نو مسلم کو انگریزی میں نماز سکھانا کیسا؟
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
نو مسلم کو نماز سکھانے کے لیے انگریزی میں نماز لکھنا کیسا؟
دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)
سوال
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس بارے میں کہ کیا مکمل نماز کے طریقے کو انگریزی میں لکھ سکتے ہیں تاکہ نو مسلم جلد از جلد نماز سیکھ لے؟
جواب
اسلام نے نو مسلم کے لیے دین سیکھنے اور اس پر عمل کرنے میں آسانی، تدریج اور سہولت کو ہمیشہ ملحوظ رکھا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے نو مسلم کی تعلیم و تربیت، اس کے سوالات کے جوابات اور دین کی بنیادی تعلیمات کی تفہیم کے لیے مختلف زبانوں میں رہنمائی کی اجازت دی ہے، تاکہ وہ جلد از جلد اسلام کے احکام سے واقف ہو کر ان پر عمل پیرا ہو سکے، یہ ایک بالکل واضح بات ہے جس میں کوئی شبہ نہیں ہے ،تاہم جس طرح اسلام تعلیم و تعلم میں آسانی کا حکم دیتا ہے، اسی طرح دین کے بعض بنیادی اور مقدس اجزاء کی اصل ہیئت و صورت کو محفوظ رکھنے کا بھی خاص اہتمام کرتا ہے، پھر یہ حقیقت بھی بالکل واضح ہے کہ جب کوئی شخص کلمہ پڑھ کر دائرہ اسلام میں داخل ہوتا ہے تو گویا وہ عہد کرتا ہے کہ دینِ اسلام کے ہر حکم کو مانے گا،چاہے وہ احکام اس کیلئے ابتدائی طور پر مشکل ہوں یا آسان اور یہی دین حنیف کی فطر ت کا تقاضا بھی ہے کہ اس کے جملہ احکام کے سامنے سرتسلیم خم کردیا جائے۔
اس تناظر میں سوال میں پوچھے گئے مسئلے کے دو پہلو ہیں، ایک تو یہ ہے کہ نماز کے اعمال، ارکان، رکوع و سجود کی ترتیب، نیت اور دیگر عملی مسائل کو انگریزی یا کسی بھی دوسری زبان میں تحریر کیا جائے، جبکہ قرآنی آیات اور نماز کے اذکار عربی رسم الخط ہی میں باقی رہیں، تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں، بلکہ نو مسلم کو نماز سکھانے کے لیے اس کی اپنی زبان میں نماز کے افعال کی ادائیگی کا طریقہ، شرائط، فرائض اور واجبات سمجھانا مفید اور باعثِ معاونت ہے، کیونکہ اس سے وہ عبادت کے عملی طریقے کو جلد اور بہتر انداز میں سیکھ سکتا ہے۔
دوسرا پہلو یہ ہے کہ نماز میں پڑھے جانے والے اذکار، سورتوں اور قرآنی آیات کو رومن حروف میں لکھ دیا جائے تاکہ نو مسلم انہیں پڑھ کر نماز ادا کرسکے، تو اس کی اجازت نہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآنِ مجید اللہ تعالیٰ کا کلام ہے جو اپنے الفاظ اور معانی دونوں کے مجموعے کا نام ہے، اور اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ لہٰذا ہر وہ عمل جو قرآنِ کریم کی اصل صورت، اس کے الفاظ یا اس کے معانی میں تبدیلی یا فساد کا سبب بنے، جائز نہیں، اسی لیے عہدِ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر آج تک قرآنِ مجید عربی زبان اور رسمِ عثمانی ہی میں لکھا جاتا رہا ہے، اور پوری امت کا اس پر اجماع ہے کہ قرآن کو اسی رسم میں لکھنا واجب اور اس کی اصل ہیئت کو برقرار رکھنا ضروری ہے، رومن رسم الخط میں قرآن لکھنے کی صورت میں نہ صرف رسمِ عثمانی کی مخالفت لازم آتی ہے بلکہ یہ قرآن کے متعلق اللہ تعالیٰ کے ارشاد ﴿بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ﴾ کے بھی خلاف ہے، لہٰذا رومن رسم الخط میں لکھی گئی عبارت قرآنِ مجید نہیں کہلائے گی۔ رومن رسم الخط میں لکھنے میں صرف یہی ایک خرابی نہیں بلکہ اس کے اور بھی کئی مفاسد ہیں :
