logo logo
AI Search

امام کو مقیم سمجھ کر نماز پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسافر نے امام کو مقیم گمان کر کے اقتداء کی، جبکہ امام مسافر تھا، تو نماز کا حکم؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ زید شرعی مسافر کو امام کے مسافر یا مقیم ہونے کا علم نہیں تھا، تاہم وہ امام کو مقیم گمان کر کے چار رکعت فرض عشاء کی نیت کر کے جماعت میں شامل ہوگیا، لیکن امام نے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا، تو ظاہر ہوا کہ امام صاحب شرعی مسافر ہیں۔ اب زید یہ گمان کر کے کہ اس نے چار رکعت کی نیت کرلی ہے اور چار پڑھنا لازم ہے، وہ تیسری رکعت کے لیے کھڑا ہو جاتا ہے اور چار رکعت پوری کر کے نماز مکمل کر لیتا ہے۔

شرعی رہنمائی فرمائیے کہ اس کی نماز کا کیا حکم ہے، نماز درست ہو گئی یا قضاء لازم ہے؟ نیز اس معاملہ میں زید کو کیا کرنا چاہیے تھا کہ نماز درست ادا ہو جاتی؟

جواب

بیان کردہ صورت میں زید پر دوبارہ دو رکعت نمازِ عشاء ادا کرنا واجب ہے اور وہ دو رکعت واجب الاعادہ یعنی ذمہ پر واجب کی نیت سے ادا کرے گا، جس میں نیت یہ ہو گی کہ جو کمی رہ گئی اس کا ازالہ کر رہا ہوں ۔ صورتِ مذکورہ میں زید پر لازم تھا کہ دو رکعت پر جب امام کا مسافر ہونا معلوم ہو گیا تھا، اسی وقت امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دیتا، اور اس کی نماز بغیر کسی کراہت کے درست ادا ہوجاتی۔

مسئلہ کی مزید تفصیل یہ ہے کہ امام کے مقیم یا مسافرہونے کا علم ہونا صحتِ اقتداء کی شرائط میں سے ہے، لیکن یہ نماز شروع کرتے وقت ہی معلوم ہونا ضروری نہیں، بلکہ بعد میں یعنی دورانِ نماز بھی معلوم ہوجائے، تو اقتداء درست ہوجاتی ہے۔ اور صورتِ مذکورہ میں جب زید کو دورانِ نماز معلوم ہو گیا تھا، تو یہی کافی تھا اور اس پر لازم تھا کہ وہ امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دیتا، لیکن چونکہ اس نے قصداً چار رکعت مکمل کی ہے اور دو سری رکعت پر قعدہ کیا تھا، تو فرض ادا ہوگئے اور آخری دو رکعتیں نفل ہوگئیں، مگر ترکِ واجب کے سبب کراہتِ تحریمی کا مرتکب اور گنہگار ہوا، لہٰذا اس پر توبہ کرنا اور دوبارہ دو رکعت نماز ادا کرنا واجب ہے۔

جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ زید چار رکعت کی نیت کر چکا تھا، تو اس حوالے سے جواب یہ ہےکہ نماز میں رکعتوں کی تعداد معین کرنا شرعاً لازم و ضروری نہیں، بلکہ اگر کوئی غلطی سے زیادہ رکعتوں کی نیت کر بھی لے، تب بھی وہ لازم نہیں ہوتیں، مثلاً: مسافر نے دو کی نیت کرنی تھی اور چار کی کرلی، تو اس غلطی کی وجہ سے چار رکعتیں پڑھنا لازم نہیں ہوجاتیں، اس لیے کہ مسافر کا دو کی بجائے چار رکعتوں کی نیت کرنا، یہ مشروع کو بدلنے کی نیت ہے اور مشروع کو بدلنے کی نیت لغو ہوتی ہے، اس کا کوئی اعتبار نہیں ہوتا۔

دو کی بجائے چار رکعتیں اداکرنے والے مسافر کے فرض ادا ہونے کی تفصیل کے متعلق تنویر الابصار و در مختارمیں ہے: ”(فلو اتمّ مسافر، ان قعد فی) القعدۃ (الاولیٰ تمّ فرضہ و) لکنّہ (أساء) لو عامداً لتاخیر السلام و ترک واجب القصر“ ترجمہ: اگر مسافر نے نماز مکمل پڑھ لی اور قعدہ اولیٰ میں بیٹھا، تو اس کے فرض مکمل ہوگئے، لیکن برا کیا جب کہ جان بوجھ کر ایسا کیا ہو، اس لیے کہ سلام میں تاخیر ہوئی اور قصر کا واجب ترک ہوا۔ (تنویر الابصار مع در مختار، جلد 2، صفحہ 733، 734، مطبوعہ کوئٹہ)

