logo logo
AI Search

وتر میں دو بار دعائے قنوت پڑھنے کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بھول کر دعائے قنوت دو بار پڑھنے سے نماز کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں کل نمازِ وتر ادا کر رہا تھا۔ تیسری رکعت میں تکبیر قنوت کے بعد بھول کر دو مرتبہ دعائے قنوت پڑھ لی اور آخر میں سجدہ سہو بھی نہیں کیا۔ تو کیا میرے وتر ادا ہو گئے یا ان کو دوبارہ پڑھنا ہوگا؟

جواب

نمازِ وتر کی تیسری رکعت میں تکبیرِ قنوت کے بعد دعائے قنوت پڑھنا واجب ہے اور اس سے مراد مطلق دعا ہے، البتہ بہتر یہ ہے کہ جو دعائیں نبی اکرم صلی اللہ تعالیٰ عليہ وسلم سے ثابت ہیں، وہ پڑھی جائیں اور اگر ان کے علاوہ کوئی اور دعا پڑھی لی، جب بھی حرج نہیں۔ اگر کسی نے دعائے قنوت میں ایک سے زیادہ دعائیں پڑھیں یا ایک ہی دعا کو دو مرتبہ پڑھ دیا، تو اس میں کسی واجب کا ترک یا اسے مؤخر کرنا نہیں پایا گیا، لہذا نماز بلاکراہت درست ادا ہوگئی۔

وتر میں دعائے قنوت واجب ہے، اور اس سے مراد مطلق دعا ہے ، جیسا کہ حاشیۃ الطحطاوی مع مراقی الفلاح میں ہے: ’’(ويجب قراءة قنوت الوتر) المراد انه واجب صلاة الوتر لا واجب مطلق الصلاة والمراد مطلق الدعاء واما خصوص اللهم الخ فسنة حتى لو اتى بغيره جاز اجماعا نهر والقنوت في اللغة مطلق الدعاء فالإضافة حينئذ للبيان اي دعاء هو القنوت ويطلق ايضا على طول القيام فالإضافة حينئذ حقيقية اي دعاء القيام وفي الشرع هو الدعاء الواقع في قيام ثالثة صلاة الوتر“ ترجمہ: (مصنف کا قول) ’’اور وتر کے قنوت کی قراءت واجب ہے“ اس سے مراد یہ ہے کہ یہ نمازِ وتر کا واجب ہے، مطلق نماز کا واجب نہیں ہے۔ اور (اس واجب سے) مراد ’’مطلق دعا“ہے (یعنی کوئی سی بھی دعا پڑھ لینا واجب ہے)۔ رہا مسئلہ مخصوص دعا ’’اللھم إنا نستعینک“ وغیرہ کا، تو وہ سنت ہے، یہاں تک کہ اگر کوئی اس کے علاوہ پڑھ لے تو بالاجماع جائز ہے جیسا کہ نہر الفائق میں ہے۔ اور’’ قنوت“ لغت میں ’’مطلق دعا“ کو کہتے ہیں، تو اس وقت (لفظِ قنوت کی) اضافت بیانیہ ہوگی، یعنی وہ دعا جو قنوت ہے۔ اور قنوت کا اطلاق طویل قیام پر بھی ہوتا ہے، اس صورت میں اضافت حقیقی ہوگی، یعنی قیام والی دعا۔ اور شرع میں قنوت اس دعا کو کہتے ہیں جو نمازِ وتر کی تیسری رکعت کے قیام میں واقع ہو۔ (حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح ، صفحہ 252، مطبوعہ دارالکتب العلمیہ، بیروت)

 جب یہ مقامِ دعا ہے، تو اس مقام پر دو مرتبہ دعائے قنوت پڑھ لینے سے سجدۂ سہو واجب نہیں ہوگا۔ جیسا کہ حلبۃ المجلی میں ہے: ”ان ذکر الشیئ فیما ھو محل لہ عینا او حسا لا یوجب سجود السھو“ یعنی کسی چیز کو ایسے مقام میں ذکر کرنا جو عیناً یا حساً اس کا محل ہو، یہ سجدۂ سہو کو واجب نہیں کرتا۔ (حلبۃ المجلی، جلد 2، صفحہ 446، مطبوعہ دار الکتب العلمیہ ، بیروت)