(1) عربی زبان میں بہت سے ایسے حروف ہیں جو سننے میں قریب معلوم ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں ان کے مخارج اور صفات مختلف ہیں، مثلاً: س، ص، ث اور ز، ذ، ظ۔ جبکہ انگریزی رسم الخط میں ان کے لیے الگ الگ حروف موجود نہیں، چنانچہ س، ص اورث کے لیے (S) اور ز، ذ، ظ کے لیے (Z) استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ مختلف عربی الفاظ ایک ہی انداز میں لکھے جانے لگتے ہیں، حالانکہ ان کے معانی الگ الگ ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر زاہر اور ظاہر دو مختلف الفاظ ہیں، لیکن رومن رسم الخط میں دونوں کو عموماً (Zahir) لکھا جائے گا۔ اب پڑھنے والا یہ نہیں جان سکے گا کہ اصل لفظ کون سا ہے اور یہ نظم و معنیٰ کی حفاظت کے بالکل خلاف ہے پھر اگر نماز کے اندر فسادِ معنی والی صورت واقع ہو تو نماز بھی فاسد ہوجاتی ہے۔
(2) بعض لوگ یہ کہتے ہیں کہ مختلف حروف کے امتیاز کے لیے اضافی علامات مقرر کر دی جائیں، تو اس خرابی کو ختم کیا جاسکتا ہے، لیکن یہ حل بھی قابلِ قبول نہیں، کیونکہ اولاً: عربی حروف کے تمام مخارج و صفات کو رومن علامات کے ذریعے صحیح طور پر منتقل کرنا انتہائی دشوار بلکہ تمام لوگوں کے ان علامات سے حروف میں امتیاز کرسکنے کے اعتبار سے عملاً ناممکن ہے۔ ثانیاً: اس صورت میں بھی رسم عثمانی کی مخالفت کے علاوہ دیگر کئی مفاسد ہیں جیسے ان میں سے ایک یہ ہے کہ اگر رومن رسم الخط میں قرآن لکھنے کی اجازت دے دی جائے تو رفتہ رفتہ غیر عربی علاقوں میں رومن رسم الخط ہی کا رواج عام ہوجائے گا کیونکہ لوگ ہمیشہ سہولت کی طرف دوڑتے اور اسے زیادہ اپناتے ہیں، جس کے نتیجے میں عربی رسم الخط سے واقفیت کم ہوجائے گی، قرآنِ مجید اپنی اصل شکل میں کم پڑھا جائے گا اور نئی نسل عربی رسم الخط سیکھنے سے دور ہوجائے گی،حالانکہ عربی متن کے ساتھ وابستگی قائم رکھنا اور اسے رواج دینا ناگزیر دینی تقاضا ہے۔
ایک شبہ اور اس کا جواب:
بعض لوگوں کا یہ خیال ہے کہ اگر قرآنِ مجید کو رومن رسم الخط میں لکھنا درست نہیں تو کم از کم نماز کے اذکار، تسبیحات، تشہد اور دیگر عربی کلمات کو رومن میں لکھنے کی اجازت ہونی چاہیے، لیکن یہ بات بھی درست نہیں، کیونکہ نماز اسلام کی عظیم ترین عبادات میں سے ہے اور اس کے اذکار اپنی اصل صورت میں منقول و محفوظ ہیں، لہٰذا انہیں بھی دوسرے کسی رسم الخط میں لکھنا سنت متوارثہ کی خلاف ورزی ہے۔ نیز قرآنِ مجید کو رومن رسم الخط میں لکھنے کی ممانعت صرف رسمِ عثمانی کی مخالفت کی وجہ سے نہیں، بلکہ فسادِ معنی اور غلط تلفظ جیسے مفاسد کے اندیشے کی وجہ سے بھی ہے، اور یہی مفاسد اذکار و تسبیحات میں بھی پائے جاتے ہیں اور یہ بات مسلم ہے کہ جس طرح قرآنی آیات میں بوجہ خطا معنی فاسد ہونے سے نماز فاسد ہوتی ہے یونہی اذکار و تسبیحات و تکبیرات انتقالات کا معاملہ ہے۔