مذکورہ بالا عبارت کے تحت علامہ ابنِ عابدین شامی دِمِشقی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1252ھ / 1836ء) لکھتے ہیں: ”فعلم انّ الاساءۃ ھنا کراھۃ التحریم“ ترجمہ: معلوم ہوا یہاں اساءۃ سے مراد کراہتِ تحریمی ہے۔ (رد المحتار مع الدر المختار، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 734، مطبوعہ کوئٹہ)

مسافر نے جان بوجھ کر دو کی بجائے چار رکعتیں اداکیں، تو اعادہ لازم ہونے کے متعلق علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: ”اذا صلی اربعاً متعمّداً اعادھا“ ترجمہ: جب (مسافر) جان بوجھ کر چار رکعتیں ادا کرے، تو اس نماز کا اعادہ کرے۔ (البنایۃ، کتاب الصلاۃ، جلد 3، صفحہ 10، مطبوعہ کوئٹہ )

سیّدی اعلیٰ حضرت امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: جس پر شرعاً قصر ہے اور اس نے جہلاً (پوری) پڑھی اس پر مواخذہ ہے اور اس نماز کا پھیرنا واجب۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 8، صفحہ 270، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

نیت میں رکعتوں کی تعداد معین کرنا شرط نہیں، جیسا کہ تنویر الابصار مع الدر المختار اور دیگر کتبِ فقہ میں ہے: ”(دون) تعیین (عدد رکعاتہ) لحصولھا ضمناً، فلا یضر الخطاء فی عددھا“ ترجمہ: رکعتوں کی تعداد معین کرنا نیت میں شرط نہیں کہ یہ ضمناً ہی حاصل ہے، لہٰذا رکعتوں کی تعداد میں غلطی ہونا نماز کو نقصان نہیں دے گا۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، جلد 2، ص 120 - 121، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالیٰ عَلَیْہِ (سالِ وفات: 1367ھ / 1947ء) لکھتے ہیں: نیت میں تعداد رکعات کی ضرورت نہیں البتہ افضل ہے، تو اگر تعداد رکعات میں خطا واقع ہوئی مثلاً تین رکعتیں ظہر یا چار رکعتيں مغرب کی نیت کی، تو نماز ہو جائے گی۔ (بھار شریعت، جلد 1، صفحہ 494، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

اگر تعداد رکعات کی نیت میں غلطی ہو جائے، تو وہ رکعتیں لازم نہیں ہوتیں کہ مشروع کو بدلنے کی نیت معتبر نہیں، چنانچہ تبیین الحقائق علی کنز الدقائق ، بنایہ علی الہدایہ اور رد المحتار علی الدر المختار میں ہے، و اللفظ للاول: ”(و يسجد للسهو، و إن سلم للقطع) معناه أنه يجب عليه أن يسجد للسهو، و إن أراد بالتسليم قطع الصلاة؛ لأن نيته تغير المشروع فتلغو كما لو نوى الظهر ستا أو نوى المسافر الظهر أربعاً“ ترجمہ: نمازی سجدہ سہو کرے، اگرچہ اُس نے نماز ختم کرنے کے ارادے سے سلام پھیردیا ہو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اُس نمازی پر واجب ہے کہ وہ سہو کے سجدے کرے، اگرچہ سلام پھیرنے سے اُس کا نماز ختم کرنے کا ارادہ ہو، کیونکہ اُس نمازی کی یہ نیت مشروع کو تبدیل کرنے کی نیت ہے جو کہ لغو ہے، جیسا کہ اگر کوئی شخص ظہر کی نماز چھ رکعات کی نیت سے یا مسافر ظہر کی نماز چار رکعات کی نیت سے ادا کرے (تو اس کی یہ نیت ہی لغو ہوگی)۔ (تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق، کتاب الصلاۃ، جلد 1، صفحہ 199، دار الكتاب الاسلامي)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Fsd-9940
تاریخ اجراء: 04 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 22 اپریل 2026ء