logo logo
AI Search

ہر نماز کیلئے نیا وضو ضروری ہے؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

کیا ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا ضروری ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

ہر نماز کے لیے نیا وضو کرنا ضروری نہیں، بلکہ اگر پہلے سے وضو ہو اور وضو کے بعد کوئی ایسی چیز نہ پائی گئی کہ جس سے وضو ٹوٹ جاتا ہے، تو ایک ہی وضو سے متعدد نمازیں ادا کی جا سکتی ہیں۔ البتہ ثواب کی نیت سے وضو پر وضو کرنا باعثِ اجر و فضیلت ہے، جیسا کہ حدیثِ پاک میں ارشاد فرمایا گیا: جس شخص نے پاکیزگی، یعنی باوضو ہونے کی حالت میں دوبارہ وضو کیا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔

سنن ابوداؤد کی روایت ہے: ”عن أبي غطيف الهذلي قال:كنت عند عبد اللہ بن عمر، فلما نودي بالظهر توضأ فصلى، فلما نودي بالعصر توضأ، فقلت له، فقال: كان رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم يقول: من توضأ على طهر كتب له عشر حسنات“ ترجمہ: حضرت ابو غطیف ہذلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر تھا۔ جب نمازِ ظہر کے لیے اذان دی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا اور نماز ادا فرمائی۔ پھر جب نمازِ عصر کے لیے اذان دی گئی تو آپ رضی اللہ عنہ نے دوبارہ وضو کیا۔ میں نے اس کی وجہ دریافت کی تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جس شخص نے پاکیزگی (یعنی باوضو ہونے) کی حالت میں دوبارہ وضو کیا، اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ (سنن ابو داؤد، جلد 01، صفحہ 46، مطبوعہ دار الرسالة العالمية)

شرح السنۃ میں ہے: ”قال الإمام رحمه اللہ: يجوز الجمع بين الصلوات بوضوء واحد عند عامة أهل العلم، و تجديد الوضوء مستحب إذا كان قد صلى بالوضوء الأول صلاة۔ ۔ أما المتيمم، فلا يجوز له أن يجمع بين فريضتين بتيمم واحد، لأن ظاهر القرآن يدخل على وجوب الوضوء عند كل حالة يريد القيام إلى الصلاة، فإن لم يجد الماء فعلى وجوب التيمم، غير أن الدليل قد قام من طريق السنة على التخفيف في الوضوء، فبقي أمر التيمم على ظاهره“ ترجمہ: امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: جمہور اہلِ علم کے نزدیک ایک وضو کے ساتھ متعدد نمازوں کو جمع کرکے ادا کرنا جائز ہے۔ اور اگر آدمی پہلے وضو سے ایک نماز ادا کرچکا ہو تو وضو کی تجدید کرنا مستحب ہے۔ رہا تیمم کرنے والا شخص، تو اس کے لئے ایک ہی تیمم سے دو فرض نمازیں ادا کرنا، جائز نہیں، کیونکہ قرآنِ کریم کا ظاہری مفہوم اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ جب بھی نماز کے لیے کھڑا ہونا مقصود ہو تو وضو کرنا ضروری ہے، اور اگر پانی نہ ملے تو تیمم کرنا ضروری ہے۔ البتہ وضو کے بارے میں سنتِ نبوی سے تخفیف کا حکم ثابت ہوچکا ہے، اس لیے وضو کے معاملے میں یہ رعایت باقی رہی، جبکہ تیمم کا حکم اپنے ظاہری تقاضے کے مطابق برقرار رہا۔ (شرح السنۃ، جلد 01، صفحہ 449، المكتب الإسلامي دمشق، بيروت)

نوٹ: وضو توڑنے والی چیزوں کے متعلق تفصیلی معلومات کےلیے بہار شریعت جلد اول، حصہ دوم سے نواقضِ وضو کا بیان پڑھ لیں، اس میں صدر الشریعہ بدر الطریقہ مفتی امجدعلی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ نے تقریبا 49 مسائل کے تحت بہت ساری صورتیں ذکر فرمائی ہیں۔

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5359
تاریخ اجراء: 04 ربیع الاول 1448ھ / 18 اگست 2026ء