logo logo
AI Search

نفل پڑھانے والے کے پیچھے فرض نماز پڑھنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

کیا نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز کی اقتداء کرسکتے ہیں؟ ایک حدیث پاک کی وضاحت

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض نماز کی اقتداء کرسکتے ہیں؟ میں نے ایک حدیث پاک پڑھی حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھتے اس کے بعد اپنی قوم کو جاکر وہی نماز پڑھایا کرتے تھے اس سے تو یہ ثابت ہوتا ہے کہ نفل والے کے پیچھے فرض نماز ہوجاتی ہے۔ نیز سوشل میڈیا پر میں نے ایک شخص سے یہ سنا تھا کہ صرف احناف ہی اس سے منع کرتے ہیں، بقیہ تمام ائمہ و دیگر تمام لوگ اس کے جواز کے قائل ہیں۔ کیا یہ باتیں درست ہیں؟ مجھے ان سب باتوں کا مدلل جواب تحریری طور پر چاہئے۔

جواب

احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں فرض پڑھنے والا شخص، نفل پڑھنے والے کی اقتداء نہیں کرسکتا۔

اس حکمِ شرعی کی تفصیل یہ ہے کہ حدیث پاک میں ارشاد ہوا: امام مقتدیوں کا ضامن ہوتا ہے، یعنی امام کی نماز مقتدیوں کی نماز کو اپنے ضمن میں لئے ہوتی ہے۔ اسی وجہ سے فقہائے کرام نے یہ مسئلہ بیان فرمایا کہ جماعت کے ساتھ نماز درست ہونے کی شرط یہ ہے کہ مقتدی اور امام کی نماز متحد ہو اس معنیٰ میں کہ مقتدی کے لئے امام کی نماز کی نیت سے نماز میں شامل ہونا، ممکن ہو، تا کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز کو اپنے ضمن میں لے لے، اور یہ تبھی ہوگا جب امام کی نماز کا درجہ مقتدی کی نماز سے اعلیٰ یا کم از کم برابر ہوگا۔ کیونکہ متضمِّن کے لئے متضمَّن سے اعلیٰ یا کم از کم برابر ہونا ضروری ہے۔ جب کہ یہ بات واضح ہے کہ نوافل کا درجہ فرائض سے کم ہے۔ اسی لئے جب فرض پڑھنے والا نفل والے کے پیچھے نماز پڑھے گا تو ایسی صورت میں امام کی نماز مقتدی کی نماز کو اپنے ضمن میں لئے ہوئے نہیں ہوگی، کیونکہ نفل پڑھنے والے امام کی نماز کا رتبہ فرض پڑھنے والے مقتدی کی نماز سے کم ہے، تو ایسی صورت میں اس مقتدی کی نماز نہیں ہوگی۔

اسی طرح اس کی ایک دلیل یہ بھی دی گئی ہے کہ حدیث شریف میں امام کی اتباع کا حکم دیا گیا، اور امام کی مخالفت سے منع کیا گیا ہے۔ جبکہ نیت نماز کا اہم رکن ہے، تو جب کوئی شخص کسی نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض کی نیت سے نماز پڑھے گا تو وہ امام کی نماز (نفل) سے بڑا درجہ رکھنے والی نماز (فرض) کی نیت کرکے، نماز کے اہم رکن میں ہی امام کی مخالفت کرے گا، تو ایسی صورت میں امام کی اتباع نہیں پائی جائے گی، لہذا اس کی نماز نہیں ہوگی۔

نیز یہ صرف احناف کا ہی موقف نہیں بلکہ سیدنا امام مالک بن انس، مدینہ منورہ و کوفہ کے جمہور تابعین رحمۃ اللہ علیہم کا بھی اس بارے میں یہی مؤقف ہے، اور ایک روایت کے مطابق امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ بھی اسی کے قائل ہیں۔ جیسا کہ عنقریب حوالہ جات میں بیان کیا جائے گا۔

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ والی روایت کا جواب:

