نماز کا دوسرا سلام بھول کر دوسری نماز شروع کرنے کا حکم
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نماز کا دوسرا سلام کہنا بھول گئے اور دوسری نماز شروع کر دی تو نماز کا حکم ؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ عشاء کی فرض نماز پڑھتے ہوئے میں نے ایک طرف سلام پھیرا اور دوسری طرف سلام پھیرنا بھول گئی اور پھر کھڑے ہو کر سنتیں شروع کر دیں، تو کیا میرے چار فرض ادا ہوگئے یا دوبارہ پڑھنے ہوں گے ؟
جواب
پوچھی گئی صورت میں آپ پر چار فرض دوبارہ پڑھنا لازم ہیں۔
مسئلے کی تفصیل یہ ہے کہ نماز کے اختتام پر دو مرتبہ لفظ "السلام" کہنا واجباتِ نماز میں سے ہے۔ اگر کوئی دونوں مرتبہ یا ایک مرتبہ لفظ سلام کہنا بھول جائے اور ایک رکن کی مقدار یا اس سے زیادہ تاخیر ہو جائے، تو سجدہ سہو لازم ہو جاتا ہے اور سجدہ سہو کا محل اس وقت تک باقی رہتا ہے، جب تک بندہ نماز کے منافی کوئی کام نہ کر لے، جیسے گفتگو کرنا، قہقہہ لگانا، یونہی اگلی نماز شروع کر دینا وغیرہ۔ اگر نمازی نے اِن میں سے کوئی کام کر لیا، تو پھر سجدہ سہو کفایت نہیں کرے گا، بلکہ نماز کو دوبارہ پڑھنا واجب ہوگا، اور مذکورہ صورت میں بھی آپ پر دوسری مرتبہ لفظِ "سلام" بھول جانے کی وجہ سے سجدۂ سہو لازم ہوا، لیکن سجدۂ سہو کرنے سے پہلے ہی آپ نے اگلی نماز شروع کر دی، اس لیے سجدۂ سہو کا محل ختم ہو گیا، لہٰذا فرض نماز کا اعادہ واجب ہوگا ۔
نماز کے اختتام پر لفظ ”السلام“ کہنا واجب ہے، جیسا کہ محدثِ احناف علامہ بدر الدین عینی رحمۃ اللہ علیہ واجباتِ نماز شمار کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ”الواجب التاسع: إصابة لفظ السلام، لقوله عليه السلام: وتحليلها التسليم“ ترجمہ: نواں واجب سلام کے الفاظ کہنا ہے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "نماز سے باہر ہونے کا ذریعہ سلام پھیرنا ہے۔" (منحۃ السلوک، ص 103، وزارۃ الاوقاف والشؤون الاسلامیہ، قطر)
سلام پھیرتے وقت دو مرتبہ لفظ "السلام" کہنا واجب ہے، جیسا کہ فتح القدیر، طحطاوی علی المراقی اور تنویر مع در میں ہے: واللفظ للآخِر ”(ولھا واجبات) ۔۔۔ (و لفظ السلام) مرتين، فالثاني واجب على الاصح دون عليكم“ ترجمہ: نماز کے کچھ واجبات ہیں (جن میں سے ایک) لفظ "السلام" دو مرتبہ کہنا بھی ہے، پس صحیح ترین قول کے مطابق دوسرا سلام بھی واجب ہے، لیکن لفظ "علیکم" کہنا واجب نہیں۔ (تنویر الابصار مع الدر المختار، صفحه 65، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بہار شریعت میں ہے: ”لفظ السلام دوبار (واجب ہے) اور علیکم واجب نہیں۔“ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 518، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
بھولنے سے سلام ترک کر دیا تو سجدہ سہو لازم ہوگا۔ ملک العلماء امام کاسانی رحمۃ اللہ علیہ ارشاد فرماتے ہیں: ”وأما الذي هو عند الخروج من الصلاة فلفظ السلام عندنا۔۔۔أما صفته فإصابة لفظة السلام ليست بفرض عندنا ولكنها واجبة۔۔۔ولو تركها ساهيا يلزمه سجود السهو عندنا“ ترجمہ: اور وہ عمل جو نماز سے باہر آتے ہوئے کیا جاتا ہے، وہ ہمارے (یعنی احناف کے) نزدیک سلام کا لفظ کہنا ہے۔ اس کی کیفیت یہ ہے کہ سلام کا لفظ کہنا ہمارے نزدیک فرض نہیں بلکہ واجب ہے۔ اگر کوئی شخص اسے بھولے سے ترک کر دے، تو ہمارے نزدیک اس پر سجدۂ سہو لازم ہوگا۔ (بدائع الصنائع، ج 1، ص 194، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
