logo logo
AI Search

آخری وقت میں بغیر وضو نماز پڑھنے کا شرعی حکم اور اس کی قضا

بسم اللہ الرحمن الرحیم

آخری وقت میں بلا وضو نماز پڑھ لی، تو کیاحکم ہے؟

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

سفر سے میں واپس آیا تو ابھی عصر کی نماز کا وقت تھا کھانا کھانے کے بعد جب میں نے دیکھا تو نماز کا وقت ختم ہونے میں پانچ منٹ باقی تھے، میرا وضو بھی نہیں تھا میں نے بغیر وضو کے عصر کی نماز ادا کر لی اور ادا کرتے ہوئے وقت بھی گزر گیا اب کیا مجھے اس کا گناہ ہوگا یا نہیں اور کیا یہ نماز مجھے دوبارہ ادا کرنا پڑے گی؟

جواب

بغیر وضونماز پڑھی تووہ نماز سرے سے ادا ہی نہ ہوئی ہے کہ نماز کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط طہارت بھی ہے۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت کے مطابق مذکورہ نمازِ عصر کی قضا پڑھنا فرض ہے ۔

یادرہے! جان بوجھ کر بغیر طہارت کے نماز پڑھنا ناجائز و حرام ہے اور اگرنمازکی تحقیرکی نیت ہوتواس صورت میں یہ کفر بھی ہے ، نیز عصر کی نماز میں بلاوجہِ شرعی اتنی تاخیر کرنا کہ مکروہ وقت (جوکہ غروبِ آفتاب سے تقریباً 20 منٹ قبل شروع ہوجاتا ہے ) داخل ہو تو یہ بھی گناہ ہے، لہٰذا اپنے اس عمل پر اللہ پاک کی بارگارہ میں سچی توبہ کرنا آور آئندہ کے لئے اس طرح کرنے سے بچنا بھی شرعاً لازم ہے۔

نیز یہ بھی ذہن نشین رہے کہ پوچھی گئی صورت میں تیمم کی بھی اجازت نہیں ، کیونکہ نماز ِعصر میں ضروری نہیں کہ نماز کے وقت میں ہی اس کا سلام بھی پھیرلیا جائے ، بلکہ صرف تکبیر تحریمہ کا نمازِ عصر کے وقت میں ہونا ضروری ہے۔اور پانچ منٹ میں جلد وضو کرکے (یعنی وضو کے فرائض ، ایک ایک بار تینوں اعضائے وضو دھو کر نیز سر کا مسح کرکے) تکبیرِ تحریمہ کہہ کر غروب آفتاب سے پہلے نماز شروع کی جاسکتی ہے۔

بہار شریعت میں ہے:”نماز کے لیے طہارت ایسی ضروری چیزہے کہ بے اس کے نماز ہوتی ہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر بے طہارت نماز ادا کرنے کو علما کفر لکھتے ہیں۔“(بہارِ شریعت، جلد 01، صفحہ 282، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا جمیل احمد غوری عطاری مدنی

فتویٰ نمبر: Web-2449

تاریخ اجرا: 15ربیع الاول1447ھ/09ستمبر2025ء