اس روایت کے درج ذیل کئی جوابات ہیں:

(1) حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ظاہر یہی ہے کہ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے پیچھے نفل پڑھتے تھے تاکہ حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کے پیچھے نماز پڑھ کے نماز کا درست طریقہ سیکھ لیں، اور حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی نماز سے برکتیں حاصل کرلیں، اور پھر جاکر اپنی قوم کو فرض نماز پڑھائیں۔ نیز حضور علیہ الصلوٰۃ و السلام کی اقتدا اور اپنی قوم کی امامت دونوں کا ثواب حاصل ہو۔ اس صورت کے جواز پر سب کا اتفاق ہے، لہٰذا حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے عمل کو اسی متفق علیہ صورت پر محمول کیا جائے گا۔

(2) یہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا اپنا ذاتی عمل تھا، اس کے متعلق نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم کا کوئی فرمان نہیں تھا، یہی وجہ ہے جب نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی بارگاہ میں یہ بات پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو ایسا کرنے سے منع فرماتے ہوئے فرمایا: اے معاذ! یا تو آپ ہمارے پیچھے نماز پڑھ لیا کریں، یا پھر اپنی قوم کو ہلکی نماز پڑھایا کریں۔ یعنی ایک کام کرو یا تو ہمارے پیچھے نماز پڑھ لو اور اپنی قوم کی امامت نہ کرو، اور اگر امامت کرنی ہے تو پھر انہیں ہلکی نماز پڑھاؤ اور ایسی صورت میں ہمارے پیچھے نماز نہ پڑھو۔

(3) اگر یہ مان لیا جائے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے فرمان کے مطابق ایسا کرتے تھے تو اس کا جواب یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا یہ فرمان اس وقت کا ہوگا جب ایک وقت میں ایک ہی فرض کو دو بار پڑھنے کی ممانعت نہیں تھی۔ لیکن بعد میں جب ایک فرض کو دوبار پڑھنے کی ممانعت وارد ہوگئی تو یہ اجازت منسوخ ہوگئی۔ جیسا کہ سنن دار قطنی وغیرہ کی حدیث مبارک میں ممانعت وارد ہے۔ تو اب حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کے واضح طور پر منع فرمانے کے بعد کسی کا ظاہری عمل بھی حجت نہ رہا۔

دلائل و جزئیات:

سنن ابی داؤد، سنن ترمذی، سنن ابن ماجہ وغیرہ کتبِ حدیث میں ہے، و النظم للاول:  عن أبي هريرة قال: قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: الإمام ضامن و المؤذن مؤتمن․ اللّٰهم أرشد الأئمة واغفر للمؤذنين․ ترجمہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: امام ضامن اور موذن کو امین بنایا گیا ہے۔ اے اللہ! ائمہ کو ہدایت عطا فرمااور موذنین کی بخشش فرما۔ (سنن ابی داؤد، جلد 1، صفحہ 389، دارالرسالہ العالمیہ)

اس حدیثِ پاک کے تحت علامہ محمود بن احمد حنفی بدر الدين عینی رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 855ھ) لکھتے ہیں: معناه يتضمن صلاته صلاة القوم، و عن هذا قالوا: اقتداء المفترض بالمتنفل لايجوز؛ لأن تضمين الشيء فيما هو فوقه يجوز و فيما دونه لا يحوز، و هو المعني من الفرق؛ فإن الفرض يشتمل على أصل الصلاة و الصفة و النفل يشتمل على أصل الصلاة و إذا كان الإمام مفترضا فصلاته تشتمل صلاة المتقدي و زيادة فيصح الاقتداء و إذا كان متنفلا فصلاته لا تشتمل على ما تشتمل عليه صلاة المقتدين؛ فلا يصح اقتداؤه به؛ لأنه بناء القوي على الضعيف؛ فيكون منفردا في حق الوصف. و هذا الحديث أصل لثلاثة من الفروع تستفاد منه؛ الأول: فساد اقتداء المفترض بالمتنفل․

