے کی طرف لوٹ آئے اور سلام پھیر دے؛ کیونکہ کھڑے ہونے کی حالت میں سلام مشروع نہیں اور بیٹھنے کے ذریعے اسے مشروع طریقے پر قائم رکھنا ممکن ہے؛ کیونکہ ایک رکعت سے کم نماز محلِ رفض میں ہوتی ہے (یعنی اسے بضرورت ترک کر دیا جاتا ہے) ، لہذا اسے چاہیے کہ بیٹھ جائے تاکہ سلام کو اس کی جگہ پر ادا کرے، اور جب واپس لوٹے تو تشہد کا اعادہ نہیں کرے گا۔ (طوالع الأنوار شرح الدر المختار، کتاب الصلاة، باب سجود السهو، جلد 2، صفحہ 376- 377 ملخصاً، مخطوطه)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”فانما وجب السجود لنقصان فرضه بتأخير السلام الذي هو واجب عن محله وكان ذلك عقيب فراغه من التشهد والصلاة والادعية فحيث تخلل القيام في الصورة الاولى كان من حقه جبره بالسجود“ ترجمہ: پس سجدۂ سہو سلام کو جو کہ واجب ہے اس کے محل سے مؤخر کر دینے کے سبب اس کے فرض میں (واقع ہونے والے) نقصان کی وجہ سے واجب ہوا، اور سلام کا محل تشہد، درود پاک اور دعاؤں سے اس کے فارغ ہونے کے فوراً بعد تھا، پس جب اس پہلی صورت (یعنی قعدہ کر کے بھولے سے کھڑے ہونے اور بغیر سجدہ کیے واپس لوٹ آنے کی صورت) کے اندر درمیان میں قیام آ گیا تو سجدۂ سہو کے ذریعے اس نقصان کی تلافی کرنا اس کا حق ہوا۔ (طوالع الأنوار شرح الدر المختار، کتاب الصلاة، باب سجود السهو، جلد 2، صفحہ 378- 379، مخطوطه)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”اگر بقدر تشہد قعدۂ اخیرہ کر چکا ہے اور کھڑا ہو گیا تو جب تک اس رکعت کا سجدہ نہ کیا ہو لوٹ آئے اور سجدۂ سہو کر کے سلام پھیر دے اور اگر قیام ہی کی حالت میں سلام پھیر دیا تو بھی نماز ہو جائے گی، مگر سنت ترک ہوئی۔ “ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 712، مکتبة المدینہ، کراچی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: ”اگر سہواً واجب ترک ہوا اور سجدۂ سہو نہ کیا، جب بھی اعادہ واجب ہے۔“ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 708، مکتبة المدینہ، کراچی)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ/1921ء) سے سوال ہوا ”قعدۂ اخیرہ کے بعد گمان ہوا کہ یہ قعدہ اولی تھا، کھڑا ہو گیا اور قبل سجدہ کے یاد آگیا تو اب عود کر کے دوبارہ التحیات پڑھ کر سجدۂ سہو میں جائے یا ویسے سجدہ کو چلا جائے؟“ تو فرمایا: ”عود کر کے بیٹھنا چاہیے اور معاً سجدۂ سہو میں چلا جائے، دوبارہ التحیات نہ پڑھے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 183، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ صورت مذکورہ کے متعلق فرماتے ہیں: ”"عاد وسلم" من دون تشهد لأن القيام الزائد لا يرفع التشهد الصحيح“ ترجمہ: وہ واپس لوٹے اور تشہد کے (دوبارہ پڑھے) بغیر سلام پھیر دے؛ کیونکہ زائد قیام صحیح تشہد کو ختم نہیں کرتا۔ (جد الممتار علی رد المحتار، کتاب الصلاة، باب سجود السهو، جلد 3، صفحہ 540، مکتبة المدینه کراچی)

علامہ زین الدین بن ابراہیم ابن نجیم مصری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 970ھ/1562ء) لکھتے ہیں: ”ولو كرر التشهد في القعدة الأخيرة فلا سهو عليه“ ترجمہ: اور اگر کوئی قعدۂ اخیرہ میں تشہد کو دہرائے تو اس پر سجدۂ سہو نہیں ہے۔ (البحر الرائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصلاة، باب سجود السهو، جلد 2، صفحہ 105، دار الكتاب الإسلامي)

علامہ فخر الدین عثمان بن علی زیلعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 743ھ/1342ء) لکھتے ہیں: ”ولو كرره في القعدة الثانية فلا سهو عليه؛ لأنها محل للذكر والدعاء“ ترجمہ: اور اگر اس نے دوسرے (آخری) قعدے میں تشہد کو دوبارہ پڑھا تو اس پر سجدۂ سہو نہیں؛ کیونکہ یہ ذکر اور دعا کا محل ہے۔ (تبیین الحقائق شرح کنز الدقائق، کتاب الصلاة، باب سجود السهو، جلد 1، صفحہ 193، المطبعة الكبرى الأميري)

امام شمس الائمہ محمد بن احمد سرخسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 483ھ/ 1090ء) لکھتے ہیں: ”التشهد ثناء على اللہ تعالى“ ترجمہ: تشہد اللہ تعالیٰ کی ثنا ہے۔ (المبسوط للسرخسي، کتاب الصلاة، جلد 1، صفحہ 29، دار المعرفة، بیروت)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-1281

تاریخ اجراء: 14 صفر المظفر 1448ھ/29 جولائی 2026ء