logo logo
AI Search

قراءت میں تلفظ کی غلطی کا شک ہو تو سجدہ سہو کا حکم

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تلفظ غلط ہونے کا شک ہو تو سجدہ سہو کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ نماز میں قراءت کرتے وقت شک ہو رہا ہو کہ کوئی لفظ صحیح ادا نہیں کیا تو سجدۂ سہو کرنے سے نماز ہو جائے گی؟ نیز کیا نماز میں احتیاطاً سجدۂ سہو کرسکتے ہیں؟

جواب

قراءت میں غلطی کا محض شک ہونے سے کوئی حکم لازم نہیں ہوتا، البتہ اگر یقین ہو جائے کہ قراءت میں ایسی غلطی واقع ہوئی ہے جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے، تو اس صورت میں نماز کا اعادہ (دوبارہ پڑھنا) لازم ہوگا، صرف سجدۂ سہو کافی نہیں ہوگا، کیونکہ سجدۂ سہو نماز کے واجبات میں سے کسی واجب کے بھولے سے ترک کی صورت میں واجب ہوتا ہے، قراءت کی غلطی سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔

رہا احتیاطاً سجدۂ سہو کا مسئلہ، تو امام ہو یا تنہا نماز پڑھنے والا، کسی کے لیے بھی بلاوجہ احتیاطاً سجدۂ سہو کرنا درست نہیں، جب تک یقینی طور پر معلوم نہ ہو کہ بھولے سے نماز کا کوئی واجب ترک ہو گیا ہے، کیونکہ بلا ضرورت سجدۂ سہو کرنا نماز میں زیادتی ہے اور یہ شرعاً منع ہے۔ البتہ اگر تنہا نماز پڑھنے والے نے احتیاطاً سجدۂ سہو کر لیا تو اس کی نماز ہو جائے گی اور اگر امام پر سجدۂ سہو واجب نہ تھا، پھر بھی اس نے احتیاطاً سجدۂ سہو کر لیا، تو امام اور مدرک (وہ مقتدی جو شروع سے آخر تک جماعت میں شریک رہا) دونوں کی نماز ہو جائے گی۔ البتہ مسبوق (جس کی ایک یا زیادہ رکعتیں رہ گئی تھیں) اگر امام کے اس احتیاطی سجدۂ سہو میں شریک ہو گا تو اس کی نماز فاسد ہو جائے گی۔ اسی طرح جو شخص امام کے احتیاطی سجدۂ سہو کرنے کے بعد جماعت میں شامل ہوگا، اس کی اقتدا بھی صحیح نہیں ہوگی۔ بہرحال احتیا طاً سجدۂ سہو نہ کیا جائے اور امام کو توخاص طور پر احتیاطاً سجدۂ سہو کرنے سے بچنا ہوگا کہ اس کی وجہ سے بعض مقتدیوں کی نماز بھی فاسد ہوسکتی ہے۔

سجدۂ سہو نماز کے واجبات اصلیہ میں سے کسی واجب کے بھولے سے چھوٹ جانے پر واجب ہوتا ہے، چنانچہ بحرا لرائق میں ہے: ”سببه ترك واجب من واجبات الصلاة الأصلية سهوا“ ترجمہ: سجدۂ سہو کا سبب نماز کے واجبات اصلیہ میں سے کسی واجب کا بھولے سے ترک کرنا ہے۔ (بحر الرائق، کتاب الصلاة، باب سجود السهو، جلد 2، صفحه 101، دار الكتاب الإسلامي، بیروت)

فتاوی جامعہ اشرفیہ میں ہے: ’’قراءت میں غلطی کی وجہ سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوتا۔“ (فتاوی جامعہ اشرفیہ، جلد 5، صفحہ 769، مبارک پور، اعظم گڑھ یوپی)

