نماز کی نیت زبان سے کرنا ضروری ہے؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
کیا نماز کی نیت زبان سے کرنا ضروری ہے اور الفاظ یاد نہ ہوں تو پھر کیا کرے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا نیت کے لیے زبان سے مخصوص الفاظ ادا کرنا ضروری ہیں یا صرف دل میں نماز کا ارادہ کرلینا کافی ہے؟ اگر کسی شخص کو نیت کے الفاظ یاد نہ ہوں تو وہ نماز کی نیت کس طرح کرے؟
جواب
نماز کی نیت کے لیے زبان سے مخصوص الفاظ ادا کرنا ضروری نہیں ہے، کیونکہ نیت دل کے پختہ ارادے کا نام ہے۔ لہٰذا اگر کسی شخص کو نیت کے الفاظ یاد نہ ہوں، لیکن اس کے دل میں یہ پختہ ارادہ موجود ہو کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے فلاں نماز ادا کر رہا ہے، تو اس کی یہ نیت درست ہے اور نماز درست ہونے کی بقیہ شرائط بھی پائی جائیں، تو نماز ادا ہوجائے گی۔ تاہم، دل میں نیت ہونے کے ساتھ ساتھ زبان سے بھی نیت کے الفاظ ادا کرنا مستحب ہے، کیونکہ انسان کے دل میں مختلف خیالات آتے رہتے ہیں اور نیت کو ذہن میں حاضر رکھنا بعض اوقات مشکل ہوتا ہے۔ زبان سے نیت کے کلمات ادا کرنے سے دل کو بھی نیت کی طرف متوجہ رکھنے میں مدد ملتی ہے۔
محیط برہانی میں ہے: ”هل يستحب أن يتكلم بلسانه؟ اختلف المشايخ فيه، بعضهم قالوا: لا، لأن اللہ تعالى مطلع على الضمائر، وبعضهم قالوا: يستحب وهو المختار، وإليه أشار محمد رحمه اللہ في أول كتاب المناسك‘‘ ترجمہ: کیا زبان سے نیت کرنا مستحب ہے؟ تو اس بارے میں مشائخ کا اختلاف ہے، بعض نے استحباب کی نفی کی ہے، کیونکہ اللہ تعالی باطن کو جانتا ہے، اور بعض مشائخ نے فرمایا کہ یہ مستحب ہے اور یہی مختار قول ہے، اور اسی کی طرف امام محمد رحمہ اللہ تعالی نے کتاب المناسک کی ابتداء میں اشارہ فرمایا ہے۔ (المحيط البرهانی، جلد 1، صفحہ 28، طبع ادارة التراث الاسلامی، لبنان)
خلاصۃ الفتاوی میں ہے: ”أما أصلها أن يقصد بقلبه فإن قصد بقلبه وذكر بلسانه كان أفضل‘‘ ترجمہ: نیت کی اصل یہ ہے کہ دل سے ارادہ کیا جائے، اگر کسی نے اپنے دل میں ارادہ کیا اور زبان سے تلفظ بھی کیا، تو یہ افضل ہے۔ (خلاصة الفتاوی، جلد 1، صفحہ 79، کوئٹہ)
علامہ شامی رحمۃ اللہ تعالی علیہ در مختار کے قول "بدعت" کے تحت فرماتے ہیں: ’’نقله في الفتح، وقال في الحلبة: ولعل الأشبه أنه بدعة حسنة عند قصد جمع العزيمة لأن الإنسان قد يغلب عليه تفرق خاطره، وقد استفاض ظهور العمل به في كثير من الأعصار في عامة الأمصار فلا جرم أنه ذهب في المبسوط والهداية والكافي إلى أنه إن فعله ليجمع عزيمة قلبه فحسن، فيندفع ما قيل إنه يكره‘‘ ترجمہ اس کا بدعت ہونا فتح القدیر میں نقل کیا ہے، حلبہ میں فرمایا: زیادہ لائق یہ ہے کہ ارادے کی پختگی کے حصول کے لیے یہ بدعت حسنہ ہے، اس لیے کہ انسان کے دل پر مختلف خیالات کا غلبہ رہتا ہے، پھر اکثر شہروں میں ایک طویل عرصہ سے اس پر عمل معروف ہے، لا جرم مبسوط ہدایہ اور کافی میں یہ مذہب اختیار کیا ہے کہ اگر وہ زبان سے نیت کرتا ہے تاکہ دل کا ارادہ پختہ ہو، تو یہ اچھا ہے، لہذا جو اس کو مکروہ کہا گیا وہ (شبہ) دور ہوگیا۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 114، 113 طبع كوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5376
تاریخ اجراء: 07 ربیع الاول 1448ھ/21 اگست 2026ء