logo logo
AI Search

استخارہ کی شرعی حیثیت اور کرنے کا طریقہ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

استخارہ کی شرعی حیثیت، طریقہ کار اور احکام

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ استخارہ کیا ہے اور کہاں سے ثابت ہے؟ اس کا طریقہ اور احکام بھی بتا دیں۔

جواب

استخارہ کے لغوی معنی ”خیر طلب کرنا“ ہے اور شریعت کی اصطلاح میں اس سے مراد وہ مخصوص نماز یا دعا ہے، جو کسی جائز معاملے میں درست رہنمائی حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور کی جاتی ہے، یعنی جب انسان کسی جائز کام کے کرنے یا نہ کرنے میں تذبذب کا شکار ہو کہ آیا یہ اس کے لیے بہتر ہے یا نہیں؟ تو اس کا اپنی عقل اور تدبیرپر کلی بھروسہ کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے کامل علم اور عظیم قدرت پر بھروسہ کرتے ہوئے اس سے بہترین فیصلے کی التجا کرنا استخارہ ہے۔ استخارہ کرنے کا حکم احادیث مبارکہ سے ثابت ہے، بلکہ حضرت سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تمام کاموں کے متعلق استخارہ اس طرح سکھاتے جیسے قرآن کریم کی کوئی سورت تعلیم فرماتے تھے۔

جب کوئی شخص کسی مباح کام کا ارادہ کرے، مثلاً کہیں اپنی یا اپنی اولاد کی شادی کرنا یا کسی جگہ یا کسی دن سفر کرنا یا کوئی چیز خریدنا وغیرہ تو اس سے پہلے استخارہ کر لینا مستحب ہے۔ استخارہ ایسے عمومی جائز کاموں میں کیا جاتا ہے، عبادات یا گناہ کے کاموں میں استخارہ نہیں کیا جاتا، البتہ عبادات میں استخارہ یوں ہوسکتا ہے کہ اس کے وقت اور مقام کے متعلق اگر شرعی اختیار ہو، تو اب استخارہ کر لیں، جیسے نفلی حج کرنا ہے، تو یہ استخارہ کرنا کہ یہ حج اس سال کروں یا اگلے سال وغیرہا۔ بہتر یہ ہے کہ استخارہ ایک سے زیادہ مرتبہ کیا جائے، حتی کہ ایک حدیث میں سات بار استخارہ کرنے کا بھی ذکر ہے۔ تاہم حقیقت میں اس کا وقت کسی ایک رائے پر دل کے اچھی طرح جم جانے تک ہے۔

استخارے کا طریقہ یہ ہے کہ غیر مکروہ وقت میں دو رکعت نفل نمازِ استخارہ ادا کی جائے، جس کی پہلی رکعت میں سورۂ کافرون یعنی ﴿قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ﴾ اور دوسری میں سورۂ اخلاص یعنی ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ پڑھنا مستحب ہے، اس نماز کے بعد دعائے استخارہ پڑھی جائے جو کہ نیچے مذکور ہے۔ نیز اگر کسی وجہ سے نفل نہ پڑھ سکے تو صرف دعا کے ذریعے بھی استخارہ کیا جا سکتا ہے۔ البتہ دعائے استخارہ سے پہلے اور بعد میں حمد باری تعالیٰ کرنا اور رسول محتشم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام پڑھانا مستحب ہے، خواہ نماز استخارہ کے بعد دعا پڑھیں یا صرف دعائے استخارہ پڑھیں۔

استخارہ کرنے کے بعد جس بات پر دل جمے، اسی کے مطابق عمل کر لینا چاہیے۔ بعض علمائے کرام نے اپنے تجربات کی روشنی میں یہ بھی فرمایا ہے کہ دعائے استخارہ پڑھ کر با وضو قبلہ رو سو جائے، اگر خواب میں سفید یا سبز رنگ نظر آئے، تو وہ کام کر لے کہ یہ بہتری کی علامت ہے اور اگر سرخ یا سیاہ نظر آئے، تو نہ کرے کہ یہ برائی کی علامت ہے۔ لیکن خواب دیکھنا یا خواب میں کچھ نظر آنا، استخارہ کے لیے ضروری نہیں، بلکہ اصل اس کام کے متعلق کسی ایک جانب دل مائل ہو جانا اور اطمینان قلب حاصل ہو جانا ہے، لہذا جب ایک طرف اطمینان قلب ہو جائے، تو پھر اللہ تعالیٰ پر توکل کر کے اس کام کو کر لے، اس میں اللہ پاک کی تائید و نصرت شامل حال ہوگی اور کامیابی نصیب ہوگی۔ ان شاء اللہ الکریم