بلاوجہ محض احتیاط کے طور پر سجدۂ سہو کرنا ممنوع ہے، چنانچہ سیدی اعلی حضرت امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فتاویٰ رضویہ میں فرماتے ہیں: ”بے حاجت سجدۂ سہو نماز میں زیادت اور ممنوع ہے مگر نماز ہوجائے گی۔ ہاں اگر یہ امام ہے تو جو مقتدی مسبوق تھا یعنی بعض رکعات اس نے نہیں پائی تھیں وہ اگر اس سجدہ بے حاجت میں اس کا شریک ہو ا تو اس کی نماز جاتی رہے گی: ”لانہ اقتدیٰ فی محل الإنفراد“ کیونکہ اس نے محلِ انفراد میں اقتدا کی ہے۔“ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 328، رضا فاونڈیشن، لاہور)

فتاوی رضویہ میں ایک سوال ہو کہ امام بھول کر سجدۂ سہو کرلے تو اس صورت میں نماز امام و مقتدین اور بعد سجدۂ سہو کے جو مقتدی ملے ان سب کی نماز کیسی ہوگی؟ اور حقیقت میں سہو نہیں تھا؟

اس کے جواب میں فرماتے ہیں: ”امام و مقتدیانِ سابق کی نماز ہوگئی، جو مقتدی اس سجدۂ سہو میں جانے کے بعد ملے ان کی نماز نہیں ہوئی کہ جب واقع میں سہو نہ تھا، دہنا سلام کہ امام نے پھیرا ختمِ نماز کا موجب ہوا یہ سجدہ بلا سبب لغو تھا، تو اس سے تحریمہ نماز کی طرف عود نہ ہوا اور مقتدیان ما بعد کو کسی جزء امام میں شرکت امام نہ ملی، لہٰذا ان کی نماز نہ ہوئی، ولہذا اگر سجدۂ سہو میں مسبوق اتباعِ امام کرے، بعد کو معلوم ہو کہ یہ سجدہ بے سبب تھا اس کی نماز فاسد ہوجائے گی کہ ظاہر ہوا کہ محلِ انفراد میں اقتدا کیا تھا، ہاں اگر معلوم نہ ہوا تو اس کے لئے حکم فساد نہیں کہ وہ حال امام کو صلاح و صواب پر حمل کرنا ہی چاہئے‘‘۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 185، رضا فاؤنڈیشن لاہور)

مفتی جلال الدین احمد امجدی رحمۃ اللہ علیہ فتاوٰی فقیہ ملت میں سوال کہ نماز میں سجدۂ سہو واجب نہ تھا مگر کیا تو کیا حکم ہے؟

اس کے جواب میں آپ رحمۃ اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا: ”اگر وہ شخص منفرد (تنہا نماز پڑھنے والا) ہے اور سجدۂ سہو واجب نہیں تھا لیکن کیا تو اس کی نماز ہوگئی۔ اسی طرح اگر امام نے بلا ضرورت سجدۂ سہو کیا تو مُدرک یعنی وہ مقتدی جو پہلی رکعت سے آخر تک شریکِ جماعت رہے اور امام، سب کی نمازیں ہوجائیں گی، اس لئے کہ جب سہو واجب نہ ہو تو اس کی نیت سے سلام پھیرتے ہی نماز تمام ہو جاتی ہے اور اگر وہ مسبوق ہے یعنی ایسا مقتدی ہےکہ جس کی کچھ رکعتیں چھوٹ گئیں اور امام نے بے جا سجدۂ سہو کیا اور اس نے امام کی اتباع کی تو ا س کی نماز باطل ہوگئی۔ ملک العلماء حضرت علامہ امام علاء الدین کاسانی رحمۃ اللہ علیہ تحریر فرماتے ہیں: ’’المسبوق اذا تابع الامام فی سجود السھو ثم تبین انہ لم یکن علی الامام سھو حیث تفسد صلاۃ المسبوق“ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 175) وھو تعالی اعلم‘‘۔ (فتاوٰی فقیہ ملت، جلد 1، صفحہ 217، شبیر برادرز، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری

فتوی نمبر: FAM-1282

تاریخ اجراء: 15 صفر المظفر 1448ھ/30 جولائی 2026ء