logo logo
AI Search

فجر کا وقت ہونے کے بعد تہجد پڑھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فجر کا وقت شروع ہونے کے بعد تہجد پڑھنے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ: اگر فجر کا وقت شروع ہو جائے، لیکن ابھی اذان نہ ہوئی ہو، بلکہ اذان میں 10 منٹ باقی ہوں، تو کیا اس وقت تہجد کی نماز پڑھ سکتے ہیں ؟

جواب

تہجد کا وقت نماز عشا پڑھ کر سو کر اٹھنے کے بعد سے، طلوع فجر تک ہے، اس پورے وقت میں کسی بھی وقت تہجد پڑھی جا سکتی ہے، پھر جیسے ہی فجر کا وقت شروع ہوتا ہے، تہجد کا وقت ختم ہو جاتاہے، اب اس کے بعد تہجد نہیں ہوسکتی، اگرچہ اذان ہونے میں ابھی 10 منٹ باقی ہوں ، یا اس سے کم، یا زیادہ۔

تہجد کا وقت طلوعِ فجر تک ہے، جیسا کہ فتاوٰی رضویہ میں ہے "نمازِ تہجد وہ نفل کہ بعد فرضِ عشاء قدرے سوکر طلوعِ فجر سے پہلے پڑھے جائیں۔" (فتاوٰی رضویہ، ج 07، ص 409، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

 صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاویٰ امجدیہ میں فرماتے ہیں: "نمازِ عشاء پڑھ کر سونے کے بعد جب اٹھے، تہجد کا وقت ہے اور یہ وقت طلوعِ فجر تک ہے اور بہتر وقت بعدِ نصف شب ہے اور اگر سویا نہ ہو تو تہجد نہیں، اگرچہ جو نفل پڑھے جائیں، صلوٰۃ اللیل انھیں شامل کہ صلوٰۃ اللیل تہجد سے عام ہے۔" (فتاویٰ امجدیہ، جلد 1، صفحہ 243، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد سجاد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-4996
تاریخ اجراء: 24 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 12 مئی 2026ء