logo logo
AI Search

اجتماع میں آیت سجدہ سننے والوں پر سجدہ تلاوت کا حکم

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اجتماع میں آیت سجدہ تلاوت کی گئی، تو کس کس پر سجدہ تلاوت واجب ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کسی اجتماع میں آیت سجدہ تلاوت کی گئی ہو، تو کس کس پر سجدہ تلاوت واجب ہے؟

جواب

پوچھی گئی صورت میں جس جس نے آیتِ سجدہ سُنی، اُن سب پر سجدۂ تلاوت واجب ہو گیا، بشرطیکہ وہ نماز کا اہل ہو؛ کیونکہ سجدہ تلاوت، آیتِ سجدہ پڑھنے، یا سننے سے لازم ہوتا ہے۔ البتہ! جنہوں نے آیتِ سجدہ نہیں سُنی، تو ان پر سجدہ تلاوت واجب نہیں ہو ا، اگرچہ وہ اسی اجتماع میں ہوں۔ نیز اس اجتماع میں جو نماز کے اہل نہ ہوں، مثلاً نابالغ، حیض و نفاس والی وغیرہ، تو آیتِ سجدہ سننے سے ان پر سجدۂ تلاوت واجب نہیں ہوا۔ الاختیار لتعلیل المختار میں ہے "(هو واجب على التالي والسامع) قال عليه الصلاة والسلام: السجدة على من تلاها، السجدة على من سمعها، وعلى للوجوب" یعنی قراء ت کرنے والے اور سننے والے پر سجدہ تلاوت واجب ہے، حضورعلیہ الصلاۃ والسلام نے ارشادفرمایا: آیت سجدہ تلاوت کرنے والے پرسجدہ لازم ہے، آیت سجدہ سننے والے پرسجدہ لازم ہے۔ اور لفظِ "علی" وجوب کے لیے ہے۔ (الاختیار لتعلیل المختار، جلد 1، صفحہ 130، دارالحدیث، قاہرہ)

فتاوی عالمگیری میں ہے "والأصل في وجوب السجدة أن كل من كان من أهل وجوب الصلاة إما أداء أو قضاء كان أهلا لوجوب سجدة التلاوة ومن لا فلا۔۔۔حتى لو كان التالي كافرا أو مجنونا أو صبيا أو حائضا أو نفساء۔۔۔ لم يلزمهم" ترجمہ: سجدہ تلاوت واجب ہونے میں اصول یہ ہے کہ ہر وہ شخص جو نماز کے وجوب کا اہل ہو، خواہ اداءً وجوب کا اہل ہو، یا قضاءً، تو وہ سجد ہ تلاوت کے واجب ہونے کا بھی اہل ہے، اور جو وجوب ِنماز کا اہل نہ ہو، وہ سجدہ تلاوت کا بھی اہل نہیں، یہاں تک کہ اگر تلاوت کرنے والا کافر، مجنون، بچہ، حیض و نفاس والی عورت ہو، تو ان پر سجدہ تلاوت لازم نہیں ہوگا۔ (فتاوی عالمگیری، جلد 1، صفحہ 132، دار الفکر، بیروت)

بہارِ شریعت میں ہے "آیت سجدہ پڑھنے یا سننے سے سجدہ واجب ہو جاتا ہے…… قاری نے آیت پڑھی مگر دوسرے نے نہ سُنی تو اگرچہ اسی مجلس میں ہو اس پر سجدہ واجب نہ ہوا" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 728، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

اسی میں ہے " آیت سجدہ پڑھنے والے پر اس وقت سجدہ واجب ہوتا ہے کہ وہ وجوب نماز کا اہل ہو یعنی ادا یا قضا کا اسے حکم ہو، لہٰذا اگر کافر یا مجنون یا نابالغ یا حیض و نفاس والی عورت نے آیت پڑھی تو ان پر سجدہ واجب نہیں۔" (بہارِ شریعت، جلد 1، حصہ 4، صفحہ 729، مکتبۃ المدینۃ، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد انس رضا عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5038
تاریخ اجراء: 17 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 05 مئی 2026ء