مسجد میں جشن آزادی کی تقریب کرنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
مسجد و جائے نماز میں جشن آزادی یا 23 مارچ کی تقریب کا انعقاد کرنے کا حکم؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ غیر مسلم ممالک میں جہاں مسلمانوں کی تعداد کم ہے، وہاں مسجد اور جائے نماز کمیونٹی سینٹر کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں، کیا ان میں جشن آزادی کی یا 23 مارچ کو ملکی حوالے سے تقریب کا اہتمام کرنا درست ہے؟ اس میں ترانہ پڑھا جائے اور وطن کی محبت کے اوپر گفتگو ہو اور مدرسے کے بچے پرفارم بھی کریں۔
جواب
مساجد میں خالص دنیوی تقریب کا اہتمام کرنا جس میں دنیوی گفتگو، ہنسی مذاق وغیرہ ہو، یہ سراسر ناجائز ہے کہ یہ مسجد کو چوپال بنا دینا ہے جو کہ سخت ممنوع ہے، نیز مسجد دنیوی کاموں کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے ذکر، نماز اور تلاوت قرآن کے لیے بنائی گئی ہے۔ مزید یہ کہ اگر وہ تقریب لہو و لعب اور شور و غل پر مشتمل ہو تو یہ اور زیادہ قبیح ہے کہ یہ مسجد کی بے حرمتی ہے، حالانکہ مساجد میں اپنی آوازیں اونچی کرنے سے بھی منع کیا گیا ہے اور اس میں دنیوی گفتگو کرنے کی تو سخت وعیدیں مروی ہیں۔
اس تفصیل سے واضح ہوا کہ وہ جگہیں جو شرعاً مسجد قرار دی جا چکی ہیں، ان میں وطن اور ملک کے حوالے سے تقریب کا اہتمام کرنا اگر اس طور پر ہو کہ اس میں فی نفسہ خلاف شرع کوئی بات پائی جائے یا اس میں مسجد کے آداب کے خلاف امور شامل ہوں، مثلاً لغو باتیں، شور و غل یا لہو و لعب پر مشتمل ترانے اور نغمے وغیرہ، الغرض کسی بھی طرح سے مسجد کی بے حرمتی کا پہلو پایا جائے، تو اس کی ہرگز اجازت نہیں ہوگی، نہ ایسی تقریب کا انعقاد کرنا، جائز ہے اور نہ ہی اس میں شرکت کرنا روا ہے۔ تاہم اگر اس موقع پر مسجد کے آداب کا لحاظ رکھتے ہوئے ذکر و درود کی محفل کا انعقاد کیا جائے اور وعظ و نصیحت، نعمت پر شکر، اس کی قدر کی ترغیب اور سلامتی کی دعاؤں وغیرہ کا سلسلہ ہو، اگرچہ ضمناً دعائیہ اشعار بھی پڑھے جائیں، تو اس میں کوئی حرج نہیں؛ کہ یہ بھی ذکر ہی کی صورت ہے، البتہ یہ خیال رہے کہ کسی نماز پڑھنے والے کے لیے یہ سب رکاوٹ نہ بنے، رہا جائے نماز پر ایسی تقریبات کا انعقاد کرنا تو اس کا حکم مسجد والا نہیں، لہذا اگر اس تقریب میں خلاف شرع کوئی بات نہ ہو تو وہاں اس کی اجازت ہے، جبکہ اس میں کسی دوسری وجہ سے ممانعت نہ ہو۔
لیکن یہ بات ذہن نشین رہے کہ کسی دین دار، خوف خدا رکھنے والے، شریعت کے پابند اور مسجد کی تعظیم و حرمت کرنے والے کی سرپرستی میں ایسی تقریب ہو تو خلافِ شرع امور سے بچنے کی امید ہے، لیکن اگر ایسی سرپرستی نہیں، تو پھر دنیاداروں سے شریعت کی پابندی کی امید رکھنا سوائے حماقت کے اور کچھ نہیں۔
سنن ابن ماجہ، مصنف عبد الرزاق، سنن الکبری للبیہقی اور کنزالعمال وغیرہ میں ہے: ”عن واثلة بن الأسقع، أن النبي صلى اللہ عليه و سلم قال: جنبوا مساجدكم صبيانكم و مجانينكم و شراءكم و بيعكم و خصوماتكم و رفع أصواتكم و إقامة حدودكم و سل سيوفكم“ ترجمہ: حضرت واثلہ بن اسقع رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اپنی مسجدوں کو بچوں سے، پاگلوں سے، خرید و فروخت سے، جھگڑوں سے، اپنی آوازیں اونچی کرنے سے، حدود قائم کرنے سے اور اپنی تلواریں سوتنے سے بچاؤ۔ (سنن ابن ماجه، كتاب المساجد و الجماعات، جلد 1، صفحہ 247، حدیث 750، دار إحياء الكتب العربية)