دعائے قنوت میں ایک سے زیادہ دعائیں پڑھنے کے متعلق غنیۃ المتملی میں ہے: ’’والدعاء المأثور روي بألفاظ مختلفة، واحسنها: اَللّٰهُمَّ اِنَّا نَسْتَعِيْنُكَ وَنَسْتَغْفِرُكَ وَنَسْتَهْدِيْكَ وَنُؤْمِنُ بِكَ وَنَتَوَكَّلُ عَلَيْكَ وَنُثْنِيْ عَلَيْكَ الْخَيْرَ كُلَّهُ، نَشْكُرُكَ وَلَا نَكْفُرُكَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُكُ مَنْ يَّفْجُرُكَ، اَللّٰهُمَّ اِيَّاكَ نَعْبُدُ، وَلَكَ نُصَلّي وَنَسْجُدُ، وَاِلَيْكَ نَسْعٰى، وَنَحْفِدُ نَرْجُوْ رَحْمَتَكَ وَنَخْشٰى عَذَابَكَ، اِنَّ عَذَابَكَ الْجِدَّ بِالْكُفَّارِ مُلْحِقٌ۔۔۔والاولى ان يضم اليه ماتقدم عن الحسن انه قال: علمني رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم كلمات اقولهن في الوتراَللّٰهُمَّ اهْدِنِيْ فِيمَنْ هَدَيْتَ، وَعَافِنِيْ فِيمَنْ عَافَيْتَ، وَتَوَلَّنِيْ فِيمَنْ تَوَلَّيْتَ، وَبَارِكْ لِيْ فِيمَا اَعْطَيْتَ، وَقِنِيْ شَرَّ مَا قَضَيْتَ؛ فَاِنَّكَ تَقْضِي وَلَا يُقْضٰى عَلَيْكَ، اِنَّهُ لَا يَذِلُّ مَنْ وَالَيْتَ، تَبَارَكْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَيْتَ “

ترجمہ: (قنوت کے متعلق) دعائے ماثورہ مختلف الفاظ کے ساتھ روایت کی گئی ہے، اور ان میں سے سب سے بہتر الفاظ یہ ہیں (اوپر گزر چکے) اور بہتر یہ ہے کہ اس کے ساتھ وہ دعا بھی شامل کر لی جائے جو پہلے حضرت حسن رضی اللہ عنہ کے حوالے سے گزر چکی کہ انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے چند کلمات سکھائے جنہیں میں وتر میں کہتا ہوں: (وہ کلمات یہ ہیں) (اوپر گزر چکے) (غنیۃ المتملی، جلد 2، صفحہ 335، 336، مطبوعہ ھند)

تکبیرِ قنوت کے بعد مقامِ دعا ہے، اِسی اعتبارسے امام اہلِ سنت رحمۃ اللہ علیہ نے اس موقع پر مختلف اذکار پڑھنے کے متعلق لکھا: ”دعائے قنوت اگر یاد نہیں، یاد کرنا چاہیے کہ خاص اس کا پڑھنا سنت ہے اور جب تک یاد نہ ہو ”اَللّٰھم ربنا اٰتنا فی الدنیا حسنۃ وفی الآخرۃ حسنۃ وقنا عذاب النار“ پڑھ لیا کرے۔ یہ بھی یاد نہ ہو، تو ”اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ“ تین بار کہہ لیا کرے۔ یہ بھی یاد نہ آئے، تو صرف ”یا ربِّ“ تین بار کہہ لے، واجب ادا ہو جائے گا۔ رہا یہ کہ قُل ھو اللہ شریف پڑھنے سے بھی یہ واجب ادا ہوا کہ نہیں۔۔۔ ظاہر یہ ہے کہ ادا ہو گیا کہ وہ ثناء ہے اور ہر ثناء دعا ہے۔“ (فتاوٰی رضویہ، جلد 7، صفحہ 485، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن، لاهور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9922
تاریخ اجراء: 26 شوال المکرم 1447 ھ / 15 اپریل 2026 ء