نو مسلم کی ضرورت کا اشکال اور اس کا جواب:
بعض حضرات یہ اشکال پیش کرتے ہیں کہ نو مسلم پر اسلام قبول کرتے ہی نماز فرض ہوجاتی ہے، جبکہ وہ عربی زبان سے ناواقف ہوتا ہے۔ لہٰذا اگر اسے رومن رسم الخط میں سورتیں اور اذکار مہیا کر دیے جائیں تو اس کے لیے نماز سیکھنا آسان ہوجائے گا۔ بظاہر یہ جذبہ دینی خیر خواہی پر مبنی ہے اور قابلِ قدر بھی ہے، لیکن اس کا حل رومن رسم الخط کو رواج دینا نہیں۔
اس کی چند وجوہات ہیں:
٭ اگر کوئی ایسا شخص مسلمان ہو جو اپنی مادری زبان بھی پڑھنا لکھنا نہ جانتا ہو تو پھر رومن رسم الخط بھی اس کے لیے مفید ثابت نہیں ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ اصل مسئلہ تعلیم و تربیت کا ہے، نہ کہ رسم الخط کی تبدیلی کا، یہی وجہ ہے کہ آج بھی دنیا بھر میں لاکھوں غیر عرب مسلمان عربی رسم الخط میں قرآن و نماز سیکھتے اور پڑھتے ہیں، لہٰذا نو مسلم کے لیے بھی یہ کام ممکن ہے۔
٭ عہدِ رسالت، دورِ صحابہ اور دورِ تابعین سے لے کر اسلام دنیا کے بے شمار ممالک میں پھیلا۔ ان ادوار میں مختلف زبانیں بولنے والے لاکھوں افراد مسلمان ہوئے، مگر کبھی قرآن یا نمازوں کے اذکار کو ان کی زبانوں یا رسم الخط میں منتقل کرنے کی ناگزیر ضرورت محسوس نہیں کی گئی، بلکہ یہ سب چیزیں اپنی اصل عربی شکل میں باقی رہیں، اگر یہ طریقہ عظیم دینی مصلحتوں کے خلاف نہ ہوتا تو ضرور اپنایا جاتا، مگر تعاملِ امت اس کے خلاف ہے۔
٭ قرآن صرف دیکھ کر ہی نہیں سیکھا جاتا بلکہ سن کر بھی یاد کیا جاسکتا ہے، اور موجودہ دور میں آڈیو ذرائع اس کام کو مزید آسان بناتے ہیں۔
٭ جب تک نو مسلم مختصر سورتیں اور ضروری اذکار یاد نہ کرلے، وہ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرسکتا ہے، کیونکہ مقتدی پر قراءت فرض نہیں ہوتی اور اگر وہ اپنی نماز بھی پڑھنا چاہے اور عربی قراءت سے بالکل عاجز ہو تو ایسی صورت میں وہ قراءت کی جگہ کوئی بھی ذکر الٰہی جیسے سبحان اللہ، الحمد للہ پڑھ سکتا ہے یونہی قرآن مجید کا اپنی زبان کا ترجمہ بھی پڑھ سکتا ہے ۔
خلا صہ کلام یہ ہے کہ نو مسلم کو نماز کا طریقہ، ارکانِ نماز، شرائط، فرائض اور دیگر عملی مسائل انگریزی یا کسی بھی زبان میں لکھ کر سکھانا، جائز بلکہ مفید ہے، لیکن قرآنِ مجیدکی سورتوں یا آیات کو رومن (انگریزی) رسم الخط میں لکھنا جائز نہیں کہ اس میں کئی مفاسد ہیں، یونہی دیگر تسبیحات و اذکار لکھنا بھی ممنوع ہے۔ نو مسلم کی تعلیم و تربیت کا درست طریقہ یہی ہے کہ اسے اس کی زبان میں نماز کا مفہوم اور طریقہ سمجھایا جائے، جبکہ قرآنی آیات اور اذکار کو اصل عربی رسم الخط ہی میں سکھایا جائے، جیسا کہ عہدِ نبوی سے لے کر آج تک امتِ مسلمہ کا معمول چلا آ رہا ہے۔
