امام قعدہ اخیرہ بھول کر کھڑا ہوجائے تو لقمہ دینے کا حکم
بسم اللہ الرحمن الرحیم
امام قعدہ اخیرہ بھول کر کھڑا ہوجائے تو لقمہ کب دیا جائے ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ چوتھی رکعت میں امام قعدۂ اخیرہ کیے بغیر بھول کر پورا کھڑا ہو گیا تو کیا اب لقمہ دے سکتے ہیں؟ یونہی اگر قعدۂ اخیرہ کر کے بھول کر پورا کھڑا ہو گیا تو کیا اب بھی لقمہ دے سکتے ہیں؟ یا یہ ضروری ہے کہ اس وقت لقمہ دیں کہ جب وہ سجدہ میں جانے لگے ؟ سائل: آصف نواز (چوک ننکھانہ)
جواب
دونوں صورتوں میں یعنی چاہے امام قعدۂ اخیرہ کیے بغیر پورا کھڑا ہو جائے یا قعدہ کر کے کھڑا ہو، لقمہ دیا جا سکتا ہے، فقہائے کرام نے اس کی اجازت دی ہے، لہذا دونوں صورتوں میں امام کے سجدہ میں جانے کا انتظار ضروری نہیں ہے، بلکہ اسی وقت لقمہ دینا اور امام کا قبول کرنا درست ہے۔
قعدۂ اخیرہ کیے بغیر کھڑے ہونے کی صورت میں لقمہ دیا جا سکتا ہے۔ چنانچہ مراقی الفلاح میں ہے: ”وان قام الامام قبل القعود الاخیر ساھیا انتظرہ الماموم وسبح لیتنبہ امامہ“ اور اگر امام قعدۂ اخیرہ سے پہلے بھول کر کھڑا ہوجائے، تو مقتدی اس کا انتظار کرے اور تسبیح کہے تاکہ امام متنبہ ہوجائے۔ (مراقی الفلاح شرح نور الایضاح، ص 277، مطبوعہ دار الخیر الاسلامیہ)
غنیہ میں ہے: ”وان سھا عن القعدۃ الاخیرۃ فی ذوات الاربع وقام الی الخامسۃ یعود ما لم یسجد للخامسۃ ویتشھد ویسلم ویسجد للسھو لتاخیر القعدۃ،ملخصاً“ ترجمہ: چار رکعتوں والی نماز میں اگر امام بھول کر پانچویں رکعت کے لئےکھڑا ہو جائے، تو واپس لوٹے جب تک پانچویں کا سجدہ نہ کیا ہو اور تشہد پڑھے اور سلام پھیرے اور قعدہ میں تاخیر ہونے کی وجہ سے سجدۂ سہو کرے۔ (غنیۃ المتملی شرح منیۃ المصلی، ص 462، مطبوعہ کوئٹہ)
علامہ حسن بن عمار شرنبلالی علیہ الرحمۃنے مراقی الفلاح میں امام کے قعدہ اخیرہ کیے بغیر کھڑے ہو جانے والی صورت میں لقمہ دینے کا حکم ذکر کیا، لیکن قعدہ کر کے کھڑے ہونے والی صورت میں لقمہ والی بات ذکر نہ کی تو اس پر علامہ طحطاوی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مناسب تھا کہ یہاں بھی لقمہ دینے کا حکم ذکر کرتے۔ اس سے معلوم ہوا قعدۂ اخیرہ کر کے کھڑے ہونے کی صورت میں بھی لقمہ دینا جائز و درست ہے۔ چنانچہ مراقی الفلاح وحاشیۃ الطحطاوی میں ہے، والعبارۃ بین الھلالین للطحطاوی: ”ولو زاد الإمام سجدة أو قام بعد القعود الأخير ساهيا لا يتبعه المؤتم (المناسب أن يزيد هنا ما ذكره بعد من قوله وسبح ليتنبه إمامه) فيما ليس من صلاته بل يمكث فإن عاد قبل تقييده الزائدة بسجدة سلم معه وإن قيدها أي الإمام أي الركعة الزائدة بسجدة سلم المقتدي وحده ولا ينتظر لخروجه إلى غير صلاته“
ترجمہ: اور اگر امام کوئی زائد سجدہ کرے یا قعدۂ اخیرہ کے بعد بھول کر کھڑا ہو جائے، تو مقتدی امام کی اس چیز میں اتباع نہ کرے جو اس کی نماز سے نہیں ہے ( مناسب یہ تھا کہ مصنف یہاں بھی اس قول کا اضافہ کرتے جو انہوں نے بعد میں ذکر کیا "اور مقتدی تسبیح کہے تاکہ اس کا امام متنبہ ہوجائے۔" ) بلکہ وہ ٹھہرا رہے اگر امام زائد رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے واپس لوٹ آئے، تو اس کے ساتھ سلام پھیرے اور اگر امام زائد رکعت کا سجدہ کرلے، تو مقتدی تنہا سلام پھیر دے اور غیر نماز میں منتقل ہونے کی وجہ سے (امام کا )انتظار نہ کرے۔ (حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح، ص 277، مطبوعہ دار الخیر الاسلامیہ)
الفقہ الاسلامی وادلتہ میں ہے: ”إذا زاد الإمام سجدة أو قام بعد القعود الأخير ساهياً لا يتبعه المقتدي بل ينتظره ويسبح لتنبيه الإمام لخطئه فإن عاد الإمام قبل تقييده الزائدة بسجدة سجد الإمام للسهو وسلم المقتدي معه فإن أتى بسجدة بعد الزائد سلم المقتدي وحده ملخصا“ ترجمہ: جب امام کوئی زائد سجدہ کرے یا قعدۂ اخیرہ کے بعد بھول کر کھڑا ہو جائے، تو مقتدی اس کی اتباع نہ کرے، بلکہ اس کا انتظار کرے اور تسبیح کرے تاکہ امام کو اپنی غلطی پر تنبیہ ہوجائے، اگر امام زائد رکعت کا سجدہ کرنے سے پہلے لوٹ آئے، تو امام سجدۂ سہو کرے اور مقتدی امام کے ساتھ سلام پھیرے اور اگر (امام) زائد رکعت کا سجدہ کر لے، تو مقتدی تنہا سلام پھیر دے۔ (الفقہ الاسلامی وادلتہ، ج 02، ص 201، مطبوعہ کوئٹہ)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو محمد محمد سرفراز اختر عطاری
مصدق: مفتی فضیل رضا عطاری
فتوی نمبر: Mul-359
تاریخ اجراء: 28 ذو القعدۃ الحرام 1442ھ/10 جولائی 2021ء