صف میں ستون آنے کے سبب اگلی پچھلی صف میں فاصلہ ہونا
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
صف کے درمیان ستون کی وجہ سے اگلی پچھلی صف میں زیادہ فاصلہ رکھنا
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
مفتی صاحب کی بارگاہ میں عرض ہے، کہ ہمارے ہاں مسجد میں جب صفیں بنتی ہیں، تو درمیان میں ستون (Pillars) آ جاتے ہیں، چونکہ ستونوں کے درمیان صف بنانا منع ہے، اس لیے ہم ستون والی جگہ چھوڑ کر، اس کے بعد صف بناتے ہیں، اس طرح اگلی اور پچھلی صف کے درمیان اتنا فاصلہ ہو جاتا ہے، کہ وہاں سے ایک بیل گاڑی گزر سکے، تو کیا اس صورت میں پیچھے والے نمازیوں کی نماز ہو جائے گی؟
جواب
اقتدا کے معاملے میں پوری مسجد، ایک مکان کے حکم میں ہوتی ہے، اور جماعت کے ساتھ نماز ادا کرتے ہوئے اقتدا کے درست ہونے کے لیے امام اور مقتدی کا ایک جگہ ہونا شرط ہے، لہذا ستونوں کی وجہ سے اگلی اور پچھلی صف میں اتنا فاصلہ ہو جانا، کہ وہاں سے ایک بیل گاڑی گزر سکے ، اس میں کوئی کراہت نہیں، کہ اس صورت میں حکم شرع یہی ہے کہ ستونوں کے پیچھے صف بنائی جائے۔ البتہ! اگر اگلی اور پچھلی صف میں اتنا فاصلہ ستونوں کی وجہ سے نہیں ہے، بلکہ بلا وجہ ہے تو اتنا کثیر فاصلہ رکھنا ضرور مکروہ ہے لیکن مکان وا حد کی وجہ سے اقتدا درست ہونے کی بناء پر، پچھلی صف والے مقتدیوں کی نماز ہو جائے گی۔
بدائع الصنائع میں ہے "و منها اتحاد مكان الامام و المأموم، و لأن الاقتداء يقتضی التبعية فی الصلاة، والمكان من لوازم الصلاة فيقتضی التبعية فی المكان ضرورة" ترجمہ: اقتداکی شرائط میں سے ہے کہ امام اور مقتدی کا مکان ایک ہو، کیونکہ اقتداء اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ مقتدی نماز میں، امام کے تابع ہو کر رہے اور مکان، نماز کے لوازمات میں سے ہی ہے تو اب اس بات کا بھی تقاضا ہوگا کہ مقتدی مکان میں بھی ضرور امام کے تابع ہو کر رہے۔ (بدائع الصنائع جلد 1، صفحہ 145، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
فتاوی عالمگیری میں ہے "والمسجد وان کبر لایمنع الفاصل فیہ…ولو اقتدی بالامام فی اقصی المسجد والامام فی المحراب وانہ یجوز" ترجمہ: مسجد کبیر میں بھی صفوں کے درمیان فاصلہ ہونا اقتدا سے مانع نہیں ہوتا اور اگر کسی نے مسجد کے آخر میں امام کی اقتدا کی اور امام محراب میں ہو، تو اس کی اقتدا جائز ہے۔ (فتاوی عالمگیری، کتاب الصلاۃ، الباب الخامس في الامامۃ، جلد 1، صفحہ 88، دارالفكر، بیروت)
فتاوی رضویہ میں ہے "امام صف سے اتنا آگے کھڑا ہو کہ جو مقتدی اس کے پیچھے ہے اس کا سجدہ بطور مسنون بآسانی ہو جائے بلا ضرورت اس سےکم فاصلہ رکھنا جس کے سبب مقتدیوں کو سجدہ میں تنگی ہو منع ہے یوں ہی فاصلہ کثیر، عبث چھوڑنا خلاف سنت مکروہ ہے۔" (فتاوی رضویہ، ج 06، ص 547، رضافاؤنڈیشن، لاہور)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ/ 1947ء) لکھتے ہیں: "مسجدِ عید گاہ میں کتنا ہی فاصلہ امام و مقتدی میں ہو مانعِ اقتدا نہیں، اگرچہ بیچ میں دو یا زیادہ صفوں کی گنجائش ہو۔" (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 564، مکتبۃ المدینۃ، کراچ )
پوری مسجد مکان ِ واحد کے حکم میں ہونے کے متعلق تحفۃ الفقہاء، بدائع الصنائع، فتح القدیر، در مختار و رد المحتار وغیرہا کتبِ فقہ میں ہے، (واللفظ للبدائع ) "المسجد كله بمنزلة بقعة واحدة حكما“ ترجمہ: مسجد تمام کی تما م حکمی طور پر ایک ہی مکان ہے۔ (بدائع الصنائع، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 226، دارالکتب العلمیۃ، بیروت)
امام اہلسنت، امام احمد رضا خان علیہ رحمۃ الرحمن فرماتے ہیں: "بے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطعِ صف ہے اور قطع صف ناجائز۔" (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 131، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: ابو شاہد مولانا محمد ماجد علی مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4994
تاریخ اجراء: 24 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 12 مئی 2026ء