جزئیات ملاحظہ ہوں:
قرآن مجید کو رسم عثمانی کے علاوہ کسی اور رسم الخط میں لکھنا جائز نہیں، امام جلال الدین عبد الرحمٰن بن ابو بکر السیوطی الشافعی متوفی 911ھ اپنی کتاب الاتقان فی علوم القرآن میں لکھتے ہیں: و قال أشهب: سئل مالك: هل يكتب المصحف على ما أحدثه الناس من الهجاء؟ فقال: لا إلا على الكتبة الأولى رواه الداني في المقنع، ثم قال و لا مخالف له من علماء الامۃ و قال الإمام أحمد: يحرم مخالفة مصحف الإمام في واو أو ياء أو ألف أو غير ذلك و قال البيهقي في شعب الإيمان: من كتب مصحفا فينبغي أن يحافظ على الهجاء الذي كتبوا به هذه المصاحف، ولا يخالفهم فيه و لا يغير مما كتبوه شيئا فإنهم كانوا أكثر علما وأصدق قلبا ولسانا وأعظم أمانة منا فلا ينبغي أن يظن بأنفسنا استدراكا عليهم“ ترجمہ: امام اشہب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ سے پوچھا گیا: کیا قرآن کو لوگوں کے رائج کردہ نئے طریقۂ املا کے مطابق لکھا جاسکتا ہے؟ تو انہوں نے فرمایا: نہیں، بلکہ اسی پہلے طریقۂ کتابت کے مطابق لکھا جائے گا جس پر ابتدائی مصاحف لکھے گئے تھے۔ اس روایت کو امام دانی رحمہ اللہ نے المقنع میں نقل کیا، پھر فرمایا: اس مسئلے میں امت کے علماء میں کوئی مخالف معلوم نہیں۔ اور امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ نے فرمایا: مصحفِ امام (یعنی مصحفِ عثمانی) کے رسم کے خلاف واو، یا، الف یا کسی اور حرف میں تبدیلی کرنا حرام ہے۔ اور امام بیہقی رحمہ اللہ شعب الإيمان میں فرماتے ہیں: جو شخص مصحف لکھے، اسے چاہیے کہ انہی طریقۂ ہجاء (رسم الخط) کی پابندی کرے جس کے مطابق صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم نے یہ مصاحف لکھے تھے، اور اس میں ان کی مخالفت نہ کرے، نہ ان کے لکھے ہوئے میں کسی قسم کی تبدیلی کرے؛ کیونکہ وہ ہم سے زیادہ علم والے، زیادہ سچے دل اور زبان والے، اور امانت کے اعتبار سے ہم سے بڑھ کر تھے۔ لہٰذا ہمیں اپنے بارے میں یہ گمان نہیں کرنا چاہیے کہ ہم ان کی رائے یا عمل کی اصلاح یا تکمیل کرسکتے ہیں۔ (الاتقان فی علوم القرآن، ج 04، ص 169، الهيئة المصرية العامة للكتاب)
امام ابو عبد اللہ بدر الدین محمد بن عبد اللہ زرکشی متوفی 794ھ البرھان فی علوم القرآن میں لکھتے ہیں: و ھل تجوز کتابتہ بقلم غیر العربی؟ الأقرب المنع لقولھم: القلم أحد اللسانین و العرب لا تعرف قلما غیر العربی و قد قال تعالی: (بلسان عربی مبین) ترجمہ: اور کیا قرآنِ مجید کو غیر عربی رسم الخط میں لکھنا جائز ہے؟ اس کے جواب میں درستگی کے زیادہ قریب بات عدمِ جواز ہے، کیونکہ علماء نے فرمایا ہے: قلم (یعنی رسم الخط) دو زبانوں میں سے ایک زبان ہے۔ اور عرب غیر عربی رسم الخط کو نہیں جانتے تھے، جبکہ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید کے بارے میں فرمایا ہے: ﴿بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ﴾ روشن عربی زبان میں۔ (البرھان فی علوم القرآن، ج 01، ص 380، دار احیاء الکتب العربیۃ)
