logo logo
AI Search

صفوں میں کتنا فاصلہ ہو نیز ستونوں کے درمیان صف بنانا کیسا؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ستونوں کے درمیان صف بنا نے کا حکم

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ (1) کیا مسجد میں ہر دو صفوں کے درمیان ڈیڑھ فٹ کا فاصلہ چھوڑا جا سکتا ہے تاکہ گرمی کی وجہ سے حبس نہ ہو؟ (2) اگر صف میں موٹے پلرز آ رہے ہوں اور ان کی وجہ سے سات آٹھ فٹ کی جگہ چھوٹ رہی ہو تو کیا پھر بھی پلرز کے درمیان صف نہیں بنائی جا سکتی اور اتنا فاصلہ چھوڑنا ہی ہوگا؟

جواب

(۱) حکم شرعی یہ ہے کہ دوران جماعت صفیں آپس میں قریب قریب ہوں کہ بلا ضرورت سجدے کے لیے درکار جگہ سے زائد درمیان میں فاصلہ نہ رہے؛ اس لیے کہ حدیث پاک میں صفوں کو ایک دوسرے کے قریب رکھنے کا حکم فرمایا گیا ہے، لہذا صفوں میں بلا وجہ کثیر فاصلہ چھوڑنا خلاف سنت اور مکروہ ہے۔ پس معمولی گرمی یا حبس کا امکان اس کے لیے عذر نہیں، ہاں تھوڑی سی زیادہ جگہ کا فاصلہ کرلیا جائے، اس سے بھی گرمی پر فرق پڑتا ہے۔ تاہم اگر واقعی شدید گرمی ہے یا حبس کا صحیح اندیشہ ہے جو کہ نمازیوں کی تکلیف کا باعث ہے تو مسجد میں دوران جماعت صفوں کے درمیان کچھ فاصلہ رکھنے کی عذر کے پیش نظر اجازت ہوگی۔

(۲) بلا ضرورت ستونوں (Pillars) کے درمیان صف بنانے کی اجازت نہیں، اگرچہ ستون موٹے ہوں اور ان سے دو صفوں کے مابین کئی فٹ جگہ خالی چھوٹ جائے؛ اس لیے کہ احادیث طیبہ میں ستونوں کے درمیان صف بندی سے منع فرمایا گیا ہے، نیز ایسا کرنا قطع صف کا باعث ہے جو کہ ممنوع و ناجائز ہے، لہذا بغیر ضرورت ستونوں کے درمیان صف بنانا مکروہ تحریمی و گناہ ہے۔ ہاں اگر یہ صف بنانا کسی ضرورت کی بنا پر ہو، مثلاً نمازیوں کی کثرت کی وجہ سے مسجد تنگ پڑ جائ،ے جیسا کہ عموماً جمعہ و عیدین میں ہوتا ہے تو بنا سکتے ہیں، اس صورت میں گناہ و کراہت نہیں۔

سنن ابی داؤد، سنن نسائی، صحیح ابن خزیمہ، مسند امام احمد، مشکوۃ المصابیح میں ہے: و اللفظ للاول عن أنس بن مالك عن رسول اللہ صلى اللہ عليه و سلم قال: رصوا صفوفكم و قاربوا بينها و حاذوا بالأعناق فوالذي نفسي بيده إني لأرى الشيطان يدخل من خلل الصف كأنها الحذف“ ترجمہ: حضرت انس بن مالک رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ارشاد فرمایا: اپنی صفیں سیدھی کرو (یعنی انہیں سیدھا رکھو اور ان میں مل کر کھڑے ہو) اور صفوں کے درمیان نزدیکی رکھو اور گردنوں کو برابر رکھو۔ پس اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے! بے شک میں شیطان کو بکری کے بچے کی مانند صف کی کشادگی (شگافوں) میں داخل ہوتے دیکھتا ہوں۔ (سنن أبي داود، كتاب الصلاة ، باب تسوية الصفوف، جلد 1، صفحہ 179، حدیث 667، المكتبة العصرية، بيروت)

علامہ نور الدین ملا علی قاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1014ھ / 1606ء) اس حدیث پاک کی شرح میں لکھتے ہیں: و قاربوا بينها أي: بين الصفوف بحيث لا يقع بين صفين صف آخر فيصير تقارب أشباحكم سببا لتعاضد أرواحكم و لا يقدر الشيطان أن يمر بين أيديكم و الظاهر أن محله حيث لا عذر كحر أو برد شديد“ ترجمہ: اور صفوں کے درمیان نزدیکی رکھو، یعنی اس طرح کہ دو صفوں کے درمیان کوئی اور صف واقع نہ ہو سکے، پس تمہارے ظاہری جسموں کا باہم قریب ہونا تمہاری روحوں کے ایک دوسرے کو تقویت پہنچانے کا سبب بن جائے گا اور شیطان تمہارے سامنے سے گزرنے پر قادر نہ ہو سکے گا۔ اور ظاہر یہ ہے کہ اس کا محل وہ ہے جہاں کوئی عذر جیسے گرمی یا شدید سردی نہ ہو۔ (مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح، كتاب الصلاة، باب تسوية الصف ، جلد 3، صفحہ 851 - 852، دار الفكر، بيروت)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: امام صف سے اتنا آگے کھڑا ہو کہ جو مقتدی اس کے پیچھے ہے اس کا سجدہ بطور مسنون بآسانی ہو جائے۔ بلا ضرورت اس سے کم فاصلہ رکھنا جس کے سبب مقتدیوں کو سجدہ میں تنگی ہو، منع ہے۔ یوں ہی فاصلہ کثیر عبث چھوڑنا خلاف سنت مکروہ ہے۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 547، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

