logo logo
AI Search

ناپاک کپڑوں میں پڑھی گئی نمازوں کا شرعی حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

چائنہ کے رہائشی نیو مسلم نے کئی نمازیں ناپاک کپڑوں میں پڑھیں تو کیا حکم ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسلے کے بارے میں کہ میں چائنہ میں تعلیم حاصل کر رہا ہوں، وہاں میرا ایک کلاس فیلو ہے جس نے کچھ عرصہ قبل اسلام قبول کیا تھا، لیکن شرعی احکام کا علم نہ ہونے کے سبب ا سے یہ پتا نہیں تھا کہ ناپاک کپڑے پاک بھی کرنے ہوتے ہیں اور انہیں پاک کرنے کا کیا طریقہ ہے؟ اس لئے وہ پیشاب لگے ناپاک کپڑوں میں ہی نمازیں بھی پڑھتا رہا۔ حالانکہ وہ مجھ سے یا یہاں کے سکالرز سے یا سوشل میڈیا وغیرہ سے بآسانی معلوم کر سکتا تھا، لیکن اس نے ایسا نہیں کیا، ابھی اسے معلوم ہوا کہ نماز کے لیے کپڑوں کا پاک ہونا ضروری ہے۔ تو کیا جو نمازیں اس نے ناپاک کپڑوں میں پڑھیں وہ دوبارہ پڑھنی ہوں گی؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں شخصِ مذکور نے جتنی نمازیں ایسے ناپاک کپڑوں میں پڑھیں جن پر بقدر مانعِ نماز نجاست لگی ہوئی تھی، ان سب نمازوں کو دوبارہ پڑھنا اس پر لازم ہے۔

مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ چائنہ دار الحرب ہے، کیونکہ وہاں کبھی اسلامی حکومت قائم نہیں ہوئی اور دار الحرب میں چونکہ شرعی احکامات عام اور مشہور نہیں ہوتے، کہ بآسانی معلوم ہوسکیں اور سکھانے والے بھی آسانی سے میسر نہیں ہوتے، اس لئے وہاں احکام شرع سے جہالت کو عذر شمار کیا گیا ہے۔ تاہم اگر دار الحرب میں بھی شرعی مسائل بآسانی معلوم ہوسکتے ہوں اور اس کے باوجود اپنی کوتاہی کے سبب کوئی معلوم نہ کرے، تو اس کی لاعلمی عذر شمار نہیں ہوگی۔ صورت مسئولہ میں بھی آپ کے بیان کے مطابق وہ شخص بآسانی یہ معلوم کرسکتا تھا کہ نماز کی شرائط و لوازمات کیا ہیں؟ لیکن اس نے معلوم نہیں کیے، تو یہ اس کی اپنی کوتاہی ہے، لہذا اس کی یہ لاعلمی عذر نہیں بنے گی اور اس نے جتنی نمازیں ایسے کپڑوں میں پڑھیں جن پر بقدرِ مانعِ نماز نجاست (مثلا پیشاب یا منی وغیرہ ایک درہم کے برابر یا زیادہ) لگی ہوئی تھی، ان نمازوں کو لوٹانا ہوگا۔

دار الحرب کی وضاحت کرتے ہوئے اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: ” جہاں سلطنتِ اسلامی کبھی نہ تھی، نہ اب ہے وہ اسلامی شہر نہیں ہوسکتے۔۔۔ اگر چہ وہاں کے کافر سلاطین شعائرِ اسلامیہ کو نہ روکتے ہوں، اگر چہ وہاں مساجد بکثرت ہوں، اذان واقامتِ جماعت علی الاعلان ہوتی ہو۔۔۔ جیسے کہ روس، فرانس، وجرمن، وپرتگال وغیرہا اکثر بلکہ شاید کل سلطنت ہائے یورپ کا یہی حال ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 379، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

اصولی طور پر دار الحرب میں جہالت عذر ہے ، جیسا کہ امام فخر الاسلام بزدوی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں : ”الجهل في دار الحرب من مسلم لم يهاجر يكون عذرا في الشرائع“ ترجمہ: وہ مسلمان جس نے دار الحرب سے ہجرت نہیں کی اس کا احکامِ شرع سے ناواقف ہونا شرعی طور پر عذرشمار ہوگا۔

مذکورہ مسئلے کے تحت اس کی علت بیان کرتے ہوئے علامہ علاؤالدین بخاری الحنفی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ”إن الخطاب النازل خفي في حقه لعدم بلوغه إليه حقيقة بالسماع ولا تقديرا باستفاضته وشهرته؛ لأن دار الحرب ليست بمحل استفاضة أحكام الإسلام، فيصير الجهل بالخطاب عذرا؛ لأنه غير مقصر في طلب الدليل وإنما جاء الجهل من قبل خفاء الدليل في نفسه حيث لم يشتهر في دار الحرب بسبب انقطاع ولاية التبليغ عنهم“ ترجمہ: (دار الحرب میں مسلمان ہونے والے کے لیے جہالت اس وجہ سے عذر ہے کہ) نازل ہونے والا شرعی خطاب اس کے حق میں مخفی ہے، کہ نہ تو حقیقتاً سننے کے ذریعے اس تک خطاب پہنچا اور نہ ہی لوگوں میں معروف و مشہور ہونے کے سبب حکماً اس تک پہنچا، کیونکہ دارُالحرب اسلامی احکام کے معروف و مشہور ہونے کی جگہ نہیں، لہٰذا شرعی خطاب سے ناواقفیت عذر شمار ہو گی؛ کیونکہ اس نے بذات خود دلیلِ شرع معلوم کرنے کی کوشش میں کوتاہی نہیں کی، بلکہ جہالت بنفسہ دلیل کے مخفی ہونے کی وجہ سے پیدا ہوئی، وہ اس طرح کہ دارُالحرب میں تبلیغِ اسلام کی قدرت و ولایت نہ ہونے کے سبب وہاں دلیلِ شرع مشہور و معروف نہیں ہوتی۔ (كشف الأسرار شرح أصول البزدوي، جلد 4، صفحہ 560/561، مطبوعہ کراچی)

