logo logo
AI Search

نماز کیلئے اے آئے جنریٹڈ اذان کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحيم

نماز کے لیے ریکارڈڈ اذان چلانا

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

موجودہ دور میں مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے کسی مؤذن یا کسی بھی شخص کی آواز میں اذان کی ریکارڈنگ تیار کی جاسکتی ہے اور اسے مسجد کے لاؤڈ اسپیکر یا ساؤنڈ سسٹم کے ذریعے نماز کے اوقات میں چلایا جاسکتا ہے۔ کیا کسی مؤذن کی آواز کی AI نقل (Voice Clone) بنا کر اذان چلانا شرعی اذان کے لیے کافی ہوگا؟

جواب

مصنوعی ذہانت (AI) سے تیار کردہ یا ریکارڈ شدہ آواز کو مسجد میں چلانے سے شرعی اذان ادا نہیں ہوگی، بلکہ ایسی اذان دوبارہ دی جائے گی، کیونکہ ریکارڈِڈ اذان معتبر نہیں ہے۔ اس کے لیے باقاعدہ مؤذن کا ہونا ضروری ہے۔ محض کسی شخص کی آواز کی ریکارڈنگ یا AI کے ذریعے تیار کردہ آواز چلانا حقیقی طور پر کسی عاقل شخص کی طرف سے اذان دینا نہیں ہے۔ لہٰذا نماز کے لیے AI یا ریکارڈ شدہ اذان چلانا کافی نہیں، بلکہ شرعی اذان کے لیے باقاعدہ مؤذن کا اذان دینا ضروری ہوگا۔

بدائع الصنائع میں ہے: ”(و أما) الذي يرجع إلى صفات المؤذن فأنواع أيضا: (منها) أن يكون رجلا۔ ۔ ۔ و أما أذان الصبي الذي لا يعقل فلا يجزئ و يعاد؛ لأن ما يصدر لا عن عقل لا يعتد به كصوت الطيور۔ ۔ ۔ (و منها): أن يكون عاقلا، فيكره أذان المجنون و السكران الذي لا يعقل؛ لأن الأذان ذكر معظم و تأذينهما ترك لتعظيمه، و هل يعاد؟ ذكر في ظاهر الرواية: أحب إلي أن يعاد؛ لأن عامة كلام المجنون و السكران هذيان، فربما يشتبه على الناس فلا يقع به الإعلام“

ترجمہ: مؤذن کی صفات سے متعلق بھی کئی امور ہیں: ان میں سے ایک یہ ہے کہ مؤذن مرد ہو۔ رہا ایسے نابالغ بچے کی اذان جو سمجھ بوجھ نہ رکھتا ہو، تو وہ کافی نہیں ہوگی بلکہ اذان دوبارہ دی جائے گی، کیونکہ جو بات بغیر عقل و شعور کے صادر ہو، اس کا شرعاً اعتبار نہیں ہوتا، جیسے پرندوں کی آواز کا اعتبار نہیں ہوتا۔ اور ان صفات میں سے ایک یہ بھی ہے کہ مؤذن عاقل ہو۔ لہٰذا ایسے مجنون اور نشے میں دھت شخص کی اذان مکروہ ہے جو عقل و شعور سے خالی ہو، کیونکہ اذان ایک عظمت والا ذکر ہے، اور ایسے شخص کا اذان دینا اس کی تعظیم کو ترک کرنے کے مترادف ہے۔ کیا ایسی اذان دوبارہ دی جائے گی؟ ظاہر الروایہ میں ہے کہ میرے نزدیک اسے دوبارہ دینا زیادہ پسندیدہ ہے، کیونکہ مجنون اور نشے میں بے ہوش شخص کی اکثر باتیں بے ربط ہوتی ہیں، اس لیے لوگوں کے لیے اس میں اشتباہ پیدا ہوسکتا ہے اور اذان کے ذریعے نماز کے وقت کی اطلاع کا مقصد حاصل نہیں ہوگا۔ (بدائع الصنائع،جلد 01،صفحہ 150،دار الكتب العلمية)

صدائے بازگشت سےآیت سجدہ سننے اور فونو میں ریکارڈ شدہ آیت سجدہ سننے سے سجدہ تلاوت واجب نہ ہونے کی علت بیان کرتے ہوئے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں: ”مختصریہ ہے کہ سجدہ سماع اول پرہے نہ کہ معادپر۔ ۔ ۔ اور شک نہیں کہ سماع صد اسماع معاد ہے اور فونو کی تو وضع ہی اعادہ سماع کے لیے ہوئی ہے، لہذا ان سے ایجاب سجدہ نہیں۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 23، صفحہ 452، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتوی نمبر: WAT-5357
تاریخ اجراء: 01 ربیع الاول 1448ھ / 15 اگست 2026ء