ترجمہ: اس روایت کا معنیٰ یہ ہے کہ امام کی نماز مقتدی کی نماز کو متضمن ہوتی ہے۔ اسی لئے فقہائے کرام فرماتے ہیں: فرض پڑھنے والے کے لئے نفل والے کی اقتداء جائز نہیں ہے۔ کیونکہ کوئی بھی شے اپنے سے اوپر والی چیز کے ضمن میں تو ہوسکتی ہے، جبکہ اپنے سے نیچے والی چیز کے ضمن میں نہیں ہوسکتی ہے۔ یہی فرق کا معنی ہے، کیونکہ فرض اصلِ نماز اور صفتِ نماز (فرض) پر مشتمل ہوتے ہیں، جبکہ نفل صرف اصلِ نماز پر مشتمل ہوتی ہے، اور جب امام فرض پڑھ رہا ہوتا ہے تو اس کی نماز (نفل پڑھنے والے) مقتدی کی نماز کو اور اس سے کچھ زیادتی کو شامل ہوتی ہے، اسی لئے اس کی اقتداء درست ہوئی، اور جب امام نفل پڑھ رہا ہو تو اس کی نماز (فرض پڑھنے والے) مقتدیوں کی نماز کی صفت پر مشتمل نہیں ہوگی، اسی لئے اس کی اقتداء درست نہیں ہوگی۔ کیونکہ ایسی صورت میں قوی کی ضعیف پر بنا ہوگی اور فرض پڑھنے والا وصف میں منفرد ہوجائے گا۔ یہ حدیث تین فروعی مسائل کی اصل ہے جو کہ اس حدیث سے مستفاد ہوتے ہیں ۔ان میں سے پہلا مسئلہ یہ ہے کہ فرض پڑھنے والے کا نفل پڑھنے والے کی اقتداء فاسد ہے۔ (شرح سنن ابى داؤد للعينى، جلد 02، صفحہ 368، مکتبۃ الرشد، ریاض)

مرآة المناجیح میں ہے: امام مقتدیوں کی نماز کا ذمہ دارہے، اور اپنی نماز کے ضمن میں ان کی نمازوں کو لیے ہوئے، اسی لئے امام کی قرأت مقتدی کی قرأت ہے، امام کے سہو سے مقتدی پر سجدہ سہو ہے ۔۔۔ اس سے معلوم ہوا کہ نفل والے کے پیچھے فرض والے کی نماز جائز نہیں کیونکہ فرض نفل سے اعلیٰ ہے؛ اور اعلیٰ کے ضمن میں ادنیٰ آسکتا ہے، نہ کہ ادنیٰ کے ضمن میں اعلیٰ۔ یونہی اگر مقتدی کی نماز امام کی نماز سے مختلف ہو تو جائز نہیں، کیونکہ کوئی نماز اپنے غیر کو اپنے ضمن میں نہیں لے سکتی۔ غرض کہ یہ حدیث بہت سے مسائل میں امام اعظم کی دلیل ہے۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 1، صفحہ 401، قادری پبلشرز)

صحیح بخاری، صحیح مسلم، سنن ابی داؤد وغیرہ میں ہے: ”عن أنس بن مالك قال و قال: إنما جعل الإمام ليؤتم به، فإذا كبر فكبروا، و إذا ركع فاركعوا، و إذا رفع فارفعوا، و إذا قال: سمع اللہ لمن حمده، فقولوا: اللهم ربنا و لك الحمد“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: امام اسی لیے بنایا جاتا ہے تاکہ اس کی اتباع کی جائے۔ جب وہ تکبیر کہے تو تم تکبیر کہو۔ جب وہ رکوع کرے تم رکوع کرو۔ جب وہ سر اٹھائے تم سر اٹھاؤ۔ جب وہ سمع اللہ لمن حمدہ کہے تم ربنا و لک الحمد کہو۔ (صحیح بخاری، جلد 03، صفحہ 50، یوبی ھند)