دار الحرب میں اگر شرعی مسائل بآسانی معلوم ہو سکتے ہوں اور اس کے باوجود اپنی کوتاہی کے سبب معلوم نہ کیے، تو پھر جہالت عذر شمار نہیں ہوگی ، جیسا کہ ملک العلماء امام علاؤ الدین کاسانی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: أن الذي أسلم في دار الحرب منع عنه العلم لانعدام سبب العلم في حقه، ولا وجوب على من منع عنه العلم كما لا وجوب على من منع عنه القدرة بمنع سببها، بخلاف الذي أسلم في دار الإسلام، لأنه ضيع العلم حيث لم يسأل المسلمين عن شرائع الدين مع تمكنه من السؤال، والوجوب متحقق في حق من ضيع العلم كما يتحقق في حق من ضيع القدرة، ولم يوجد التضييع ههنا إذ لا يوجد في دار الحرب من يسأله عن شرائع الإسلام، حتى لو وجد ولم يسأله يجب عليه، ويؤاخذ بالقضاء إذا علم بعد ذلك؛ لأنه ضيع العلم وما منع منه كالذي أسلم في دار الإسلام ترجمہ: جو شخص دار الحرب میں مسلمان ہوا اس کے حق میں علم کا سبب معدوم ہونے کی وجہ سے احکام شرع جاننے میں اس کے لئے رکاوٹ ہے اور ایسا شخص جس کے لئے احکام شرع کے علم میں رکاوٹ ہو اس پر حکمِ شرعی واجب نہیں ہوتا، جیسا کہ وہ شخص جو اسباب ِقدرت معدوم ہونے کی وجہ سے (حکم شرعی بجا لانے پر) قادر نہ ہو اس پر حکم شرعی واجب نہیں ہوتا، برخلاف اس شخص کے جو دار الاسلام میں مسلمان ہوا کہ اس نے سوال پر قادر ہونے کے باوجود مسلمانوں سے شرعی احکام کے متعلق نہیں پوچھا، تو اس طرح اس نے خود ہی علم کو ضائع کیا ہے اور جس طرح بذات خود قدرت ضائع کرنے والے کے حق میں حکم شرعی کا وجوب متحقق ہو جاتا ہے، اسی طرح علم ضائع کرنے والے کے حق میں بھی وجوب متحقق ہو جاتا ہے، جبکہ دار الحرب میں مسلمان ہونے والے شخص نے علم ضائع نہیں کیا کہ دار الحرب میں اسے ایسا شخص ملا ہی نہیں جس سے اسلامی احکام کے متعلق پوچھتا، یہاں تک کہ اگر وہ ایسا شخص پالے اور پھر بھی نہ پوچھے، تو اس پر حکم شرعی واجب ہو جائے گا اور بعد میں جب اسے معلوم ہوگا، تو حکمِ قضا کے ساتھ اس کا مؤاخذہ کیا جائے گا، کیونکہ ایسی صورت میں اس نے دار الاسلام میں مسلمان ہونے والے شخص کی طرح خود علم کو ضائع کیا، حالانکہ حصولِ علم میں کوئی رکاوٹ نہ تھی۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ135، دار الكتب العلمية، بیروت)

نمازی کے متعلق نجاستِ غلیظہ کا حکم بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”نجاستِ غلیظہ کا حکم یہ ہے کہ اگر کپڑے یا بدن میں ایک درہم سے زیادہ لگ جائے، تو اس کا پاک کرنا فرض ہے، بے پاک کیے نماز پڑھ لی، تو ہو گی ہی نہیں، اور قصداً پڑھی تو گناہ بھی ہوا۔۔۔ اور اگر درہم کے برابر ہے، تو پاک کرنا واجب ہے کہ بے پاک کیے نماز پڑھی، تو مکروہِ تحریمی ہوئی یعنی ایسی نماز کا اعادہ واجب ہے اور قصداً پڑھی، تو گنہگار بھی ہوا، اور اگر درہم سے کم ہے، تو پاک کرنا سنت ہے کہ بے پاک کیے نماز ہو گئی، مگر خلاف ِ سنت ہوئی، اور اس کا اعادہ بہتر ہے۔“ (بہارِشریعت، جلد1، صفحہ 389، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: pin-7810

تاریخ اجراء: 23 صفر المظفر 1448ھ/4 اگست 2026ء