سنن ابن ماجہ، صحیح ابن خزیمہ، صحیح ابن حبان اور مستدرک للحاکم میں ہے: و اللفظ للاول ”عن معاوية بن قرة عن أبيه قال: كنا ننهى أن نصف بين السواري على عهد رسول اللہ صلى اللہ عليه وسلم ونطرد عنها طردا“ ترجمہ: حضرت معاویہ بن قرہ تابعی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اپنے والد حضرت قرہ بن ایاس مزنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت کرتے ہیں، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے زمانے میں ہمیں ستونوں کے درمیان صف بنانے سے منع فرمایا جاتا تھا اور ہمیں وہاں سے ضرور ہٹا دیا جاتا تھا۔ (سنن ابن ماجه، أبواب إقامة الصلوات، باب الصلاة بين السواري في الصف، جلد 2، صفحہ 135، حدیث 1002، دار الرسالة العالمية)

امام ابو عبد اللہ محمد بن اسماعیل بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 256ھ / 870ء) نقل کرتے ہیں: عن معدي كرب قال ابن مسعود: لا تصل بين الأساطين إما أن تقدمها و إما أن تؤخرها“ ترجمہ: حضرت معدی کرب ہمدانی سے روایت ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: ستونوں کے درمیان (صف میں) نماز نہ پڑھو، یا تو انہیں اپنے آگے رکھو یا اپنے پیچھے رکھو۔ (التاريخ الكبير للبخاري، حرف المیم، جلد 9، صفحہ 367، رقم 11230، مطبوعہ ریاض)

علامہ بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 855ھ / 1451ء) لکھتے ہیں: و لا خلاف في جوازه عند الضيق و أما مع السعة فمكروه“ ترجمہ: اور جگہ کی تنگی کے وقت اس (ستونوں کے درمیان صف بنانے) کے جائز ہونے میں کوئی اختلاف نہیں، اور رہا وسعت کے باوجود ان میں صف بنانا تو یہ مکروہ ہے۔ (شرح سنن أبي داود للعيني، کتاب الصلاة ، باب الصفوف بين السواري، جلد 3، صفحہ 223، مطبوعہ ریاض)

امام اہل سنت اعلی حضرت امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1340ھ / 1921ء) لکھتے ہیں: بے ضرورت مقتدیوں کا دَر میں صف قائم کرنا یہ سخت مکروہ کہ باعث قطع صف ہے اور قطع صف ناجائز، ہاں اگر کثرت جماعت کے باعث جگہ میں تنگی ہو اس لیے مقتدی دَر میں اور امام محراب میں کھڑے ہوں تو کراہت نہیں۔ یوں ہی اگر مینہ کے باعث پچھلی صف کے لوگ دَروں میں کھڑے ہوں تو یہ ضرورت ہے، والضرورات تبیح المحظورات (سخت ضرورت ممنوعات کو مباح کر دیتی ہے۔ ت) رہا اکیلا، اس کے لیے ضرورت، بے ضرورت، محراب میں، دَر میں مسجد کے کسی حصہ میں کھڑا ہونا اصلاً کراہت نہیں رکھتا۔ . . . عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں قبیل باب الصلوۃ الی الراحلۃ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ہے کہ انہوں نے فرمایا: لاتصفوا بین الاساطین و اتموا الصفوف" ستونوں کے بیچ میں صف نہ باندھو اور صفیں پوری کرو۔ اور اس کی وجہ قطع صف ہے اگر تینوں دَروں میں لوگ کھڑے ہوئے تو ایک صف کے تین ٹکڑے ہوئے اور یہ ناجائز ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: من قطع صفا قطعہ اللہ" جو کسی صف کو قطع کرے اللہ اسے قطع کر دے۔ اور بعض دَروں میں کھڑے ہوئے بعض خالی چھوڑ دے جب بھی قطع صف ہے؛ کہ صف ناقص چھوڑ دی، کاٹ دی، پوری نہ کی، اور اس کا پورا کرنا لازم ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں: اتموا الصفوف (صفوں کو مکمل کرو۔ ت)۔ (فتاوی رضویہ، جلد 6، صفحہ 131 - 134، رضا فاؤنڈیشن، لاہور)

صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (سال وفات: 1367ھ / 1948ء) لکھتے ہیں: بلا ضرورت مقتدیوں کو دروں میں کھڑا ہونا مکروہ ہے کہ قطع صف ہے اور قطع صف ممنوع ، حدیث میں ارشاد فرمایا: من وصل صفا و صله اللہ و من قطع صفا قطعه اللہ (یعنی جو کسی صف کو ملائے اللہ اسے ملائے گا اور جو کسی صف کو قطع کرے اللہ اسے قطع کر دے گا)۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 163، مکتبہ رضویہ، کراچی)

آپ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ لکھتے ہیں: دروں میں کھڑے نہ ہوں کہ مکروہ ہے، ہاں! اگر مصلیوں کی کثرت ہے کہ مسجد بھر گئی اور آدمی باقی ہیں تو دروں میں کھڑے ہوں کہ یہ کھڑا ہونا بضرورت ہے اور مواضع ضرورت مستثنی ہیں۔ دَر خارج مسجد نہیں ہے، اس میں کھڑا ہونا اس وجہ سے مکروہ و ممنوع ہے کہ صف قطع ہوتی ہے اور یہ ممنوع ہے۔ (فتاوی امجدیہ، جلد 1، صفحہ 174، مکتبہ رضویہ، کراچی)

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: FAM-1231
تاریخ اجراء: 26 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 12 جون 2026ء