علامہ بدرالدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: ”فيه دليل على أن المساجد لا يجوز فيها إلا ذكر اللہ و الصلاة و قراءة القرآن بقوله: "و إنما هي لذكر اللہ" من قصر الموصوف على الصفة و لفظ الذكر عام يتناول قراءة القرآن و قراءة العلم و وعظ الناس“ ترجمہ: حدیث پاک میں اس بات کی دلیل ہے کہ مساجد میں صرف اللہ کا ذکر، نماز اور قرآن کی تلاوت ہی جائز ہے؛ کیونکہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد پاک کہ مساجد تو صرف اللہ کے ذکر کے لیے ہیں موصوف کو صفت پر محدود کرنے کے باب سے ہے۔ اور لفظِ ذکر عام ہے، جو قرآن کی تلاوت کرنے، علم حاصل کرنے اور لوگوں کو وعظ کرنے کو شامل ہے۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، کتاب الوضوء، جلد 3، صفحہ 188، دار الكتب العلمية، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: بلا شبہ اگر ان افعال (یعنی مسجد میں کھانے پینے سونے وغیرہ) کا دروازہ کھولا جائے تو زمانہ فاسد ہے اور قلوب ادب و ہیبت سے عاری، مسجدیں چو پال ہو جائیں گی اور ان کی بے حرمتی ہوگی، وکل ما ادی الی محظور محظور (یعنی ہر وہ شے جو ممنوع کا سبب بنے وہ خود ممنوع ہے۔)... مسجد کو چوپال بنانا جائز نہیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 93 و 95 ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
ملک العلماء علامہ ابوبکر بن مسعود كاسانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 587ھ / 1191ء) لکھتے ہیں: ”ان تعظيم المسجد واجب“ ترجمہ: مسجد کی تعظیم و احترام کرنا واجب ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الحدود، جلد 7، صفحہ 60، دار الكتب العلمية، بیروت)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: وہ مسجد جس میں دنیا کی مباح باتیں کرنے کو بیٹھنا نیکیوں کو کھاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو۔ فتح القدیر میں ہے: الکلام المباح فیہ مکروہ یأکل الحسنات (مسجد میں کلام مباح بھی مکروہ ہے اور نیکیوں کو کھا جاتا ہے۔ (ت) ... امام ابو عبداللہ نسفی نے مدارک شریف میں حدیث نقل کی کہ: الحدیث فی المسجد یأکل الحسنات کما تأکل البھیمۃ الحشیش (مسجد میں دنیا کی بات نیکیوں کو اس طرح کھا جاتی ہے جیسے چوپایہ گھاس کو۔(ت)) غمز العیون میں خزانۃ الفقہ سے ہے: من تکلم فی المساجد بکلام الدنیا احبط اللہ تعالی عنہ عمل اربعین سنۃ" جو مسجد میں دنیا کی بات کرے اللہ تعالیٰ اس کے چالیس برس کے عمل اکارت فرما دے۔ أقول: و مثلہ لایقال بالرائ (میں کہتا ہوں کہ اس قسم کی بات رائے اور اٹکل سے نہیں کہی جا سکتی۔ (ت)) رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: سیکون فی اخر الزمان قوم یکون حدیثھم فی مساجدھم لیس لله فیهم حاجۃ رواہ ابن حبان فی صحیحہ عن ابن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ (یعنی) آخر زمانے میں کچھ لوگ ہوں گے کہ مسجد میں دنیا کی باتیں کریں گے اللہ عزوجل کو ان لوگوں سے کچھ کام نہیں۔ (اس کو ابن حبان نے اپنی صحیح میں سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت فرمایا۔ ت) حدیقہ ندیہ شرح طریقہ محمدیہ میں ہے: کلام الدنیا اذاکان مباحا صدقا فی المساجد بلاضرورۃ داعیۃ الی ذٰلک کالمعتکف يتكلم فی حاجتہ اللازمۃ مکروہ کراھۃ تحریم (ثم ذكر الحدیث و قال فی شرحہ) لیس لله تعالی فیهم حاجۃ ای لایرید بھم خیرا و انما ھم اھل الخیبۃ و الحرمان و الاھانۃ و الخسران" یعنی دنیا کی بات جبکہ فی نفسہٖ مباح اور سچی ہو مسجد میں بلا ضرورت کرنی حرام ہے، ضرورت ایسی جیسے معتکف اپنے حوائج ضروریہ کے لیے بات کرے، پھر حدیث مذکور ذکر کر کے فرمایا: معنیٔ حدیث یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ بھلائی کا ارادہ نہ کرے گا اور وہ نامراد و محروم و زیاں کار اور اہانت و ذلت کے سزاوار ہیں۔ ... اسی میں ہے: "و روی ان الملئکۃ یشکون الی اللہ تعالی من نتن فم المغتابین و القائلین فی المساجد بکلام الدنیا" یعنی روایت کیا گیا کہ جو لوگ غیبت کرتے ہیں (جو سخت حرام اور زنا سے بھی اشد ہے) اور جو لوگ مسجد میں دنیا کی باتیں کرتے ہیں، ان کے منہ سے وہ گندی بدبو نکلتی ہے جس سے فرشتے اللہ عزوجل کے حضور ان کی شکایت کرتے ہیں۔ سبحان اللہ! جب مباح و جائز بات بلا ضرورت شرعیہ کرنے کو مسجد میں بیٹھنے پر یہ آفتیں ہیں تو حرام و ناجائز کام کرنے کا کیا حال ہوگا۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 311 - 313 ملتقطاً، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: مسجد میں شور و شر کرنا حرام ہے، اور دنیوی بات کے لیے مسجد میں بیٹھنا حرام اور نماز کے لیے جا کر دنیوی تذکرہ مسجد میں مکروہ۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 112، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: مباح باتیں بھی مسجد میں کرنے کی اجازت نہیں، نہ آواز بلند کرنا جائز۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 648، مکتبة المدینہ، کراچی)
امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: مجلس میلاد مبارک کہ روایات صحیحہ سے ہو اور اشعار کہ پڑھے جائیں مطابق شرع مطہر ہوں اور الحان سے پڑھنے والے مرد غیر امرد ہوں، مسجد میں بھی جائز ہے کہ مساجد ذکر الہی کے لیے بنیں۔ (فتاوی رضویہ، جلد 8، صفحہ 123، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: مسجد میں شعر پڑھنا ناجائز ہے، البتہ اگر وہ شعر حمد و نعت و منقبت و وعظ و حکمت کا ہو تو جائز ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 647، مکتبة المدینہ، کراچی)
علامہ عبد الغنی بن اسماعیل نابلسی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1143ھ / 1731ء) لکھتے ہیں: ”يجوز الكلام المباح في الجبانة ومصلى الجنازة وفناء المسجد و هو ما اتصل به لأجل مصالحه وفي المدرسة التي يمنع أهلها الناس من الصلاة فيها لعدم كونها مسجدا و لو كان فيهـا محراب لأنها بيت للتدريس لا للصلاة والعرف يقضي بذلك وليس لهذه المواضع حكم المسجد إلا في جواز الاقتداء لا فيما سوى ذلك“ ترجمہ: قبرستان، جنازہ گاہ اور فنائے مسجد میں، جو کہ مصالح مسجد کی خاطر مسجد سے متصل جگہ ہوتی ہے، مباح گفتگو کرنا جائز ہے، اور اُس مدرسے میں بھی (مباح بات چیت کرنا جائز ہے) جس کے منتظمین لوگوں کو اس کے مسجد نہ ہونے کی وجہ سے اس میں نماز پڑھنے سے روکتے ہوں، اگرچہ اس میں محراب ہو؛ اس لیے کہ وہ تدریس کے لیے (بنایا گیا) گھر ہے نہ کہ نماز کے لیے اور عرف بھی اسی پر فیصلہ دیتا ہے۔ اور ان مقامات کے لیے مسجد کا حکم نہیں، سوائے وہاں اقتدا کے جائز ہونے کے معاملے میں، نہ کہ اس کے علاوہ دیگر احکام میں۔ (الحديقة الندية شرح الطريقة المحمدية، جلد 4، صفحہ 234، دار الكتب العلمية، بیروت)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1148
تاریخ اجراء: 18 شوال المكرم 1447ھ / 07 اپریل 2026ء