logo logo
AI Search

کیا مسبوق قراءت میں ترتیب رکھے گا؟

بسم اللہ الرحمن الرحيم

مسبوق جب اپنی ایک رکعت پڑھے گا، تو قراءت میں ترتیب کا خیال رکھے گا؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جواب

مسبوق یعنی جس کی ایک یا چند رکعتیں رہ گئی اس پر امام کی قراءت کی ترتیب لازم نہیں یعنی اس پر یہ لازم نہیں کہ وہ امام کی پڑھی ہوئی سورتوں کے بعد والی سورتوں سے قراءت کرے بلکہ مسبوق اس معاملہ میں آزاد ہے جہاں سے چاہے قراءت کرے کیونکہ مسبوق اپنی پڑھی جانے والی نماز میں قراءت کے حق میں منفرد یعنی تنہا نماز پڑھنے والے کے حکم میں ہے۔

جیسا کہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ’’(و المسبوق من سبقہ الامام أو ببعضھا و ھو منفرد فیما یقضیہ) یقضی أول صلاتہ فی حق قراء ۃ“ ترجمہ: اور مسبوق کہ جس سے امام تمام رکعتوں یا بعض رکعتوں میں سبقت کر جائے تو وہ اپنی فوت شدہ میں منفرد ہے۔ قراءت کے حق میں وہ اپنی ابتدا ئے نماز تصور کر کے ادا کرے گا۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، مطلب: فی احکام المسبوق، صفحہ 417 - 418،دار المعرفۃ، بیروت)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتوی نمبر: Web-2575
تاریخ اجراء: 06 جمادی الاولٰی 1447ھ / 29 اکتوبر 2025ء