دعائے استخارہ یہ ہے: " اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْتَخِیْرُکَ بِعِلْمِکَ وَاَسْتَقْدِرُکَ بِقُدْرَتِکَ وَ اَسْأَلُکَ مِنْ فَضْلِکَ الْعَظِیْمِ فَاِنَّکَ تَقْدِرُ وَلَا اَقْدِرُ وَ تَعْلَمُ وَلَا اَعْلَمُ وَاَنْتَ عَلَّامُ الْغُیُوْبِ اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ خَیْرٌ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ عَاجِلِ اَمْرِی وَاٰجِلِہٖ فَاقْدُرْہُ لِیْ وَیَسِّرْہُ لِیْ ثُمَّ بَارِکْ لِیْ فِیْہِ وَاِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا الْاَمْرَ شَرٌّ لِّیْ فِیْ دِیْنِیْ وَمَعَاشِیْ وَعَاقِبَۃِ اَمْرِیْ عَاجِلِ اَمْرِیْ وَاٰجِلِہٖ فَاصْرِفْہُ عَنِّیْ وَاصْرِفْنِیْ عَنْہُ وَاقْدُرْ لِیَ الْخَیْرَ حَیْثُ کَانَ ثُمَّ اَرْضِنِیْ بِہٖ" (دعا کا ترجمہ اگلی حدیث کے ضمن میں موجود ہے۔)یہ دعا پڑھنے کے بعد اپنے معاملے یا حاجت کو بیان کرے، اور یہ بھی کر سکتے ہیں کہ دعا کے دوران ان الفاظ "ھٰذَا الْاَمْر " کی جگہ اپنے معاملے یا حاجت کا نام لے لے، مثلاً سفر کے لیے استخارہ کر رہا ہو تو "اَللّٰھُمَّ اِنْ کُنْتَ تَعْلَمُ اَنَّ ھٰذَا السَفَرَ خَیْرٌ لِّیْ ...الخ" کہہ لے۔

صحیح بخاری، جامع ترمذی، سنن ابی داؤد، سنن ابن ماجہ، سنن نسائی، مسند احمد، مستدرک علی الصحیحین وغیرہ میں ہے: واللفظ للبخاري ”عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يعلمنا ‌الاستخارة في الأمور كما يعلمنا السورة من القرآن يقول: إذا هم أحدكم بالأمر فليركع ركعتين من غير الفريضة ثم ليقل: اللهم إني أستخيرك بعلمك وأستقدرك بقدرتك وأسألك من فضلك العظيم فإنك تقدر ولا أقدر وتعلم ولا أعلم وأنت علام الغيوب، اللهم إن كنت تعلم أن هذا الأمر خير لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري، أو قال: عاجل أمري وآجله فاقدره لي ويسره لي ثم بارك لي فيه وإن كنت تعلم أن هذا الأمر شر لي في ديني ومعاشي وعاقبة أمري، أو قال: في عاجل أمري وآجله فاصرفه عني واصرفني عنه واقدر لي الخير حيث كان ثم أرضني به، قال: ويسمي حاجته“ ترجمہ: حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمیں تمام کاموں میں استخارہ کی تعلیم دیا کرتے تھے جیسے قرآن کی سورت کی تعلیم فرماتے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ارشاد فرماتے: جب تم میں سے کوئی کسی کام کا ارادہ کرے تو فرض کے علاوہ دو رکعتیں پڑھے، پھر یہ دعا کرے: اے اللہ! میں تیرے علم کے ساتھ تجھ سے خیر مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے ساتھ تجھ سے قوت طلب کرتا ہوں اور تجھ سے تیرے فضلِ عظیم کا سوال کرتا ہوں؛ اس لیے کہ تو قدرت رکھتا ہے اور میں نہیں رکھتا، تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور تو غیبوں کو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ! اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میرے اسباب زندگی اور میرے انجام کے حوالے سے بہتر ہے، یا فرمایا: میرے حال اور آئندہ (کے لیے بہتر ہے)، تو اسے میرے لیے مقدر کر دے اور اسے میرے لیے آسان کر دے، پھر اس میں میرے لیے برکت عطا فرما۔ اور اگر تو جانتا ہے کہ یہ کام میرے لیے میرے دین، میرے اسباب زندگی اور میرے انجام کے حوالے سے برا ہے، یا فرمایا: میرے حال اور آئندہ (کے لیے برا ہے)، تو اسے مجھ سے پھیر دے اور مجھے اس سے پھیر دے، اور بھلائی جہاں بھی ہو اسے میرے لیے مقدر فرما دے، پھر مجھے اس پر راضی کر دے۔ (راوئ حدیث) کہتے ہیں: اور دعا کرنے والا اپنی حاجت کا نام لے۔ (صحيح البخاري، أبواب التطوع، جلد 1، صفحہ 391، حدیث 1109، دار ابن كثير، دمشق)

