آیت سجدہ بار بار پڑھنے پر کتنے سجدے لازم ہونگے؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مختلف اوقات میں ایک ہی آیت سجدہ پڑھنے پر کتنے سجدے لازم ہوں گے؟
دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ایک ہی آیتِ سجدہ بار بار مختلف وقتوں میں مثلا ظہر، پھر عصر، پھر مغرب کے بعد پڑھی، تو کتنے سجدے کرنے ہوں گے؟
جواب
شرعی اصول یہ ہے کہ: ایک ہی آیتِ سجدہ، ایک ہی مجلس میں، بار بار پڑھی، یا سنی، تو ایک ہی سجدۂ تلاوت واجب ہوتا ہے، لیکن اگر ایک آیتِ سجدہ کو بار بار مجلس بدل کر پڑھیں، یا ایک ہی مجلس میں مختلف آیاتِ سجدہ پڑھیں، سنیں، تو اس صورت میں اُتنے ہی سجدے واجب ہوتے ہیں، ایک سجدہ کافی نہیں ہوتا۔ نیز صرف وقت بدلنے سے مجلس نہیں بدلتی مثلا ایک ہی جگہ بیٹھے رہے اور وہیں ایک نماز کا وقت ختم ہو کر دوسری نماز کا وقت شروع ہو گیا اور اس دوران آیت پڑھنے والا اسی ایک جگہ بیٹھا رہا اور اس نے مجلس بدلنے والا کوئی کام نہیں کیا مثلا نہ تین گھونٹ پانی پیا، نہ کوئی دنیوی کام کیا، نہ ہی کسی سے تین الفاظ پر مشتمل بات کی وغیرہ وغیرہ (مزید مثالیں نیچے تفصیلی جزئیے میں آرہی ہیں)، تو صرف وقت بدلنے یا تلاوت والی جگہ سے ہٹے بغیر وہیں پر نماز پڑھنے سے مجلس نہیں بدلے گی اور نماز کے بعد دوبارہ وہی آیتِ سجدہ پڑھنے سے دوسرا سجدہ واجب نہیں ہوگا، لیکن اگر مجلس بدلنے والا کوئی کام کرلیا، تو مجلس بدل جائے گی اور دوبارہ وہی آیتِ سجدہ پڑھنے سے بھی دوسرا سجدہ واجب ہو جائے گا۔
تنبیہ: عام طور پر ایسا ہوتا نہیں ہے کہ ایک ہی جگہ بیٹھے بیٹھے آیتِ سجدہ پڑھی اور وہیں بیٹھے رہ کر دوسری نماز کا وقت شروع ہو گیا اور اسی جگہ نماز پڑھ کر دوبارہ وہی آیت سجدہ پڑھی اور اس پورے دورانیے میں مجلس بدلنے والا کوئی کام نہیں کیا، بلکہ عموما اتنی دیر میں مجلس بدلنے والا کوئی کام ہو جاتا ہے۔ لہٰذا اگر ایسا ہوا، تو مجلس بدل جائے گی اور دوبارہ وہی آیتِ سجدہ پڑھنے سے دوسرا سجدہ واجب ہوگا۔
بہارِ شریعت میں ہے: ایک مجلس میں سجدہ کی ایک آیت کو بار بار پڑھا یا سنا، تو ایک ہی سجدہ واجب ہوگا، اگرچہ چند شخصوں سے سنا ہو۔ يوہيں اگر آیت پڑھی اور وہی آیت دوسرے سے سنی بھی، جب بھی ایک ہی سجدہ واجب ہوگا۔ پڑھنے والے نے کئی مجلسوں میں ایک آیت بار بار پڑھی اور سننے والے کی مجلس نہ بدلی، تو پڑھنے والا جتنی مجلسوں میں پڑھے گا، اس پر اتنے ہی سجدے واجب ہوں گے اور سننے والے پر ایک اور اگر اس کا عکس ہے یعنی پڑھنے والا ایک مجلس میں بار بار پڑھتا رہا اور سننے والے کی مجلس بدلتی رہی، تو پڑھنے والے پر ایک سجدہ واجب ہو گا اور سننے والے پر اتنے، جتنی مجلسوں میں سُنا۔ (بہارِ شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 735، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
مجلس بدلنے اور نہ بدلنے کی صورتوں کے متعلق بہار شریعت میں ہے "دو ایک لقمہ کھانے، دو ایک گھونٹ پینے، کھڑے ہو جانے، دوایک قدم چلنے، سلام کا جواب دینے، دو ایک بات کرنے، مکان کے ایک گوشہ سے دوسرے کی طرف چلے جانے سے مجلس نہ بدلے گی۔ ہاں اگر مکان بڑا ہے جیسے شاہی محل تو ایسے مکان میں ایک گوشہ سے دوسرے میں جانے سے مجلس بدل جائے گی۔ کشتی میں ہے اور کشتی چل رہی ہے، مجلس نہ بدلے گی۔ ریل کا بھی یہی حکم ہونا چاہیے، جانور پر سوار ہے اور وہ چل رہا ہے تو مجلس بدل رہی ہے ، ہاں اگر سواری پر نماز پڑھ رہا ہے تو نہ بدلے گی۔ تین لقمے کھانے، تین گھونٹ پینے، تین کلمے بولنے، تین قدم میدان میں چلنے، نکاح یا خرید و فروخت کرنے، لیٹ کر سو جانے سے مجلس بدل جائے گی۔۔۔ تانا تننا، نہر یا حوض میں تیرنا، درخت کی ایک شاخ سے دوسری پر جانا، ہل جوتنا، دائیں چلانا، چکی کے بیل کے پیچھے پھرنا، عورت کا بچہ کودُودھ پلانا، ان سب صورتوں میں مجلس بدل جاتی ہے جتنی بار پڑھے گا یا سُنے گا اتنے سجدے واجب ہوں گے۔۔۔ کسی مجلس میں دیر تک بیٹھنا قراء ت، تسبیح، تہلیل، درس وعظ میں مشغول ہونا مجلس کو نہیں بدلے گا اور اگر دونوں بار پڑھنے کے درمیان کوئی دنیا کا کام کیا مثلاً کپڑا سینا وغیرہ تو مجلس بدل گئی۔ آیت سجدہ بیرونِ نماز تلاوت کی اور سجدہ کر کے پھر نماز شروع کی اور نماز میں پھر وہی آیت پڑھی تو اس کے ليے دو بارہ سجدہ کرے اور اگر پہلے نہ کیا تھا تو یہی اس کے بھی قائم مقام ہوگیا بشرطیکہ آیت پڑھنے اور نماز کے درمیان کوئی اجنبی فعل فاصل نہ ہو اور اگر نہ پہلے سجدہ کیا نہ نماز میں تو دونوں ساقط ہو گئے اور گنہگار ہوا توبہ کرے۔۔۔ نماز میں آیت سجدہ پڑھی اور سجدہ کر لیا پھر سلام کے بعد اسی مجلس میں وہی آیت پڑھی تو اگر کلام نہ کیا تھا تو وہی نماز والا سجدہ اس کے قائم مقام بھی ہے اور کلام کر لیا تھا تو دوبارہ سجدہ کرے۔ ملخصا" (بہارِ شریعت، ج 1، حصہ 4، ص 736 ۔ 737، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد شفیق عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4912
تاریخ اجراء: 27 شوال المکرم 1447ھ / 16 اپریل 2026ء