التمہید لابن عبد البر میں ہے: ”فقال مالك وأصحابه لا يجزي أحدا أن يصلي صلاة الفريضة خلف المتنفل ۔۔۔ و حجتهم أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قال إنما جعل الإمام ليؤتم به فمن خالفه في نيته فلم يأتم به و قال فلا تختلفوا عليه و لا اختلاف أشد من اختلاف النيات إذ هي ركن العمل“ ترجمہ: امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب فرماتے ہیں: نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے سے فرض ادا نہیں ہوں گے ۔۔۔ ان کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا یہ فرمان ہے: امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے، تو جو نیت میں امام کے مخالف ہوگا اس نے گویا امام کی اتباع نہیں کی، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: امام کی مخالفت نہ کرو۔ تو نیت میں اختلاف سے بڑھ کر کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ نیت عمل کا رکن ہے۔ (التمھید لابن عبد البر، جلد 24، صفحہ 367، وزارۃ عموم الاوقاف)

اقتدا کی ایک شرط بیان کرتے ہوئے علامہ علاؤ الدین حصکفی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”و اتحاد صلاتھما“ ترجمہ: امام اور مقتدی دونوں کی نماز کا ایک ہونا۔

اس کے تحت علامہ شامی رحمۃ اللہ علیہ رد المحتار میں ارشاد فرماتے ہیں: قال فی البحر: و الاتحاد أن یمکنہ الدخول فی صلاتہ بنیۃ صلاۃ الامام فتکون صلاۃ الامام متضمنۃ لصلاۃ المقتدی اھ فدخل اقتداء المتنفل بالمفترض“ ترجمہ: بحر الرائق میں فرمایا کہ اتحاد یہ ہے کہ امام کی نماز کی نیت کے ساتھ، مقتدی کی نماز کا، امام کی نماز میں داخل ہونا ممکن ہو، لہذا اس میں نفل پڑھنے والے کی فرض پڑھنے والے کے ساتھ اقتدا داخل ہوگئی۔ (در مختار مع رد المحتار، جلد 2، صفحہ 338، 339، دار المعرفۃ، بیروت)

نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنےو الے کی، اور ایک فرض پڑھنے والے کے پیچھے دوسرے فرض پڑھنے والے کی اقتدا درست نہیں ہوتی۔ چنانچہ تنویر الابصار مع در مختار میں ہے: ”(و) لا (مفترض بمتنفل و بمفترض فرضا آخر) لأن اتحاد الصلاتين شرط عندنا“ ترجمہ: فرض پڑھنے والے شخص کی نفل پڑھنے والے کے پیچھے اور یونہی ایک فرض پڑھنے والے کی دوسرے فرض پڑھنے والے کے پیچھے اقتدا درست نہیں کیونکہ امام اور مقتدی دونوں کی نماز کا ایک ہونا ہمارے نزدیک شرط ہے۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، صفحہ 391، 392،دار المعرفۃ، بیروت)

بہار شریعت میں ہے: فرض نماز نفل پڑھنے والے کے پیچھے اور ایک فرض والے کی دوسرے فرض پڑھنے والے کے پیچھے نہیں ہوسکتی؛ خواہ دونوں کے فرض دو نام کے ہوں، مثلاً ایک ظہر پڑھتا ہو دوسرا عصر يا صفت میں جُدا ہوں، مثلاً ایک آج کی ظہر پڑھتا ہو، دوسرا کل کی۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 572، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

امام مالک کا بھی یہی موقف ہے۔ جیسا کہ المعونہ علی مذہب، عیون المسائل اور التفریع میں ہے، و اللفظ للاول : ”فإن كان الإِمام متنفلًا لم يجز أن يصلي خلفه مفترض“ ترجمہ: اگر امام نفل پڑھ رہا ہو تو فرض پڑھنے والے کے لئے اس کے پیچھے نماز پڑھنا جائز نہیں ہے۔ (المعونة على مذهب عالم المدینہ، جلد 1، صفحہ 252، المکتبۃ التجاریہ مکہ مکرمہ)

