فرض نماز میں مختلف سورتوں کی آیات پڑھنا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
فرض نماز کی ایک رکعت میں زیادہ سورتیں پڑھنایا مختلف سورتوں میں سے تھوڑا رتھوڑا پڑھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرعِ متین اس مسئلے کے بارے میں کہ فرض نماز کی ایک ہی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد مختلف سورتوں سے کچھ کچھ آیتیں مثلا سورۃ البقرۃ کی ابتدائی آیات، پھر آیۃ الکرسی، پھر سورۃ البقرۃ کی آخری آیات، پھر سورۃ الحشر کی کچھ آیات پڑھنا کیسا ہے؟ اِسی طرح ایک ہی رکعت میں ایک سے زیادہ سورتیں پڑھنا کیسا ہے؟
جواب
فرض نماز کی ایک ہی رکعت میں سورۂ فاتحہ کے بعد کسی صحیح ضرورت کے بغیر مختلف سورتوں سے کچھ کچھ آیات پڑھنا یا ایک ہی سورت کے مختلف مقامات سے چھوڑ چھوڑ کر آیات پڑھنا، یونہی ایک سے زیادہ سورتیں اس طرح پڑھنا کہ بیچ میں ایک سورت یا زیادہ سورتیں چھوڑ دِیں، امام و منفرد یعنی اکیلے نماز پڑھنے والے مرد یا عورت سب کے لیے مکروہِ تنزیہی ہے۔ البتہ نوافل میں مکروہ نہیں ہے۔ نیز اگر ایک سے زیادہ سورتیں اس طرح پڑھیں کہ بیچ میں کوئی سورت چھوڑی نہیں، تو منفرد کے لیے ایسا کرنے میں حرج نہیں ہے، البتہ امام کو ایک رکعت میں ایک سے زیادہ سورتیں نہیں پڑھنی چاہئیں۔
فرض نماز کی ایک رکعت میں تلاوت کرتے ہوئے درمیان سے بلا ضرورت آیت یا سورت چھوڑ دینا مکروہ ہے۔ چنانچہ رد المحتار میں ہے: ”لو انتقل فی الركعة الواحدة من آية إلى آية يكره و إن كان بينهما آيات بلا ضرورة، فإن سها ثم تذكر يعود مراعاة لترتيب الآيات، شرح المنية ۔۔۔ یکرہ الجمع بین سورتین بینھما سوَر او سورۃ، فتح، ملخصا“ ترجمہ: اگر نمازی ایک ہی رکعت میں بلا ضرورت ایک آیت سے دوسری آیت کی طرف منتقل ہو جائے تو مکروہ ہے، چاہے ان دونوں کے درمیان کئی آیات ہوں۔ لہٰذا اگر بھول کر ایسا کیا ، پھر یاد آ گیا، تو آیات کی ترتیب کی رعایت کرتے ہوئے واپس پلٹے (اور چھوڑی ہوئی آیتیں پڑھے)، شرح منیۃ (اور) یہ بھی مکروہ ہے کہ مختلف سورتیں اس طرح پڑھے کہ درمیان سے زیادہ سورتیں یا ایک سورت چھوٹ جائے، فتح القدیر۔ (رد المحتار علی الدر المختار،ج 2، ص 330، مطبوعہ کوئٹہ)
کراہت کا یہ حکم صرف فرائض میں ہے۔ چنانچہ امامِ اہلِسنت سیدی اعلیٰ حضرت الشاہ امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ جد الممتار میں فرماتے ہیں: ”قولہ (لو انتقل فی الركعة الواحدة من آية) ای: فی الفرائض“ ترجمہ: رد المحتار کی عبارت (اگر ایک رکعت میں ایک آیت سے دوسری آیت کی طرف منتقل ہوا) یعنی فرض نمازوں میں۔ (جد الممتار، ج 3، ص 242، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
فرض نماز کی ایک رکعت میں چند سورتیں پڑھنا نامناسب ہے، جبکہ بیچ میں کوئی سورت نہ چھوٹے اور سورت چھوڑ دینا مکروہ ہے۔ چنانچہ ردالمحتار میں ہے: ”اذا جمع بین سورتین فی رکعۃ ۔۔۔ الاولیٰ ان لا یفعل فی الفرض، و لو فعل لا یکرہ الا ان یترک بینھما سورۃ او اکثر، ملخصا“ ترجمہ: فرض نماز کی ایک رکعت میں ایک سے زیادہ سورتیں پڑھنا اَولیٰ نہیں، لیکن اگر ایسا کر لیا، تو مکروہ نہیں (جبکہ درمیان میں کوئی سورت نہ چھوڑے) اور درمیان میں ایک یا زیادہ سورتیں چھوڑ دینا مکروہ ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، ج 2، ص 330، مطبوعہ کوئٹہ)
ان تمام احکام کے متعلق خلاصۃ الفتاوی میں ہے: ”ان جمع بین السورتین فی رکعۃ واحدۃ لا ینبغی ان یفعل ولو فعل لا بأس بہ، و الانتقال من آیۃ من سورۃ الی آیۃ اخری من سورۃ اخری او آیۃ من ھذہ السورۃ بینھما آیات مکروہ، و کذا الجمع بین السورتین بینھما سوَر او سورۃ واحدۃ فی رکعۃ واحدۃ مکروہ ۔۔۔ و ھذہ کلھا فی الفرائض، اما فی النوافل لا یکرہ، ملخصا“ ترجمہ: ایک رکعت میں مختلف سورتوں کو ایک ساتھ پڑھنا مناسب نہیں، لیکن اگر ایسا کر لیا، تو حرج بھی نہیں (یعنی جبکہ بیچ سے کوئی سورت نہ چھوڑے) اور ایک سورت کی ایک آیت سے دوسری سورت کی دوسری آیت کی طرف منتقل ہونا یا اُسی ایک سورت کے بیچ سے آیتیں چھوڑ کر دوسری آیت کی طرف منتقل ہونا مکروہ ہے۔ اسی طرح ایک رکعت میں مختلف سورتوں کو اس طرح پڑھنا مکروہ ہے کہ بیچ میں ایک سے زیادہ سورتیں یا ایک سورت چھوڑ دی جائے اور یہ تمام احکام فرض نمازوں میں ہیں ۔ بہر حال نوافل میں مکروہ نہیں ہے۔ (خلاصۃ الفتاوی، ج 1، ص 97، مطبوعہ کوئٹہ)
صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: فرائض کی ۔۔۔ ایک ہی رکعت میں چند آیتیں پڑھیں، پھر کچھ چھوڑ کر دوسری جگہ سے پڑھا، تو مکروہ ہے اور بھول کر ایسا ہوا تو لوٹے اور چھوٹی ہوئی آیتیں پڑھے ۔۔۔ فرض کی ایک رکعت میں دو سورت نہ پڑھے اور منفرد پڑھ لے، تو حرج بھی نہیں، بشرطیکہ ان دونوں سورتوں میں فاصلہ نہ ہو اور اگر بیچ میں ایک یا چند سورتیں چھوڑ دیں، تو مکروہ ہے۔ ملخصا (بہارِ شریعت، جلد 1، صفحہ 549، مطبوعہ مکتبۃ المدینہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: Aqs-2939
تاریخ اجراء: 07 ذو القعدہ 1447ھ / 25 اپریل 2026ء