logo logo
AI Search

فرض قراءت سے زائد میں غلطی ہونے پر نماز کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

فرض قراءت سے زائد قراءت میں غلطی ہونے پر نماز کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ دوران نماز، ایک آیت پڑھنا فرض ہے، اگر کسی شخص نے ایک آیت سے زیادہ پڑھا، اور اس اضافے میں غلطی کردی، تو کیا نماز فاسد ہوگی ؟

جواب

دوران نماز قراءت کرتے وقت ایسی غلطی ہو جائے، جس کی وجہ سے معنی فاسد ہو، اور اس کی اصلاح نہ کی گئی، تو نماز فاسد ہو جاتی ہے، اور اس میں قراءت کی کوئی مقدار مقرر نہیں، پوری قراءت میں کہیں بھی ایسی غلطی کی کہ جس سے معنی فاسد ہو گئے، اور اس کی اصلاح نہ کی، تو نماز فاسد ہو جائے گی۔ فتاوی رضویہ میں سوال ہوا "امام کو تین آیتوں کے بعد غلطی ہوئی معنٰی بگڑ گیا۔۔۔۔ اس حالت میں نماز ہوگئی یا نہیں؟"

اس کے جواب میں امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ الرحمۃ نے فرمایا: "فسادِ معنی اگر ہزار آیت کے بعد ہو نماز جاتی رہے گی۔" (فتاوٰی رضویہ، جلد 06، صفحہ 351، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

بہار شریعت میں صدر الشریعہ علیہ الرحمۃ نماز میں کی جانے والی قراءت میں ہونے والی غلطی کے متعلق قاعدہ بیان کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں: ”اس باب میں قاعدہ کلیہ یہ ہے کہ اگر ایسی غلطی ہوئی جس سے معنی بگڑ گئے، نماز فاسد ہو گئی ورنہ نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 554، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد حسان عطاری مدنی

فتوی نمبر: WAT-5367

تاریخ اجراء: 19 ربیع الاول 1448ھ/02 ستمبر 2026ء