مسجد میں موبائل پر گیم کھیلنا کیسا؟
بسم اللہ الرحمن الرحيم
مسجد میں موبائل پر ویڈیو گیمز کھیلنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
جواب
ایسی گیمز، جنہیں محض لہو و لعب اور وقت گزاری کے لیے کھیلا جاتا ہے، خواہ موبائل پر ہوں، کمپیوٹر پر یا کسی اور ذریعے سے، شرعاً ممنوع ہیں، کیونکہ مسلمان کے لیے اپنے قیمتی وقت کو بے مقصد مشاغل میں ضائع کرنا درست نہیں، خصوصاً موجودہ دور کی بہت سی گیمز میں موسیقی، بے پردگی وغیرہ غیر شرعی امور پائے جاتے ہیں، بلکہ بعض گیمز میں اسلامی شعائر اور دینی مقدسات کی توہین کا پہلو بھی شامل ہوتا ہے، تو ایسی گیمز کا کھیلنا سخت گناہ کا کام ہے۔
رہی بات مسجد میں ایسی گیمیں کھیلنے کی، تو مسجد اللہ تعالیٰ کا مقدس گھر اور شعائرِ الٰہی میں سے ہے، جسے نماز، ذکر، تلاوت، تعلیمِ دین اور دیگر عبادات کے لیے بنایا گیا ہے، اس لیے مسجد میں انتہائی ادب، سکون، وقار اور خشوع کے ساتھ رہنا چاہیے، اور ہر اس کام سے بچنا لازم ہے، جو مسجد کے تقدس اور مقصد کے خلاف ہو، جبکہ مسجدمیں گیمیں کھیلنا مسجد کے مقصد اور تقدس دونوں کے خلاف ہے، جو کہ سخت ممنوع ہے، اور گناہوں پر مشتمل ہوں، تو مزید سخت ناجائزو گناہ کا کام ہے، لہذا لازم ہے کہ مسجدوں کو اس طرح کے مشاغل سے پاک صاف رکھا جائے۔
تین کھیلوں کے سوا بقیہ کھیل باطل ہیں، چنانچہ جامع ترمذی اور ابن ماجہ وغیرہ کتب احادیث میں نبی مکرم صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد گرامی ہے: (و اللفظ للأول) ’’كل ما يلهو به الرجل المسلم باطل، إلا رميه بقوسه، و تأديبه فرسه، و ملاعبته أهله، فإنهن من الحق‘‘ ترجمہ: مسلمان آدمی جتنی چیزوں سے کھیلتاہے وہ تمام باطل ہیں سوائے تین کے: کمان سے تیر چلانا، گھوڑے کو ادب سکھانا، اور زوجہ کے ساتھ ملاعبت کرنا کہ یہ تینوں درست ہیں۔ (جامع الترمذى، صفحہ 639، رقم الحدیث 1637، دار ابن کثیر، دمشق)
سنن الترمذی میں ہے ”عن أبي هريرة، قال: قال رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم: من حسن إسلام المرء تركه ما لا يعنيه“ ترجمہ: حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: آدمی کے اسلام کے حسن سے ہے کہ وہ لایعنی چیزوں کو ترک کرے۔ (سنن الترمذی، صفحہ 866، رقم الحدیث: 2317،دار ابن کثیر،دمشق)
امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: ’’ہر کھیل اور عبث فعل جس میں نہ کوئی غرض دینی، نہ کوئی منفعت جائزہ دنیوی ہو، سب مکروہ و بے جاہیں، کوئی کم کوئی زیادہ۔‘‘ (فتاویٰ رضویہ، جلد 24، صفحہ 78، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
مساجد کی اہمیت، تعظیم و توقیر اور ادب و احترام کے متعلق قرآن کریم میں ہے ﴿وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ مَّنَعَ مَسٰجِدَ اللّٰهِ اَنْ یُّذْكَرَ فِیْهَا اسْمُهٗ وَ سَعٰى فِیْ خَرَابِهَاؕ-اُولٰٓىٕكَ مَا كَانَ لَهُمْ اَنْ یَّدْخُلُوْهَاۤ اِلَّا خَآىٕفِیْنَ۬ؕ-﴾ ترجمۂ کنز العرفان: اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی مسجدوں کو اس بات سے روکے کہ ان میں اللہ کا نام لیا جائے اور ان کو ویران کرنے کی کوشش کرے۔ انہیں مسجدوں میں داخل ہونا مناسب نہ تھا مگر ڈرتے ہوئے۔ (پارہ 01، سورۃ البقرۃ، آیت: 114)
مذکورہ بالا آیتِ مبارکہ کے جز ”اِلَّا خَآىٕفِیْنَ“ کے تحت تفسیرِ صراط الجنان میں ہے ”مسجد میں ادب و تعظیم اور خوف خدا کے ساتھ داخل ہونا چاہیے، نڈر و بیباک ہو کر اور آداب مسجد کو پامال کرتے ہوئے داخل ہونا مسلمان کا کام نہیں۔“ (تفسیر صراط الجنان، جلد 01، صفحہ 218، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
سنن ابن ماجہ، مصنف عبد الرزاق، سنن الکبری للبیہقی اور کنزالعمال وغیرہ میں ہے ”عن واثلة بن الأسقع، أن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: جنبوا مساجدكم صبيانكم و مجانينكم و شراءكم و بيعكم و خصوماتكم و رفع أصواتكم و إقامة حدودكم و سل سيوفكم“ ترجمہ: حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اپنی مسجدوں کو بچوں سے، پاگلوں سے، خرید و فروخت سے، جھگڑوں سے، اپنی آوازیں اونچی کرنے سے، حدود قائم کرنے سے اور اپنی تلواریں سوتنے سے بچاؤ۔ (سنن ابن ماجه، صفحہ 151، حدیث 750، دار ابن کثیر،دمشق)
شارِح بخاری، علامہ بدرالدین عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (وِصال: 855ھ / 1451ء) لکھتےہیں: ”فيه دليل على أن المساجد لا يجوز فيها إلا ذكر اللہ و الصلاة و قراءة القرآن بقوله: "و إنما هي لذكر اللہ" من قصر الموصوف على الصفة و لفظ الذكر عام يتناول قراءة القرآن و قراءة العلم و وعظ الناس“ ترجمہ: حدیث پاک میں اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد میں صرف اللہ کا ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت ہی جائز ہے؛ کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ارشاد پاک کہ مساجد تو صرف اللہ کے ذکر کے لیے ہیں موصوف کو صفت پر محدود کرنے کے باب سے ہے۔ اور لفظِ ذکر عام ہے، جو قرآن کی تلاوت کرنے، علم حاصل کرنے اور لوگوں کو وعظ کرنے کو شامل ہے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، جلد 3، صفحہ 188، مطبوعہ:بیروت)
امامِ اہلِ سنَّت، امام احمد رضا خان رَحْمَۃاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”بلا شبہ اگر ان افعال (یعنی مسجد میں کھانے پینے سونے وغیرہ) کا دروازہ کھولا جائے تو زمانہ فاسد ہے اور قلوب ادب و ہیبت سے عاری، مسجدیں چو پال ہو جائیں گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی، وکل ما ادی الی محظور محظور (یعنی ہر وہ شے جو ممنوع کا سبب بنے ،وہ خود ممنوع ہے۔) ۔ ۔ ۔ ۔ مسجد کو چوپال بنانا جائز نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 93 تا 95، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا احمد سلیم عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5345
تاریخ اجراء: 15 ربیع الاول 1448ھ / 29 اگست 2026ء