logo logo
AI Search

نماز میں سورۃ الفاتحہ کے بعد دعائے قنوت پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

نمازمیں سورہ فاتحہ کے بعد دعائے قنوت پڑھنے کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

ہماری مسجد میں ایک نئےامام صاحب آئے ہیں، میں عشاء کی نماز پڑھنے کے لئے مسجد میں گیا، امام صاحب نے نماز عشاء کی پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ کے بعد قصدا صرف دعائے قنوت پڑھی، سورت یا آیات کی تلاوت نہیں کی۔ اس صورت میں نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

فرض نماز کی پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے بعد چھوٹی سورت یا اس کے قائم مقام ایک بڑی آیت یا چھوٹی تین آیات ملانا واجب ہے، جبکہ دعائے قنوت قرآن مجید کا حصہ نہیں ہے، لہذا امام صاحب نے سورۃ الفاتحہ کے بعد سورت ملانے والا واجب جان بوجھ کر ترک کیا ہے، جس وجہ سے اس صورت میں نماز مکروہ تحریمی ہوئی، واجب الاعادہ ہوئی، امام پر توبہ لازم ہے اور اب امام اور سب مقتدیوں پر، اس عشا ء کے فرضوں کو دوبارہ پڑھنا واجب ہے۔

تنویر الابصار میں ہے "و ضم سورۃ فی الاولیین من الفرض و جمیع النفل و الوتر" ترجمہ: فرض کی پہلی دو رکعتوں میں اور نفل و وتر کی تمام رکعتوں میں سورت ملانا واجب ہے۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار و رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، واجبات الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 185، 186، مطبوعہ: کوئٹہ)

ترک واجب کے حوالے سے درمختار میں ہے: ”(و لها واجبات) لا تفسد بتركها و تعاد وجوبا في العمد و السهو إن لم يسجد لہ“ ترجمہ: نماز کے کچھ واجبات ہیں کہ جن کو چھوڑنے سے نماز فاسد تو نہیں ہوتی، البتہ جان بوجھ کر چھوڑنے میں اور بھول کر چھوڑنے میں اگر سجدہ سہو نہ کیا ہو، تو نماز کا اعادہ واجب ہوتا ہے۔ (الدر المختار مع رد المحتار، کتاب الصلاۃ، باب صفۃ الصلاۃ، واجبات الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 181، 182، مطبوعہ: کوئٹہ)

فتاوی امجدیہ میں ہےواجباتِ نماز سے ہر واجب کے ترک کا یہی حکم ہے کہ اگر سہواً ہو تو سجدہ سہو واجب، اور اگر سجدہ سہو نہ کیا یا قصداً واجب کو ترک کیا تو نماز کا اعادہ واجب ہے۔ (فتاویٰ امجدیہ، ج 01، ص 276، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا اعظم عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4910
تاریخ اجراء: 27 شوال المکرم 1447ھ / 16 اپریل 2026ء