logo logo
AI Search

کرسی پر نماز پڑھنے والا جماعت چھوڑ سکتا ہے؟

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

بعض کرسی پر بیٹھ کر نماز ادا کرنے والے جماعت کے بعد مسجد جاکر اپنی نماز پڑھیں، تو کیا حکم ہے؟

دار الافتاء اہلسنت (دعوت اسلامی)

سوال

کئی لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ کرسی پر بیٹھ کے نماز پڑھتے ہیں اسی لیے وہ جماعت کے بعد مسجد میں جاتے ہیں ایسا کرنا کیسا؟

جواب

فرض نماز مسجد کی جماعت اولی کے ساتھ ادا کرنا مرد پر واجب ہے جبکہ جماعت ساقط ہونے کا کوئی عذرِشرعی نہ ہواورکرسی پر نماز پڑھنا کوئی ایسا شرعی عذر نہیں جس کی وجہ سے جماعت چھوڑنے کی اجازت ہو۔ اور بلاعذر شرعی مسجد کی جماعت ترک کر دینا ہر گز جائز نہیں۔ احادیث مبارکہ میں بلاعذر ترکِ جماعت پر بہت سی وعید وارد ہوئی ہیں چنانچہ حضرت ابن عباس رضی اللہ تعا لی عنہ رسول اللہ صلی اللہ تعالیٰ علیہ و سلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا: من سمع النداء و لم یاتہ فلا صلوة لہ الا من عذر“ ترجمہ: جس نے اذا ن سنی اور نماز کے لئے حا ضر نہ ہو، تواس کی نماز ہی نہیں مگریہ کہ کوئی عذر ہو۔ (سنن ابن ماجہ، ص 57، مطبوعہ کراچی)

یہاں یہ بات بھی یاد رکھیں کہ اگر کوئی شخص زمین پر یا زمین پر رکھی ہوئی ایسی چیز جس کی اونچائی بارہ انگل سے زیادہ نہ ہو، اس پر بھی سجدہ نہیں کر سکتا مثلا اس طرح سجدہ کرنے سے ناقابل برداشت تکلیف ہو گی یا مرض بