logo logo
AI Search

کیا کوئی بھی مقتدی امام کو لقمہ دے سکتا ہے ؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

جماعت میں کون سا مقتدی امام کو لقمہ دے سکتا ہے ؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

جماعت میں امام کے پیچھے مقتدیوں میں سے کون سا مقتدی لقمہ دے سکتا ہے؟ یعنی کیا صرف تین مقتدی دے سکتے ہیں، یا تمام کے تمام، چاہے آخری صف میں ہی کیوں نہ ہو؟

جواب

امام سے نماز میں غلطی ہو جائے، تو اگلی یا پچھلی صف میں سے کوئی بھی مقتدی اسے لقمہ دے سکتا ہے، خاص تین مقتدیوں کا حق نہیں، بلکہ اگر غلطی ایسی ہو، جس سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، تو اصلاحِ نماز (نماز کی درستی) کے لیے تمام مقتدیوں پر بتانا فرضِ کفایہ ہے، ان میں سے کسی ایک نے بھی بتا دیا، تو سب کے ذمہ سے فرض اتر جائے گا، اگر کوئی بھی نہ بتائے، توجتنے جاننے والے ہوں گے، سب گنہگار ہوں گے۔

امامِ اہلِ سنّت امام احمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”امام جب ایسی غلطی کرے جو مُوجِب ِفسادِ نماز ہو، تو اس کا بتانا اور اصلاح کرانا ہر مقتدی پر فرض کفایہ ہے، ان میں سے جو بتادے گا سب پر سے فرض اُتر جائے گا اور کوئی نہ بتائے گا، تو جتنے جاننے والے تھے سب مرتکبِ حرام ہوں گے اور نماز سب کی باطل ہو جائے گی۔” وذٰلک لان الغلط لما کان مفسدا کان السکوت عن اصلاحہ ابطالا للصلاۃ وھو حرام بقولہ تعالیٰ ﴿وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَکُمْ﴾یعنی اس کی وجہ یہ ہے کہ غلطی جب نماز کو فاسد کرنے والی ہو، تو اس کی اصلاح کرنے پر خاموشی، نماز کو باطل کرنے کا باعث ہے اور یہ (عمل کو باطل کرنا) ﷲ تعالیٰ کے اس ارشاد مبارک "اور اپنے اعمال باطل نہ کرو" کی وجہ سے حرام ہے۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 07، صفحہ 280، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

مزید فرماتے ہیں: ”اور ان (لقمہ دینے کے) تمام احکام میں جملہ مقتدی یکساں ہیں، امام کو بتانا کسی خاص مقتدی کا حق نہیں، ارشاداتِ حدیث و فقہ سب مطلق ہیں۔“ (فتاویٰ رضویہ، جلد 7، صفحہ 283، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

وقار الفتاوی میں ہے ”قرآن غلط پڑھا جائے گا، تو سننے والوں پر واجب ہے کہ وہ اس کی تصحیح کریں۔ اس لیے نماز تراویح اور فرض نمازوں میں بھی جب پڑھنے والا غلطی کرے، تو سننے والوں کو لقمہ کی اجازت دی گئی ہے۔ سامع جو مقرر ہے اسے چاہیے کہ وہ لقمہ دے اور اگر وہ لقمہ نہ دے سکے، تو پیچھے سننے والوں میں سے جو حافظ ہو یا کوئی اور جو اس غلطی کو سمجھتا ہے اور اسے صحیح الفاظ یاد ہیں، تو وہ بھی لقمہ دے سکتا ہے۔ غلطی مختلف طرح کی ہوتی ہے، بعض صورتوں میں تو نماز فاسد ہو جاتی ہے، وہاں لقمہ دینا ضروری ہے تاکہ نماز صحیح ہو جائے، ورنہ سب کی نماز فاسد ہو جائے گی اور بعض جگہیں ایسی ہیں کہ حافظ سے کوئی آیت چھوٹ جائے یا کوئی کلمہ پڑھنے سے رہ گیا اور اس سے اگر چہ نماز تو فاسد نہ ہوتی ہو، تو قرآن پورا سننے کا ثواب نہیں ملے گا، جب تک اس کی تصحیح نہ کرلی جائے، بلکہ سلام پھیر نے کے بعد بھی اگر ایسی غلطی یاد آئی یا بتائی گئی، تو آئندہ رکعت میں اس کو صحیح کر لیا جائے اس کے بعد قراءت شروع کی جائے۔“ (وقار الفتاوی، کتاب الصلاۃ، جلد 2، صفحہ 235، بزم وقار الدین، کراچی)

وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم

مجیب: مولانا محمد نوید چشتی عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: WAT-5008
تاریخ اجراء: 26 ذو القعدۃ الحرام 1447ھ / 14 مئی 2026ء