logo logo
AI Search

قعدہ اولی میں دو بار التحیات پڑھنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

پہلے قعدے میں بھول کر دو بار التحیات پڑھی اور سجدہ سہو کر لیا تو نماز کا حکم

دارالافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید نماز ِظہر کی امامت کروارہا تھا۔ اس نے بھول کر پہلے قعدے میں دو مرتبہ التحیات  پڑھ دی، لیکن آخر میں سجدہ سہو کرلیا، سوال یہ ہے کہ امام صاحب اور مقتدیوں کی نماز درست ادا ہوگئی یا اس کو دوبارہ ادا کرنا فرض ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں امام صاحب اور مقتدیوں کی نماز درست ادا ہوگئی، اس کو دوبارہ پڑھنے کی حاجت نہیں۔

مسئلہ کی تفصیل یہ ہے کہ فرض، وتر اور سنت مؤکدہ کے قعدہ اولیٰ میں صرف ایک مرتبہ تشہد پڑھنا اور تشہد پر کچھ نہ بڑھانا واجب ہے۔ اگر کسی شخص نے بھول کر تشہد کا تکرار کیا تو قیام (تیسری رکعت کے لیے اٹھنے) میں تاخیر ہونے کی وجہ سے ترکِ واجب لازم آئے گا، اور یہ ترکِ واجب اگر بھول کر  ہو تو آخر میں سجدہ سہو کر لینے سے نماز درست ہو جاتی ہے۔ البتہ اگر کسی نے جان بوجھ کر ایسا کیا، تو محض سجدہ سہو کافی نہیں ہوگا، بلکہ اس صورت میں نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا۔ پوچھی گئی صورت میں چونکہ امام صاحب نے پہلے قعدے میں بھول کر تشہد کا تکرار کیا تھا اور آخر میں سجدہ سہو بھی کرلیا، لہٰذا امام صاحب اور مقتدیوں کی نماز بلا کراہت درست ادا ہوئی۔

نماز کے واجبات کو بیان کرتے ہوئے صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: فرض و وتر و سنن رواتب میں قعدۂ اولیٰ میں تشہد پر کچھ نہ بڑھانا (واجب ہے)۔ (بہار شریعت ج، 1، حصہ 3، صفحہ 518، مکتبۃ المدینہ کراچی )

اور تشہد صرف ایک مرتبہ پڑھنا واجب ہے، تکرار سے سجدہ سہو لازم ہوگا، جیساکہ بحر الرائق شرح کنز الدقائق میں ہے: ’’لو كرر التشهد في القعدة الأولى فعليه السهو لتأخير القيام“ ترجمہ: اگر کسی نے (بھول کر ) پہلے قعدے میں تشہد کا تکرار کیا، تو قیام میں تاخیر کی وجہ سے اس پر سجدہ سہو لازم ہوجائے گا۔ (بحر الرائق شرح کنز الدقائق، جلد 2، صفحہ 105، مطبوعہ دار الكتاب الإسلامي)

تشہد کے تکرار سے سجدہ  سہو لازم ہونے کی علت  تیسری رکعت کے قیام میں تاخیر  کا ہونا ہے، جیساکہ نور الایضاح مع مراقی الفلاح میں ہے: ”یجب( القیام الی) الرکعۃ( الثالثۃ من غیر تراخ بعد) قراءۃ (التشھد) حتی لو زاد علیہ بمقدار اداء رکن ساھیا یسجد للسھو لتاخیر واجب القیام للثالثۃ“ ترجمہ: تشہد پڑھنے کے بعد بغیر تاخیر تیسری رکعت کی طرف اٹھنا واجب ہے، اگر کسی نے بھولے سے تشہد پر ایک رکن کی مقدار زیادتی کی، تو تیسری رکعت کے لیے ا ٹھنے کا واجب مؤخر ہونے کی وجہ سے سجدہ سہو کرے گا۔ (نور الایضاح مع مراقی الفلاح، صفحہ 139، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

”ساھیا “کے تحت حاشیۃ الطحطاوی میں ہے: ”احترز بہ عن العمد فان الصلاۃ تکون بہ مکروھۃ تحریما“ ترجمہ: بھولنے کی قید سے عمداً کو نکال دیا، کیونکہ جان بوجھ کر ایسا کرنے سے نماز مکروہ تحریمی ہو گی۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی المراقی، صفحہ 251، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ، بیروت)

نماز کا واجب  سہو ا یا عمدا ترک ہوجائے، تو اس کی تفصیل کے متعلق فتاوی امجدیہ میں ہے:  واجباتِ نماز سے ہر واجب کے ترک کا یہی حکم ہے کہ اگر سہواً ہو تو سجدہ سہو واجب، اور اگر سجدہ سہو نہ کیا یا قصداً واجب کو ترک کیا تو نماز کا اعادہ واجب ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد01، صفحہ 276، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9906
تاریخ اجراء:19 شوال المکرم 1447 ھ / 08 اپریل 2026 ء