logo logo
AI Search

مغرب کی تیسری رکعت میں جہری قراءت کرنا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

امام نے سری کی جگہ جہری قراءت کردی اور سجدہ سہو نہ کیا، تو نماز کا حکم؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کےبارے میں کہ امام صاحب نے مغرب کی نماز پڑھاتے ہوئے تیسری رکعت میں بلند آواز سے مکمل سورت فاتحہ کی قراءت کی اور پھر رکوع کر دیا، سلام کے بعد امام صاحب کو بتایا گیا کہ آپ نے بلند آواز سے قراءت کی ہے اور سجدہ سہو بھی نہیں کیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ میں آہستہ آواز سے تلاوت کرنا بھول گیا تھا اور سجدہ سہو واجب نہیں تھا، اس لئے نہیں کیا، برائے مہربانی اس مسئلہ میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔

جواب

نمازِ مغرب کی تیسری رکعت میں قراءت کرنا فرض نہیں، ہاں اگر امام صاحب نے قراءت کرنی ہو، تو پھر آہستہ آواز سے پڑھنا واجب ہے، خواہ وہ سورۂ فاتحہ ہو یا بعدکی کوئی سورت، بھولے سے جہری یعنی بلند آواز سے بقدر جوازِ نماز یعنی ایک آیت پڑھنے کی صورت میں سجدہ سہو واجب اور سجدہ سہو نہ کرنے یا جان بوجھ کر بلند آواز سے پڑھنے کی صورت میں دوبارہ نماز پڑھنا واجب، لہذا صورتِ مسئولہ میں امام صاحب پر بھولے سے مکمل سورۂ فاتحہ پڑھنے پر سجدہ سہو واجب تھا، لیکن امام صاحب نے نہ کیا، تو اب امام صاحب اور ان کے ساتھ نماز میں شامل تمام مقتدیوں پر دوبارہ نماز پڑھنا واجب ہے۔

مغرب کی تیسری رکعت میں آہستہ قراءت کے وجوب کے متعلق علامہ ابن عابدین شامی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: ”و الاسرار یجب علی الامام ۔۔۔۔۔ فیما یسر فیہ و ھو صلاۃ الظھر و العصر و الثالثۃ من المغرب و الاخریان من العشاء“ ترجمہ: جن نمازوں میں آہستہ قراءت کی جاتی ہے، ان نمازوں میں آہستہ قراءت کرنا امام پر واجب ہے اور وہ نمازیں ظہر و عصر ہیں اور مغرب کی تیسری رکعت اور عشاء کی آخری دو رکعتیں ہیں۔ (رد المحتار، جلد 2، صفحہ 201، مطبوعہ کوئٹہ)

صدر الشریعہ مفتی محمد امجد علی اعظمی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں: مغرب کی تیسری اور عشا کی تیسری چوتھی اور ظہر و عصر کی تمام رکعتوں میں آہستہ پڑھنا واجب ہے۔ (بھار شریعت، جلد 1، حصہ 3، صفحہ 544، مکتبۃ المدینہ، کراچی)

بھولے سے سری کی جگہ جہری قراءت کرنے پر سجدہ سہو واجب ہونے کے متعلق علامہ برہان الدین مَرْغِینانی رَحْمَۃُاللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ (سالِ وفات: 593ھ / 1196ء) لکھتے ہیں: ”و لو جهر الامام فيما يخافت أو خافت فيما يجهر تلزمه سجدتا السهو“ لأن الجهر في موضعه و المخافتة في موضعها من الواجبات و اختلفت الرواية في المقدار و الأصح قدر ما تجوز به الصلاة في الفصلين لأن اليسير من الجهر و الاخفاء لا يمكن الاحتراز عنه و عن الكثير ممكن و ما يصح به الصلاة كثير“ ترجمہ: اگرامام نے سری نماز میں جہری قراءت کی یا جہری نماز میں سری قراءت کی، تو سجدہ سہو واجب ہوجائے گا، اس لیے کہ جہر کے موقع پر جہری اور سرّ کے موقع پر سرّی قراءت کرنا واجبات میں سے ہے، البتہ مقدارِ قراءت میں اختلاف ہے اور اصح یہ ہے کہ دونوں صورتوں میں اتنی قراءت کرنا ( سجدہ سہو کو واجب کرے گا کہ) جس سے نماز جائز ہوجاتی ہے، اس لیے کہ جہری میں معمولی سی سرّی اور سرّی میں معمولی سی جہری قراءت کرنے سے بچنا ناممکن ہے اور کثیر سے بچنا ممکن ہے اور اتنی مقدار کہ جس سے نماز درست ہو جائے، یہ کثیر مقدار ہے۔ (ھدایہ، کتاب الصلاۃ، باب سجود السھو، جلد 1، صفحہ 165، مطبوعہ لاھور)

سجدہ سہو نہ کرنے کی صورت میں نماز کا اعادہ واجب ہونے کے متعلق علامہ حصکفی رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ لکھتے ہیں:”تعاد وجوبا فی العمد و السہو ان لم یسجد“ ترجمہ: جان بوجھ کر (واجب چھوڑنے کی صورت میں) نماز کا اعادہ واجب ہے اور (یوں ہی) بھول کر واجب ترک کرنے کی صورت میں اگر سجدہ سہو نہ کیا، تو (نماز کا اعادہ واجب ہے)۔ (درمختار مع ردالمحتار، جلد 2، صفحہ 181، مطبوعہ کوئٹہ)

اگر جان بوجھ کر واجب ترک کیا، تو نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہونے کے متعلق فتاوی عالمگیری میں ہے: ”لا يجب السجود في العمد و إنما تجب الإعادة جبرا لنقصانه“ ترجمہ: جان بوجھ کر (واجب چھوڑنے کی صورت میں) سجدہ (سہو) واجب نہیں ہوتا، اس نقصان کو پورا کرنے کے لئے (نماز) کا اعادہ واجب ہے۔ (الفتاوى الھندیۃ، جلد 1، صفحہ 140، مطبوعہ لاہور)

امامِ اہلِ سُنَّت، امام اَحْمد رضا خان رَحْمَۃُ اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے سوال ہوا: اگر امام یا منفرد تیسری یا چوتھی رکعت میں کچھ قرأت جہر سے پڑھ جائے تو سجدہ سہو واجب ہوگا یا نہیں؟ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا: اگر امام اُن رکعتوں میں جن میں آہستہ پڑھنا واجب ہے، جیسے ظہر و عصر کی سب رکعات اور عشاء کی پچھلی دو اور مغرب کی تیسری اتنا قرآن عظیم جس سے فرض قرأت ادا ہو سکے (اور وُہ ہمارے امام اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے مذہب میں ایک آیت ہے) بھول کر بآواز پڑھ جائیگا تو بلاشبہ سجدہ سہو واجب ہوگا، اگر بلاعذرِشرعی سجدہ نہ کیا یا اس قدر قصداً بآواز پڑھا تو نماز کا پھیرنا واجب ہے، اور اگر اس مقدار سے کم مثلاً ایک آدھ کلمہ بآوازِ بلند نکل جائے تو مذاہب راجح میں کچھ حرج نہیں۔ (فتاویٰ رضویہ، جلد 6، صفحہ 251، مطبوعہ رضا فاؤنڈیشن،لاھور)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّوَجَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا عبد الرب شاکر عطاری مدنی
مصدق: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FSD-9959
تاریخ اجراء: 11 ذیقعدہ 1447ھ / 29 اپریل 2026ء