logo logo
AI Search

وتر میں قنوت کے بعد تکبیر کہنا کیسا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

وتر میں دعائے قنوت پڑھ لینے کے بعد بھولے سے پھر تکبیر کہہ کر ثنا پڑھنا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

دعائے قنوت پڑھنے کے بعددوبارہ بھولے سے تکبیر کہہ کر ثنا پڑھ لی، تو اس سے نماز میں کوئی نقصان نہیں آیا، اگر کوئی اور خرابی نہیں پائی گئی، تو نماز درست ہوگئی۔ تفصیل اس میں یہ ہے کہ:

پہلی مرتبہ جب تکبیر قنوت کہی گئی، تو اب اس کے بعد جتنی دیر قیام کیا، وہ سارا دعا کرنے کا موقع ہے، اور دعا میں کوئی خاص الفاظ ادا کرنے ضروری نہیں، معروف دعائے قنوت بھی دعا ہے، تکبیر بھی دعا ہے، اور ثنا بھی دعا ہے، کیونکہ یہ سب اللہ تعالی کا ذکر ہے، اور اللہ تعالی کا ہر ذکر دعا ہے، لہذا دعائے قنوت کے بعد جو تکبیر کہی، اور اس کے بعد جو ثنا پڑھی، تو یو ں یہ دونوں بھی درحقیقت دعا ہی میں شامل ہیں، اور یہ سارا موقع، دعا ہی کا موقع ہے، اور دعا کے موقع پر دعا کرنے میں کوئی حرج نہیں، لہذا اس موقع پر ان کے پڑھنے سے نماز میں کوئی نقصان نہیں آیا۔

حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح میں ہے ”(و يجب قراءة قنوت الوتر) المراد انه واجب صلاة الوتر لا واجب مطلق الصلاة و المراد مطلق الدعاء و اما خصوص اللّٰهم الخ فسنة حتى لو اتى بغيره جاز اجماعا نهر و القنوت في اللغة مطلق الدعاء فالاضافة حينئذ للبيان اي دعاء هو القنوت و يطلق ايضا على طول القيام فالإضافة حينئذ حقيقية اي دعاء القيام و في الشرع هو الدعاء الواقع في قيام ثالثة صلاة الوتر“ ترجمہ: (مصنف کا قول) ’’اور وتر کے قنوت کی قراءت واجب ہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ نمازِ وتر کا واجب ہے، مطلق نماز کا واجب نہیں ہے۔ اور (اس واجب سے) مراد ’’مطلق دعا“ ہے (یعنی کوئی سی بھی دعا پڑھ لینا واجب ہے)۔ رہا مسئلہ مخصوص دعا ’’اللّٰھم إنا نستعینک ۔ ۔ آخر تک“، تو وہ سنت ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی اس کے علاوہ پڑھ لے، تو بالاجماع جائز ہے، جیسا کہ نہر الفائق میں ہے۔ اور ’’قنوت“ لغت میں ’’مطلق دعا“ کو کہتے ہیں، تو اس وقت (لفظِ قنوت کی) اضافت بیانیہ ہوگی، یعنی وہ دعا جو قنوت ہے۔ اور قنوت کا اطلاق طویل قیام پر بھی ہوتا ہے، اس صورت میں اضافت حقیقی ہوگی، یعنی قیام والی دعا۔ اور شرع میں قنوت اس دعا کو کہتے ہیں جو نمازِ وتر کی تیسری رکعت کے قیام میں واقع ہو۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح، مطبوعہ: کوئٹہ)

ہر ذکر دعا ہے، چنانچہ علامہ علی قاری رحمۃ اللہ علیہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں فرماتے ہیں: "فان کل دعاء ذکر و کل ذکر دعاء" ترجمہ: بےشک ہر دعا ذکر ہے اور ہر ذکر دعا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، کتاب الدعوات، جلد 05، صفحہ 218، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی رضویہ میں ہے ”دعائے قنوت اگر یاد نہیں، یاد کرنا چاہیے کہ خاص اس کا پڑھنا سنت ہے اور جب تک یاد نہ ہو ”اَللّٰھم ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ و فی الآخرۃ حسنۃ و قنا عذاب النار“ پڑھ لیا کرے۔ یہ بھی یاد نہ ہو، تو ”اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ“ تین بار کہہ لیا کرے۔ یہ بھی نہ آتا ہو، تو صرف ”یا ربِّ“ تین بار کہہ لے، واجب ادا ہو جائے گا۔ رہا یہ کہ قُل ھو اللہ شریف پڑھنے سے بھی یہ واجب ادا ہوا کہ نہیں۔ ۔ ۔ ظاہر یہ ہے کہ ادا ہو گیا کہ وہ ثناء ہے اور ہر ثناء دعا ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 7، صفحہ 485، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

 لہٰذا جب یہ مقامِ دعا ہے، تو اس مقام پر تکبیر کہنے اور ثناء پڑھ لینے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا۔ جیسا کہ حلبۃ المجلی میں ہے ”ان ذکر الشیئ فیما ھو محل لہ عینا او حسا لا یوجب سجود السھو“ ترجمہ: کسی چیز کو ایسے مقام میں ذکر کرنا جو عیناً یا حساً اس کا محل ہو، یہ سجدۂ سہو کو واجب نہیں کرتا۔ (حلبۃ المجلی، جلد 2، صفحہ 446، دار الکتب العلمیۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5383
تاریخ اجراء: 22 ربیع الاول 1448ھ / 05 ستمبر 2026ء