عیون المسائل میں ہے: قال مالك: لا يأتم مفترض بمتنفل، و به قال أبو حنيفة. ترجمہ: امام مالک رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فرض پڑھنےوالا، نفل پڑھنے والے کی اقتداء نہ کرے، امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اسی کے قائل ہیں۔ (عيون المسائل للقاضی عبد الوہاب، صفحہ 136، دار ابنِ حزم بیروت)

سفیان ثوری، مدینہ و کوفہ کے جمہور تابعین کا بھی یہی موقف ہے۔ جیسا کہ الاستذکار اور التمہید لابن عبد البر میں ہے، و اللفظ للآخر:  أو يكون الإمام في نافلة و المأموم في فريضة و هذا موضع اختلف الفقهاء فيه فقال مالك و أصحابه لا يجزي أحدا أن يصلي صلاة الفريضة خلف المتنفل و لا يصلي عصرا خلف من صلى ظهرا و هو قول أبي حنيفة و أصحابه و الثوري و قول جمهور التابعين بالمدينة و الكوفة و حجتهم أن رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم قال إنما جعل الإمام ليؤتم به فمن خالفه في نيته فلم يأتم به و قال فلا تختلفوا عليه و لا اختلاف أشد من اختلاف النيات إذ هي ركن العمل

 ترجمہ: یا امام نفل نماز میں ہو اور مقتدی فرض نماز میں۔ یہ وہ مسئلہ ہے جس میں فقہائے کرام کا اختلاف ہے۔ امام مالک رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب فرماتے ہیں: نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنا، یا ظہر والے کے پیچھے عصر پڑھنا جائز نہیں ہے۔ یہی امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے اصحاب، سفیان ثوری اور مدینہ و کوفہ کے جمہور تابعین کا قول ہے۔ ان کی دلیل نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا یہ فرمان ہے: امام اسی لئے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اتباع کی جائے، تو جو نیت میں امام کے مخالف ہوگا اس نے گویا امام کی اتباع نہیں کی، حالانکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: امام کی مخالفت نہ کرو۔ تو نیت میں اختلاف سے بڑھ کر کوئی اختلاف نہیں، کیونکہ نیت عمل کا رکن ہے۔ (التمھید لابن عبد البر، جلد 24، صفحہ 367، وزارۃ عموم الاوقاف)

امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت یہی ہے۔ جیسا کہ امام یحییٰ بن ہبیرہ رحمۃ اللہ علیہ (سال وفات 560ھ) اپنی کتاب اختلاف الائمہ العلماء  میں ذکر فرماتے ہیں: ثم اختلفوا في اقتداء المفترض بالمتنفل. فقال أبو حنيفة و مالك و أحمد: لا يجوز. ترجمہ: نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنے کے متعلق علمائے کرام کا اختلاف ہے۔ امام ابوحنیفہ، امام مالک، امام احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہم فرماتے ہیں: جائز نہیں ہے۔ (اختلاف الائمہ العلماء لابن ہبیرہ، جلد 01، صفحہ 143، دارالکتب العلمیہ بیروت)

حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ والی حدیث:

حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: قال: كان معاذ بن جبل يصلي مع النبي صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ، ثم يرجع فيؤم قومه. ترجمہ: حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ نماز پڑھتے پھر اپنی قوم کے پاس جاتے اور ان کی امامت کرتے۔ (صحیح بخاری، جلد 1، صفحہ 379، دار الکمال المتحدہ)