علامہ ابو الفضل محمد بن مکرم ابن منظور (سال وفات: 711ھ/1311ء) لکھتے ہیں: ”الاستخارة: ‌طلب ‌الخيرة في الشيء“ ترجمہ: استخارہ کا معنی کسی چیز میں خیر طلب کرنا ہے۔ (لسان العرب، جلد 4، صفحہ 266، دار صادر، بيروت)

علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231 ھ/1815ء) لکھتے ہیں: ”الاستخارة أي طلب ما فيه الخير وهي تكون لأمر في المستقبل ليظهر الله تعالى خير الأمرين“ ترجمہ: استخارہ یعنی وہ چیز طلب کرنا جس میں خیر ہو، اور یہ کسی آئندہ پیش آنے والے معاملے کے لیے ہوتا ہے، تاکہ اللہ تعالیٰ دو امور میں سے بہتر کو ظاہر فرما دے۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الصلاة، فصل في تحية المسجد ...الخ، صفحہ 397، دار الکتب العلمیة، بیروت)

علامہ زین الدین محمد عبد الرؤوف مناوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1031ھ/1622ء) لکھتے ہیں: ”والاستخارة ‌طلب ‌الخيرة في الأمور منه تعالى وحقيقتها تفويض الاختيار إليه سبحانه فإنه الأعلم بخيرها للعبد والقادر على ما هو خير لمستخيره إذا دعاه أن يخير له فلا يخيب أمله“ ترجمہ: کاموں میں اللہ تعالیٰ سے خیر طلب کرنا استخارہ ہے، اور اس کی حقیقت یہ ہے کہ (بندہ اپنے) اختیار کو اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے سپرد کر دے؛ کیونکہ وہی بندے کے لیے بہتر چیز کو زیادہ جاننے والا ہے اور اس پر قادر ہے کہ اپنے استخارہ کرنے والے کے لیے خیر مقدر فرما دے۔ جب بندہ اس سے دعا کرتا ہے کہ وہ اس کے لیے (بہتر چیز کا) انتخاب کرے تو وہ اس کی امید کو ضائع نہیں کرتا۔ (فيض القدير شرح الجامع الصغير، جلد 5، صفحہ 442، مطبوعہ مصر)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ/1971ء) لکھتے ہیں: ”استخارہ کے معنی ہیں: خیر مانگنا یا کسی سے بھلائی کا مشورہ کرنا، چونکہ اس دعا و نماز میں بندہ اللہ سے گویا مشورہ کرتا ہے کہ فلاں کام کروں یا نہ کروں، اسی لیے اسے استخارہ کہتے ہیں۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 286، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ/1451ء) لکھتے ہیں: ”فيه استحباب صلاة الاستخارة والدعاء المأثور بعدها في الأمور التي لا يدري العبد وجه الصواب فيها“ ترجمہ: اس (مذکورہ بالا) حدیث پاک میں نمازِ استخارہ اور اس کے بعد کی دعائے ماثورہ کے مستحب ہونے کا بیان ہے ان امور میں کہ جن میں بندہ درست راہ نہیں جانتا۔ (عمدة القاري شرح صحيح البخاري، کتاب التھجد، باب ما جاء في التطوع مثنى مثنى، جلد 7، صفحہ 224، المطبعة الخيرية)

علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231 ھ/1815ء) لکھتے ہیں: ”اعلم أن محل ندب الاستخارة إنما هو في الأمور التي لا يدري العبد وجه الصواب فيها أما ما هو معروف خيره أو شره كالعبادات وصنائع المعروف والمعاصي والمنكرات فلا حاجة إلى الاستخارة فيها نعم قد يستخار فيها البيان خصوص الوقت“ ترجمہ: جان لو کہ استخارہ کے مستحب ہونے کا محل صرف وہ امور ہیں کہ جن میں بندہ صحیح پہلو کو نہ جانتا ہو۔ رہی وہ چیزیں جن کی اچھائی یا برائی معروف ہے، جیسے عبادات، نیک اعمال، گناہ اور منکرات، تو ان میں استخارہ کی کوئی حاجت نہیں۔ ہاں نیک کام کے حوالے سے مخصوص وقت کی تشریح و تعیین کے لیے استخارہ کیا جا سکتا ہے۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الصلاة، صفحہ 398، دار الکتب العلمیة، بیروت)

شارح بخاری مفتی شریف الحق امجدی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1421ھ/2000ء) لکھتے ہیں: ”جب کسی کام کے کرنے کا ارادہ ہو تو استخارہ کی نماز مستحب ہے، بشرطیکہ وہ عبادات نہ ہوں یا منہیات نہ ہوں، اس لیے کہ عبادات کی ادائیگی اور منہیات سے اجتناب مطلقاً خیر ہے۔ ہاں یہ جائز ہے کہ کسی عبادت غیر مؤقت کے وقت کے بارے میں استخارہ کیا جائے، مثلاً حج، جہاد کے بارے میں یہ کہا جائے کہ امسال کروں یا نہ کروں؟... چھوٹا کام ہو یا بڑا سب کے لیے استخارہ مستحب ہے، کبھی کبھی چھوٹی چھوٹی باتیں بڑے حوادث و نقصانات کا سبب بن جاتی ہیں۔ بہتر یہ ہے کہ استخارہ متعدد بار کرے۔“ (نزھۃ القاری شرح صحیح بخاری، جلد 2، صفحہ 575، فرید بک اسٹال، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”بہتر یہ ہے کہ سات بار استخارہ کرے کہ ایک حدیث میں ہے: "اے انس (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)! جب تو کسی کام کا قصد کرے تو اپنے رب (عزوجل) سے اس میں سات بار استخارہ کر، پھر نظر کر تیرے دل میں کیا گزرا کہ بے شک اُسی میں خیر ہے۔" (کنز العمال) ... استخارہ کا وقت اس وقت تک ہے کہ ایک طرف رائے پوری جم نہ چکی ہو۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 683، مکتبة المدینہ، کراچی)

علامہ ابن عابدین سید محمد امین بن عمر شامی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1252ھ/1836ء) نقل کرتے ہیں: ”من هم بأمر وكان لا يدري عاقبته ولا يعرف أن الخير في تركه أو الإقدام عليه فقد أمره رسول الله صلى الله عليه وسلم أن يركع ركعتين يقرأ في الأولى فاتحة الكتاب ﴿قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ﴾ وفي الثانية الفاتحة ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدٌ﴾ فإذا فرغ قال اللهم إلخ، ثم المسموع من المشايخ ينبغي أن ينام على الطهارة ومستقبل القبلة بعد قراءة الدعاء المذكور فإن رأى في منامه بياضا أو خضرة فذلك الأمر خير وإن رأى فيه سوادا أو حمرة فهو شر ينبغي أن يجتنب عنه“ ترجمہ: جو شخص کسی کام کا ارادہ کرے اور اس کے انجام کو نہ جانتا ہو، اور اسے یہ بھی معلوم نہ ہو کہ اس کے چھوڑنے میں خیر ہے یا کرنے میں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے حکم فرمایا ہے کہ وہ دو رکعتیں پڑھے، پہلی رکعت میں سورۂ فاتحہ اور ﴿قُلْ یٰۤاَیُّهَا الْكٰفِرُوْنَ﴾ پڑھے اور دوسری میں سورۂ فاتحہ اور ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ پڑھے۔ پھر نماز سے فارغ ہو کر کہے: "اللّٰهُم...الخ" (یعنی دعائے استخارہ پڑھے)۔ پھر مشائخ کرام سے سنا گیا ہے کہ اسے چاہیے کہ مذکورہ دعا کو پڑھنے کے بعد با وضو اور قبلہ رخ سو جائے، اگر خواب میں سفید یا سبز رنگ دیکھے تو وہ کام بہتر ہے اور اگر خواب میں سیاہ یا سرخ رنگ دیکھے تو وہ کام برا ہے، اسے اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ (منحة الخالق علی البحر الرائق، کتاب الصلاة، باب الوتر والنوافل، جلد 2، صفحہ 56، دار الكتاب الإسلامي)

