logo logo
AI Search

پانچ نمازوں کے علاوہ اذان کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نماز پنجگانہ کے علاوہ نمازوں کے لیے اذان کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

نمازِ پنجگانہ اور نمازِ جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں، مثلاً وتر، عیدین، نمازِ جنازہ اور تراویح وغیرہ کے لیے شریعتِ مطہرہ میں اذان و اقامت کا ثبوت نہیں۔ لہٰذا ان نمازوں کے لیے اذان و اقامت دینے کی اجازت نہیں۔

حلبی کبیری میں ہے: ”یصلی الامام بالناس رکعتین بلا اذان و لا اقامۃ لما فی الصحیحین: سئل ابن عباس:شھدت مع رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم العید، قال: نعم خرج رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم فصلی ثم خطب و لم یذکر اذانا و لا اقامۃ و لانہ المتوارث و علیہ الاجماع“ ترجمہ: امام لوگوں کو (عیدین کی) دو رکعت نماز پڑھائے گا، بغیر اذان اور اقامت کے۔ جیسا کہ صحیحین میں ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا: کیا آپ نے رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ عید کی نماز میں حاضری دی تھی؟ انہوں نے فرمایا: ہاں۔ پھر بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم باہر تشریف لائے، نماز پڑھائی، پھر خطبہ دیا، اور اس روایت میں اذان یا اقامت کا ذکر نہیں کیا۔ نیز عید کی نماز بغیر اذان و اقامت کے ادا کرنا امت میں متوارث (مسلسل چلا آنے والا عمل) ہے اور اسی پر اجماع ہے۔ (حلبی کبیری، صفحہ 567، مطبوعہ کراچی)

فتاوی عالمگیری میں ہے: ”الأذان سنة لأداء المكتوبات بالجماعة. كذا في فتاوى قاضي خان و قيل: إنه واجب و الصحيح أنه سنة مؤكدة ۔ ۔ ۔ و ليس لغير الصلوات الخمس و الجمعة نحو السنن و الوتر و التطوعات و التراويح و العيدين أذان و لا إقامة كذا في المحيط و كذا للمنذورة وصلاة الجنازة و الاستسقاء و الضحى و الإفزاع“ ترجمہ: اذان باجماعت ادا کی جانے والی فرض نمازوں کے لیے سنت ہے، جیسا کہ فتاویٰ قاضی خان میں مذکور ہے۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اذان واجب ہے، لیکن صحیح اور راجح قول یہ ہے کہ اذان سنتِ مؤکدہ ہے۔ پانچ وقت کی فرض نمازوں اور جمعہ کے علاوہ دیگر نمازوں، مثلاً: سنت نمازیں، وتر، نفل نمازیں، تراویح، عیدین، ان میں نہ اذان ہے اور نہ اقامت، جیسا کہ المحیط میں مذکور ہے۔ اسی طرح منت والی نماز، نمازِ جنازہ، نمازِ استسقاء (بارش کی دعا کی نماز)، نمازِ ضحیٰ (چاشت)، اور نمازِ اِفزاع (خوف و ہراس کے وقت پڑھی جانے والی نماز) کے لیے بھی نہ اذان ہے اور نہ اقامت۔ (فتاوی عالمگیری، الباب الثانی فی الأذان، جلد 01، صفحہ 53، مطبوعہ کوئٹہ)

مبسوط سرخسی میں ہے: ”(و ليس لغير الصلوات الخمس و الجمعة أذان و لا إقامة) ۔ ۔ ۔و كذلك توارثه الناس إلى يومناهذا“ ترجمہ: نمازِ پنجگانہ اور جمعہ کے علاوہ نمازوں کے لئےاذان و اقامت مشروع نہیں اور آج تک لوگوں میں یہی عمل چلتا آرہا ہے۔ (المبسوط، جلد 1، صفحہ 134، مطبوعہ دار المعرفۃ، بیروت، لبنان)

"شرح السنۃ" میں اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے امام بغوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فرماتے ہیں: ”لأنه لم يؤذن على عهد رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم لغيرها“ ترجمہ: کیونکہ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کی ظاہری حیات مبارکہ میں ان کے علاوہ کسی نماز کے لئے اذان نہیں دی گئی۔ (شرح السنة للبغوي، جلد 2، صفحہ 311، مطبوعہ بیروت)

امام ترمذی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”و العمل عليه عند أهل العلم من أصحاب النبي صلى اللہ عليه و سلم و غيرهم“ ترجمہ: نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کے صحابہ کرام، ان کے بعد اہلِ علم کا اسی پرعمل رہا ہے۔ (سننِ ترمذی، صفحہ 223، رقم الحدیث 532،دار ابن کثیر،دمشق)

صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ لکھتے ہیں: ”فرائض کے سوا باقی نمازوں مثلاً وتر، جنازہ، عیدین، نذر، سنن، رواتب، تراویح، استسقاء، چاشت، کسوف، خسوف، نوافل میں اذان نہیں۔“ (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 465، مکتبۃ المدینہ کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5356
تاریخ اجراء: 01 ربیع الاول 1448ھ / 15 اگست 2026ء