اس حدیثِ پاک کے تحت شرح معانی الآثار اور مرقاۃ المفاتیح میں ہے، و اللفظ للآخر: و فيه أن النية أمر لا يطلع عليه إلا بإخبار الناوي، فجاز أن معاذا كان يصلي مع النبي صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم بنية النفل ليتعلم منه سنة الصلاة و يتبارك بها، ويدفع عن نفسه تهمة النفاق، ثم يأتي قومه فيصلي بهم الفرض لحيازة الفضيلتين، مع أن تأخير العشاء أفضل على الأصح، و الحمل على هذا أولى؛ لأنه المتفق على جوازه․ ترجمہ: اس حدیث میں یہ بات قابلِ غور ہے کہ نیت ایک ایسا معاملہ ہے جس پر نیت کرنے والے کے بتائے بغیر کسی کو اطلاع نہیں ہوسکتی ہے۔ یہ ہوسکتا ہے کہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے پیچھے نفل کی نیت سے نماز پڑھتے ہوں تاکہ نماز کا طریقہ سیکھ لیں اور اس کی برکتیں حاصل کرلیں، اور اپنے آپ سے تمہتِ نفاق دور کرلیں، پھر اپنی قوم کے پاس جاکر انھیں فرض پڑھاتے ہوں، دو فضیلتیں حاصل کرنے کے لئے، باجود اس کے کہ عشاء کو مؤخر کرنا اصح قول کے مطابق افضل ہے۔ اسی پر محمول کرنا اولیٰ ہے کیونکہ اس صورت کے جواز پر اتفاق ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح، جلد 02، صفحہ 690، دارالفکر بیروت لبنان)

مرآۃ المناجیح میں ہے: ظاہر یہ ہے کہ حضرت معاذ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کےساتھ نفل پڑھ لیتے تھے، پھر اپنی قوم میں آکر انہیں فرض پڑھاتے تھے۔ کیونکہ اس حدیث میں یہ ذکر نہیں کہ آپ پہلے فرض پڑھتے تھے اور بعد میں نفل۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 54، قادری پبلشرز)

یہ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا اپنا ہی عمل تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معلوم ہوا تو آپ نے ایسا کرنے سے منع فرمادیا۔ جیسا کہ مسند احمد، التمہید لابن عبد البر، المعجم الکبیر للطبرانی میں ہے، و اللفظ للاول: حضرت سلیم رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوئے اور عرض کی فقال: يا رسول اللہ، إن معاذ بن جبل يأتينا بعد ما ننام، و نكون في أعمالنا بالنهار، فينادي بالصلاة، فنخرج إليه فيطول علينا، فقال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم: يا معاذ بن جبل، لا تكن فتانا، إما أن تصلي معي، وإما أن تخفف على قومك“ ترجمہ: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ ہمارے سوجانے کے بعد آتے ہیں، ہم لوگ دن میں کام کرتے ہیں، حضرت بلال ہمیں نماز کے لئے نداء دیتے ہیں، پھر ہم نماز کی طرف آتے ہیں، تو ہمیں کافی تاخیر ہوجاتی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت معاذ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اے معاذ! فتنہ کا سبب نہ بنو، یا تو میرے ساتھ نماز پڑھ لیا کرو یا اپنی قوم کو ہلکی نماز پڑھایا کرو۔ (مسنداحمد، جلد 34، صفحہ 307، مؤسسۃ الرسالہ بیروت)

شرح ابن بطال، عمدة القاري، نخب الافكار، شرح معاني الآثار میں ہے، و اللفظ للاول: ”قوله لمعاذ هذا يدل على أنه كان عند رسول اللہ يفعل أحد الأمرين: إما الصلاة معه، و إما الصلاة مع قومه، و لم يكن يجمعهما؛ لأنه قال: إما أن تصلى معى، ولا تصلى بقومك، و إما أن تخفف بقومك، أى ولا تصلى معى، فثبت بهذا الأثر أنه لم يكن من الرسول لمعاذ فى ذلك شىء متقدم“ ترجمہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا حضرت معاذ کو یہ فرمانا: اس بات کی دلیل ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے نزدیک حضرت معاذ بن جبل دو کاموں میں سے ایک ہی کام کرتے تھے، یا تو آپ کے ساتھ نماز پڑھتے تھے، یا اپنی قوم کی امامت کرواتے تھے، دونوں کاموں کو جمع نہیں کرتے تھے۔ کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا: یا تو میرے ساتھ نماز پڑھ لو اور اپنی قوم کو نہ پڑھاؤ، یا پھر اپنی قوم سے تخفیف کرو اور میرے ساتھ نماز نہ پڑھو۔ اس سے یہ بات ثابت ہوئی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو کوئی حکم نہیں دیا ہوا تھا۔ (شرح ابن بطال، جلد 2، صفحه 339، مكتبة الرشد)

