logo logo
AI Search

مسجد کا نام اپنے والدین کے نام پر رکھنا

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مسجد کا نام اپنے والدین کے نام پر رکھنا اور وہ نام والی تختی مسجد میں لگانا کیسا ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص مسجد کے لیے جگہ وقف کر کے مسجد تعمیر کروائے، تو اس مسجد کا نام اپنے نام پر یا اپنے والدین کے نام پر رکھ کر مسجد کے نام کی تختی لگوا سکتا ہے ؟ ایسا کرنا از روئے شرع جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

بلاشبہ جگہ وقف کر کے مسجد بنانا باعث اجر و ثواب ہے، جبکہ طلب ِشہرت و ریاکاری کے لیے نہ ہو۔ اور اگر کوئی واقف مسجد بنوا کر  مسلمانوں کی دعائیں لینے وغیرہ کسی اچھی نیت سے، مسجد کا نام اپنے یا اپنے والدین کے نام پر رکھ کے مسجد کے نام کی تختی لگائے تو جائز ہے۔ البتہ اگر کوئی فخر و ناموری کی نیت سے ایسا کرے تو یہ ناجائز وحرام ہے۔ ایسی صورت میں اس پر لازم ہوگا کہ اپنی نیت کو درست کر ے یا پھر ایسا نہ کرے تاکہ گناہ سے بچ سکے۔ یہ بھی یاد رہے کہ اگر کسی نے مسجد کا نام اپنے یا اپنے والدین کے نام پر رکھ کر اس کی تختی لگائی ہو، تو بلا وجہ شرعی دوسروں کا اس کے بارے میں ریاکاری کی بدگمانی کرنا حرام ہے، کیونکہ ریاکاری دل کا فعل ہے اور ہمیں کسی کے دل پر اطلاع نہیں ۔

اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃاللہ علیہ فتاوی رضویہ میں اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”نام کا جواب بھی فتوٰی سابقہ میں تھا کہ ریاء کو حرام مگر بلاوجہ شرعی مسلمان پر قصد ریا کی بدگمانی بھی حرام، اور بنظر دعا ہے تو حرج نہیں، نہ کفایت اجمال منافی طلب خصوص۔ اور یہ مصلحت کہ اس تحریر میں بتائی ضرور قابل لحاظ ہے جبکہ اس کا نام وجہ اعتبار اعلان یا زیادت اعتبار ہو۔وانما الاعمال بالنیات وانمالکل امرئ مانوی۔ اعمال کا دار و مدار نیتوں پر ہے ہر شخص کے لئے وہی کچھ ہے جس کی اس نے نیت کی۔(ت)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 16، صفحہ 499، مطبوعہ، رضافاؤنڈیشن، لاھور)

مولانا محمد اجمل قادری رضوی رحمۃ اللہ تعالی علیہ فتاوی اجملیہ میں اسی طرح کے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے فرماتے ہیں: ”بلا شک مسجد میں روپیہ صرف کرنا باعث اجر و ثواب ہے۔ لیکن جب فخر و ناموری کیلئے نہ ہو۔۔لہذا اگر یہ کتبہ محض فخر و شہرت اور ریا و ناموری کی بنا پر ہے تو زوجہ وزیر بخش اور ان کی برادری کو اس پر ہرگز ہرگز اصرار نہ کرنا چاہیے۔۔اور اگر اس کتبہ کا نصب کرنا فخر و ناموری کی غرض سے نہیں ہے تو اس کا لگانا نہ فقط جائز بلکہ سلف سے منقول ہے بلکہ اس کی اصل حدیث شریف سے ثابت ہے۔ ابو داؤد و نسائی شریف میں ہے کہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے سرکار رسالت صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ وسلم کی بارگا ہ میں آکر عرض کیا:

 یا رسول اللہ ان ام سعد ماتت فای صدقۃ افضل؟ قال: الماء۔فحفر بیراًو قال ہذا لام سعد۔ ترجمہ: حضور! ام سعد کا انتقال ہوگیا ہے تو کونسا صدقہ افضل ہے؟ حضور نے فرمایا: پانی، تو حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے اپنی ماں کے نام کا کنواں کھودوایا اور کہا کہ یہ کنواں ام سعد کے لیے ہے۔ تو اس حدیث میں اس کنوے کی نسبت ام سعد کی طرف کی گئی۔ اسی طرح بکثرت مقامات پر نسبتوں کا وجود ہے۔ ایک مسجد ابی بن کعب ہے۔ ایک مسجد سلمان فارسی ہے۔ اور مسجد بنی جعفر میں یہ کتبہ لگا ہوا موجود ہے جس کو حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے جذب القلوب میں نقل کیا: ”در ہمیں محراب سنگے است بروئے نوشتہ خلد اللہ ملک الامام ابی جعفر المنصور المستنصر باللہ امیر المومنین عمر سنۃ ثلثین وستمائۃ“ تواگر ایسی نسبتیں اور کتبہ لگانا ناجائز ہوتا تو علمائے کرام و فقہائے عظام خود مدینہ شریف میں اس کو کب روا رکھتے اور اس پر عدم جواز کا فتوی صادر فرماتے۔ خود مسجد نبوی میں جب بادشاہ روم سلطان مراد نے منبر شریف 998 ھ میں پتھر کا تیار کرایا اور علمائے روم نے اس کی یہ تاریخ نکالی: منبر عمر سلطان مراد۔ اس قسم کی بکثرت مثالیں جذب القلوب میں ہیں۔ تو یہ بات نہایت صاف طرح پر ثابت ہوگئی کہ مساجد وغیرہ اوقاف پر بانی کا نام کندہ کرنا ایسا جائز ہے کہ اس پر کبھی کسی نے اعتراض ہی نہیں کیا۔“ (فتاوی اجملیہ، جلد 2، صفحہ 392 تا 393، مطبوعہ، شبیر برادرز، لاھور)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: ابو القاسم محمد اعظم قادری
مصدق: مفتی ابو الحسن محمد ہاشم خان عطاری
فتویٰ نمبر: Lar-9164
تاریخ اجراء: 22 صفر المظفر1441ھ / 22 اکتوبر 2019ء