اس کی بڑی بنیادی وجہ یہ ہے کہ دور رسالت سے آج تک اسی پر اجماع ہے، علامہ شیخ محمد عبد العظیم زرقانی متوفی 1367ھ اس کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مناھل العرفان فی علوم القرآن میں لکھتے ہیں: أن رسم المصاحف العثمانية ظفر بأمور كل واحد منها يجعله جديرا بالتقدير و وجوب الاتباع. تلك الأمور هي إقرار الرسول صلی اللہ علیہ وسلم عليه و أمره بدستوره. و إجماع الصحابة ثم إجماع الأمة عليه بعد ذلك في عهد التابعين و الأئمة المجتهدين“ ترجمہ: مصاحفِ عثمانیہ کے رسم کو ایسے متعدد شرف حاصل ہیں کہ ان میں سے ہر ایک اس کے قابلِ تعظیم اور واجب الاتباع ہونے کے لیے کافی ہے۔ یہ امور یہ ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اس رسم پر تصویب اور اسی کو دستور بنانے کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی ہدایات۔ صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم کا اس پر اجماع، پھر اس کے بعد پوری امت کا اس پر اجماع، جو تابعین اور ائمہ مجتہدین کے دور تک مسلسل قائم رہا۔ (مناھل العرفان، ج 01، ص 378، الناشر: مطبعة عيسى البابي الحلبي و شركاه)
مفتی احمد یار خان نعیمی متوفی 1391ھ فتاوٰی نعیمیہ میں ارشاد فرماتے ہیں: قرآن کریم تلاوۃ و کتابۃ ہر طرح محفوظ ہے، جس طرح اس کی عبارت کو بدلنا جائز نہیں اور وہ قرآن نہ ہوگا، اسی طرح اس کا رسم الخط بدلنا جائز نہیں کہ وہ قرآن کی تحریر نہ ہوگی۔
چند عبارات کو ذکر کرنے کے بعد مفتی احمد یار خان نعیمی علیہ الرحمۃ لکھتے ہیں: جبکہ رسم الخط میں اس قدر پابندی ہے تو ہندی یا انگریزی رسم الخط میں لکھنا تو صریح تحریف ہے کہ اولا تو اوپر ذکر کی ہوئی پابندیوں کے خلاف ہے دوم سین، صاد، ثاء میں اسی طرح ق اور ک میں، ز، ذ، ظ میں فرق بالکل نہ ہوسکے گا ،مثلا ظاہر کے معنیٰ ہیں ظاہر اور زاہر کے معنیٰ ہیں چمکدار یا تر و تازہ، اب اگر انگریزی میں آپ نے Zahir لکھا تو کیسے معلوم ہوا کہ ظاہر ہے یا زاہر، غرضیکہ اوصاف الفاظ تودرکنار خود حروف ہی منقلب ہوجائیں گے اور معنیٰ ہی ختم۔ (فتاوٰی نعیمیہ، ص 83، نعیمی کتب خانہ، گجرات)
ضرورت تعلیم والے اشکال کے متعلق، امام ابو العباس شیخ الاسلام محمد بن احمد المعروف ابن حجر ہیتمی شافعی متوفی 974ھ الفتاوی الفقھیۃ الکبری میں فرماتے ہیں: و زعم أن كتابته بالعجمية فيها سهولة للتعليم كذب مخالف للواقع و المشاهدة فلا يلتفت لذلك على أنه لو سلم صدقه لم يكن مبيحا لإخراج ألفاظ القرآن عما كتبت عليه، و أجمع عليها السلف والخلف“ ترجمہ: یہ کہنا کہ غیر عربی رسم الخط میں قرآن لکھنے سے لوگوں کو قرآن سیکھنے میں آسانی ہوگی، ایک بے بنیاد دعویٰ ہے جو حقیقت اور مشاہدے کے خلاف ہے، اس لیے اس دلیل کی کوئی حیثیت نہیں۔ اور اگر مان بھی لیا جائے کہ اس میں کسی درجے کی سہولت موجود ہے، تب بھی محض سہولت کی بنیاد پر قرآنِ مجید کو اس رسم الخط سے ہٹانا جائز نہیں جس پر اسے ابتدا سے لکھا جاتا رہا ہے اور جس پر امت کے متقدمین و متأخرین کا اجماع منعقد ہو چکا ہے۔ (الفتاوی الفقھیۃ الکبری، ج 01، ص 38 الناشر: المكتبة الإسلامية)
