فرض نماز کے بعد مختصر دعا بہتر ہے یا طویل؟
بسم اللہ الرحمن الرحیم
فرض نماز وں کے بعد مختصر دعا مانگنی چاہئے یا طویل؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
ہمارے علاقے میں فرض نماز کے فورا بعد بہت مختصر دعا کرتے ہیں، اور پھر سنتوں کے لیے کھڑے ہو جاتے ہیں، جبکہ کچھ جگہوں پر فرض نماز کے بعد کچھ لمبی دعا کرتے ہیں۔ ان میں سے کون ساعمل بہتر ہے؟
جواب
جن فرضوں کے بعد سنتیں بھی ہوتی ہیں، ان کے بعد مختصر دعا بہتر ہے، کہ فرض اور سنتوں کے درمیان طویل فاصلہ مکروہ ہے۔ نبی پاک صلی اللہ تعالی علیہ و آلہ و سلم کامعمول مبارک بیان کرتے ہوئے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا ارشاد فرماتی ہیں: كان النبي صلى اللہ تعالی عليه و آلہ و سلم إذا سلم لم يقعد إلا مقدار ما يقول: اللّٰهم أنت السلام و منك السلام، تباركت ذا الجلال و الإكرام" سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم جب فرائض سے سلام پھیرتے،تو فقط "اللّٰهم أنت السلام و منك السلام، تباركت ذا الجلال و الإكرام" پڑھنے کی مقدار تشریف رکھا کرتے تھے۔ (صحیح مسلم، ص 217، رقم الحدیث 592،دار الکتب العلمیۃ، بیروت)
مذکورہ حدیث کے تحت علامہ طیبی علیہ الرحمۃ فرماتےہیں: إنما ذلك في صلاة بعدها راتبة، أما التي لا راتبة بعدها كصلاة الصبح فلا" ترجمہ: یہ فعل مبارک ان فرائض کے بعد تھا، جن کے بعدسنتیں ہیں، اور جن کے بعد سنتیں نہیں جیسا کہ نماز فجر، ان کے بعد یہ معمول نہ تھا۔ (شرح المشکوۃ للطیبی، ج 03، ص 1057، مطبوعہ: ریاض)
مفاتیح شرح المصابیح میں ہے "لا يقعد إذا سلم من فريضة بعدها سنة إلا هذا المقدار، و هي الظهر و المغرب و العشاء" ترجمہ: جس فرض کے بعد سنتیں ہیں جیسے ظہر، مغرب اور عشاء، ان سے سلام پھیرنے کے بعد صرف اتنی دیر تشریف رکھتے تھے۔ (المفاتيح في شرح المصابيح، ج 02، ص 174، دار النوادر)
ردالمحتار ميں ہے "يكره تأخير السنة إلا بقدر اللّٰهم أنت السلام إلخ" یعنی سنتوں میں "اللّٰھم انت السلام الخ" کی مقدار سے زائد فاصلہ کرنا مکروہ ہے۔ (ردالمحتار، جلد 9، صفحہ 698، مطبوعہ: کوئٹہ)
امام اہلسنت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالی علیہ سے سوال ہوا کہ جس فرض کے بعد سنّت ہے اس فرض کے بعد مناجات کرنا درست ہے یا نہیں؟ یا بغیر مناجات کے سنّت ادا کرے یا مختصر مناجات کے بعد سنّت شروع کرے؟
تو آپ علیہ الرحمۃ نے جواباً ارشاد فرمایا: جائز و درست تو مطلقاً ہے مگر فصل طویل مکروہ تنزیہی و خلافِ اَولیٰ ہے اور فصل قلیل میں اصلا حرج نہیں۔ (فتاوی رضویہ، ج 06، ص 234، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مولانا محمد نور المصطفیٰ عطاری مدنی ف
توی نمبر: WAT-5149
تاریخ اجراء: 17 محرم الحرام 1448ھ / 03 جولائی 2026ء