مرآۃ المناجیح میں ہے: اگر آپ حضور کے پیچھے فرض ہی پڑھتے ہوں اور اپنی قوم کے ساتھ نفل تو یہ آپ کا اجتہادی عمل ہے جس کی حضور کو اطلاع نہیں دی گئی تھی۔ اطلاع ہونے پر حضور نے اس سے منع فرما دیا۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 02، صفحہ 54، قادری پبلشرز)

اگر حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کا عمل حضور صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اجازت سے تھا، تو یہ اس وقت کی بات ہوگی جب ایک فرض دو بار پڑھنا منع نہیں تھا۔ چنانچہ شرح معانی الاآثار میں ہے: و لو كان في ذلك من رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم أمر, كما قال أهل المقالة الأولى لاحتمل أن يكون ذلك كان من رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم في وقت ما كانت الفريضة تصلى مرتين، فإن ذلك قد كان يفعل في أول الإسلام حتى نهى عنه رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم ۔۔۔. ففعل معاذ الذي ذكرنا يحتمل أن يكون قبل النهي عن ذلك، ثم كان النهي فنسخه․ ترجمہ: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرف سے کوئی حکم تھا تو اس میں یہ احتمال ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان کو اس وقت اجازت دی ہو، جب ایک فرض دو مرتبہ پڑھی جاتی تھی، کیونکہ ابتدائے اسلا م میں یہ ہوتا تھا، بعد میں اس سے منع کردیا گیا ۔۔۔۔ تو حضرت معاذ رضی اللہ عنہ کے اس فعل میں بھی یہ احتمال ہے کہ یہ ممانعت سے پہلے کا ہو، پھر اس سے ممانعت وارد ہوئی اور یہ منسوخ ہوگیا۔ (شرح معانی الآثار، جلد 1، صفحہ 409، عالم الکتب بیروت)

سنن دار قطنی میں ہے: ”حضرت سليمان جو حضرت میمونہ کے غلام ہیں وہ فرماتے ہیں: قال: أتيت على ابن عمر ذات يوم و هو جالس بالبلاط و الناس في صلاة العصر فقلت: أبا عبد الرحمن الناس في الصلاة؟ قال: إني قد صليت, إني سمعت رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم يقول: لا تصلى صلاة مكتوبة في يوم مرتين“ ترجمہ: میں ایک دن حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، آپ فرش پر پیٹھے ہوئے تھے، اور لوگ عصر کی نماز پڑھ رہے تھے، میں نے عرض کی اے ابو عبد الرحمٰن! لوگ نماز میں ہیں۔ آپ نے فرمایا: میں نے نماز پڑھ لی ہے، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کو فرماتے ہوئے سنا: ایک دن میں ایک فرض نماز دو بار نہ پڑھی جائے۔ (سنن دار قطنی، جلد 2، صفحہ 275، مؤسسۃ الرسالہ بیروت)

مرآۃ المناجیح میں ہے: اور اگر آپ حضور صلی الله علیہ و سلم کے ساتھ فرض ہی پڑھتے ہوں تو اپنی قوم کیساتھ بھی فرض ہی پڑھتے تھے اور یہ اس زمانے کا واقعہ ہے جب ایک فرض دو بار پڑھے جاتے تھے، بعد میں یہ حکم منسوخ ہوگیا۔ چنانچہ حضرت ابن عمر فرماتے ہیں کہ ہم کو ایک فرض دوبار پڑھنے سے منع کیا گیا۔ (مرآۃ المناجیح، جلد 02، صفحہ 54، قادری پبلشرز)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: JTL-2728
تاریخ اجراء: 23 رمضان المبارک 1447ھ / 13 مارچ 2026ء