خاص نماز کی تعلیم سے متعلق، کتاب مجلس شرعی کے فیصلے میں ہے: عہد صحابہ اور اس کے بعد پوری دنیا میں اسلام پھیلا مگرکبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی، حالاں کہ صحابہ و تابعین کو نہ جانے دوسری کتنی زبانوں سے سابقہ پڑا مگر قرآن جوں کا توں رہا اور رشد و ہدایت کے جوہر لٹاتا رہا۔ ۔ عہد رسالت سے اب تک ہر دور میں پڑھے اور بے پڑھے ہر طرح لوگ اسلام لاتے اور قرآن سیکھ کر اپنے فرائض ادا کرتے رہے آج یہ کیوں نہیں ہوسکتا؟ زبانی سن کر اور سیکھ کر بھی عمل کیا جاسکتا ہے، عہد رسالت و صحابہ میں بے شمار امی اسلام لائے اور زبانی سیکھ کر قرآن کی قراءت کی، (پھر) ایسا عجمی بھی اسلام لاسکتا ہے جو اپنی زبان لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو اس کیلئے کیا صورت ہوگی؟ ہمارے مذہب میں نو مسلم کیلئے ایک صورت یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جب تک دو تین سورتیں نہیں سیکھ لیتا اپنی نماز میں کسی قاری کی اقتدا کرے، علاوہ ازیں اگر غیر عربی قرآن کا رواج ہوا تو انجام یہ ہوگا کہ اصل قرآن کا وجود نادر اور صرف لائبریریوں کی زینت بن کر رہ جائے گا۔ (مجلس شرعی کے فیصلے، ج 03، ص 100 / 106، اکبر بک سیلرز)
قراءت و اذکار میں فساد معنی والی غلطی سے نماز فاسد ہوجاتی ہے، بہار شریعت میں ہے: قراء ت یا اذکارِ نماز میں ایسی غلطی جس سے معنی فاسد ہو جائیں، نما ز فاسد کر دیتی ہے۔ (بہار شریعت، جلد 1، صفحہ 614، مکتبۃ المدینہ، کراچی)
قراءت سے عاجز نو مسلم شخص نماز میں کوئی بھی ذکر یا قرآن کا ترجمہ پڑھ سکتا ہے، صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی متوفی 1367ھ فرماتے ہیں: اگر کوئی شخص بالکل نیا مسلمان ہوا ہو یا کسی اور وجہ سے فی الحال قرآن مجید کا عربی متن پڑھنے پر قادر نہ ہو، تو ایسے شخص پر عارضی طور پر قراءت فرض نہیں ہوتی۔ اس صورتِ حال میں، اس کے لیے نماز میں خاموش کھڑے رہنے سے بہتر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر جیسے تسبیح و تہلیل کر لے۔ ایسے مجبور شخص کو بطورِ ذکر اس کا ترجمہ پڑھنے کی اجازت ہے، لیکن یہ اجازت اس بنیاد پر نہیں کہ اس نے قرآن پڑھا، بلکہ اس بنیاد پر ہے کہ وہ قراءت سے عاجز ہے۔
حاشیہ میں ہے: ایسے شخص پر لازم ہے کہ وہ دن رات کوشش کر کے جلد از جلد اتنی قرآنی آیات یاد کر لے جتنی نماز میں پڑھنا ضروری ہیں (یعنی سورۂ فاتحہ اور کوئی چھوٹی سورت)۔ یہ کوئی مشکل کام نہیں اور تھوڑی سی توجہ سے چند گھنٹوں میں سیکھا جا سکتا ہے۔ (ملخص از فتاویٰ امجدیہ و حاشیہ، جلد 1، صفحہ 96، مطبوعہ مکتبہ رضویہ، کراچی)
وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم
مجیب: مفتی محمد قاسم عطاری
فتویٰ نمبر: HAB-0759
تاریخ اجراء: 20 ذو الحجۃ الحرام 1447ھ / 06 جون 2026ء