بھولنے سے سلا م میں تاخیر کرنے کی صورت میں بھی سجدہ سہو لازم آئے گا، جیساکہ شیخ ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”(وان سهى عن السلام يعنى اطال القعدة) الاخيرة ساكتا قدر كن او اكثر (على ظن انه خرج من الصلوة ثم علم) انه لم يخرج ولم يسلم (فسلم يسجد للسهو) لتأخير الواجب“ ترجمہ: اور اگر کوئی سلام پھیرنا بھول جائے یعنی بقدر ایک رکن یا اس سے زیادہ خاموش رہ کر قعدہ اخیرہ کو لمبا کر دے، یہ گمان کرتے ہوئے کہ وہ نماز سے نکل چکا ہے، پھر اسے معلوم ہوا کہ وہ ابھی نماز سے نہیں نکلا اور سلام بھی نہیں پھیرا، تو واجب میں تاخیر کے سبب وہ (ایک طرف) سلام پھیر کر سجدۂ سہو کرے۔ (حلبی الکبیر، ص 464، مطبوعہ کوئٹہ)
بھولنے سے سلام ترک کر دیا اور منافیِ نماز کوئی کام کر لیا تو کیا حکم ہے؟ اس حوالے سے حضرت علامہ شیخ محمد عابد سندھی انصاری رحمۃ اللہ علیہ لکھتے ہیں: ”ثم كيف یتاتی سجود السهو بترك السلام ساهيا، فانہ ان وجد المنافي منه تعذر عليه السجود والا فيمكنه ان ياتي بالسلام“ ترجمہ: پھر سلام کو بھولے سے چھوڑ دینے کی صورت میں سجدۂ سہو کیسے کیا جائے گا؟ کیونکہ اگر سلام چھوڑنے کے بعد بندے سے کوئی ایسا کام سرزد ہو جائے جو نماز کے منافی ہو، تو سجدۂ سہو کرنا ممکن ہی نہیں رہے گا اور اگر کوئی منافیِ نماز کام نہ پایا جائے تو وہ سلام ادا کر سکتا ہے۔ (طوالع الانوار شرح الدر المختار، ج 1، حصہ 2، ص 606، المخطوط)
سجدہ سہو کا محل، نماز کی تحریمہ ہے، جیسا کہ بدائع الصنائع میں ہے: ’’أن سجود السهو يؤدى في تحريمة الصلاة‘‘ ترجمہ: بلاشبہ سجدہ سہو نماز کی تحریمہ میں ہی ادا کیا جاسکتا ہے۔ (بدائع الصنائع، جلد 1، صفحہ 176، دار الكتب العلمية، بیروت)
دوسری نماز شروع کر دینے سے سجدہ سہو کا محل ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ بحر الرائق میں ہے: ”ولو سها فسلم ثم قام فكبر ودخل في صلاة أخرى فرضا كان أو نفلا لا يجب عليه سجود السهو لأن التحريمة الأولى قد انقطعت وهذه تحريمة قد استؤنفت فالنقصان الذي حصل في التحريمة الأولى لا يمكن جبره بفعله في التحريمة الأخرى‘‘ ترجمہ: اگر کسی سے نماز میں سہو واقع ہوا اور (سجدہ سہو کیے بغیر) اس نے سلام پھیر دیا، پھر وہ کھڑا ہوا، تکبیر کہی اور دوسری فرض یا نفل نماز شروع کردی، تو اس پر سجدہ سہو واجب نہ رہا، کیونکہ پہلی تحریمہ ختم ہوگئی اور یہ (دوسری) تحریمہ شروع ہو گئی، تو وہ نقصان جو پہلی تحریمہ میں ہوا تھا، اُسے دوسری تحریمہ میں سجدہ سہو کرکے پورا کرنا ممکن نہیں۔ (بحر الرائق، جلد 2، صفحہ 117، دارالکتاب الاسلامی، بیروت)
سجدۂ سہو واجب ہونے کے باوجود نہ کیا تو نماز کا اعادہ واجب ہوگا، جیساکہ در مختار میں ہے: ”و تعاد وجوبا في العمد و السهو إن لم يسجد له و إن لم يعدها يكون فاسقا آثما“ ترجمہ: جان بوجھ کر واجب چھوڑا یا بھولے سے چھوٹ جانے کی صورت میں سجدہ سہو نہ کیا، تو نماز دوبارہ پڑھنا واجب ہے، اگر اعادہ نہیں کیا تو گنہگار ہوگا۔ (الدر المختار، ص 64، دار الکتب العلمیہ، بیروت)
وَاللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: pin-7778
تاریخ اجراء: 27 ذو الحجۃ الحرام 1447 ھ/13 جون 2026ء