علامہ سید احمد بن محمد طحطاوی حنفی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1231 ھ/1815ء) لکھتے ہیں: ”إذا تعذر عليه الصلاة استخار بالدعاء فقد روى الترمذي بإسناد ضعيف عن أبي بكر الصديق رضي الله عنه أن النبي صلى الله عليه وسلم كان إذا أراد الأمر قال اللهم خر لي واختر لي“ ترجمہ: جب آدمی کے لیے نماز استخارہ اد ا کرنا مشکل ہو تو وہ دعا کے ذریعے استخارہ کر لے۔ چنانچہ امام ترمذی نے سندِ ضعیف کے ساتھ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب کسی کام کا ارادہ فرماتے تو یہ دعا کرتے: اے اللہ! میرے لیے خیر کا معاملہ فرما اور میرے لیے (بہتر چیز) منتخب فرما۔ (حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح، کتاب الصلاة، فصل في تحية المسجد ...الخ، صفحہ 397، دار الکتب العلمیة، بیروت)

امام ابو زکریا محی الدین یحی بن شرف نووی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 676ھ/1277ء) لکھتے ہیں: ”ولو تعذرت عليه الصلاة ‌استخار ‌بالدعاء ويستحب افتتاح الدعاء المذكور وختمه بالحمد لله والصلاة والتسليم على رسول الله صلى الله عليه وسلم“ ترجمہ: اور اگر اس کے لیے نماز پڑھنا متعذر ہو تو وہ دعا کے ذریعے استخارہ کرے، اور اللہ پاک کی حمد اور رسول مکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود و سلام بھیجنے کے ساتھ مذکورہ دعائے استخارہ کا آغاز اور اختتام کرنا مستحب ہے۔ (الأذكار للنووي، ‌‌كتاب الأذكار والدعوات للأمور العارضات، صفحہ 120، دار الفکر، بيروت)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ/1948ء) لکھتے ہیں: ”اور (دعائے استخارہ میں) اپنی حاجت کا ذکر کرے، خواہ بجائے "هذا الامر" کے حاجت کا نام لے یا اُس کے بعد۔ (نیز الفاظِ حدیث) "أو قال عاجل أمري" میں أو شک راوی ہے، فقہا فرماتے ہیں کہ جمع کرے، یعنی یوں کہے: وعاقبة أمري و عاجل أمري وآجله۔“ (بہار شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 682، مکتبة المدینہ، کراچی)

حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1391ھ/1971ء) لکھتے ہیں: ”یعنی "هذا الامر" کی جگہ اپنے کام کا نام لے، (مثلاً) ھذا النکاح یا ھذہ التجارۃ یا ھذا التعمیر کہے۔ حدیث شریف میں ہے: "جو استخارہ کر لیا کرے وہ نقصان میں نہ رہے گا اور جو استخارہ کر لیا کرے وہ نادم نہ ہوگا۔" اس استخارہ کے بعد پھر جدھر دل متوجہ ہو، وہ کرے۔ ان شاء اللہ کامیابی ہوگی۔“ (مرآۃ المناجیح، جلد 2، صفحہ 287، مکتبہ اسلامیہ، لاہور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1145
تاریخ اجراء: 15 شوال المكرم 1447ھ/ 4 اپریل 2026ء