logo logo
AI Search

فرض پڑھنے والی جگہ سنتیں پڑھنے کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

کیا سنتیں اسی جگہ پڑھنی ہوں گی جس جگہ فرض ادا کئے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جس جگہ پر فرض نماز ادا کی جائے، تو کیا سنن و نوافل اس جگہ سے ہٹ کر ادا کر سکتے ہیں ؟ کیونکہ کسی کا کہنا ہے کہ جہاں فرض ادا کریں سنن و نوافل بھی اسی جگہ ادا کرنے ہوتے ہیں؟

جواب

جہاں فرض ادا کئے، سنتیں اور نوافل بھی وہیں ادا کرسکتے ہیں۔ البتہ اگر کوئی دشواری نہ ہو تو جگہ بدل کر پڑھنا بہتر و مستحب ہے تاکہ زمین کے دیگر حصے بھی عبادت پر گواہ ہوجائیں۔

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لا یصلی الامام فی الموضع الذی صلی فیہ حتی یتحول“ ترجمہ: رسول اکرم صلی اللہ تعالیٰ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ امام وہاں نماز نہ پڑھے جہاں فرض پڑھے ہیں حتی کہ کچھ ہٹ جائے۔ (ابو داؤد، جلد 1، صفحہ 100، مطبوعہ لاہور)

مفسر شہیر حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمہ اس حدیث پاک کے تحت لکھتے ہیں: ”یہ حکم امام اور مقتدیوں دونوں کے لیے ہے کہ جہاں جماعت سے فرض پڑھے وہاں سے کچھ ہٹ کر سنتیں وغیرہ پڑھے مگر چونکہ زیادہ بھیڑ میں مقتدی نہیں ہٹ سکتے اس لیے صرف امام کا ذکر فرمایا گیا۔ یہ حکم استحبابی ہے تاکہ چند جگہ عبادت ہو اور وہ مقامات قیامت میں اس کی گواہی دیں، نیز آنے والے کو دھوکہ نہ لگے کہ ابھی فرض ہو رہے ہیں۔ (مراٰۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 114، ضیاء القرآن لاہور)

واضح رہے کہ سنتوں اور نوافل کے لئے اپنی جگہ سے ہٹتے ہوئے اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ مسبوق وغیرہ جو اپنی نماز ادا کررہے ہوں ان کے آگے سے نہ گزرنا پڑے کیونکہ نمازی کے آگے سے بلاسُترہ گزرنا حرا م و گناہ ہے۔

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی

فتوی نمبر: Web-2587

تاریخ اجراء:14 جمادی الاولٰی 1447ھ/06 نومبر 2025ء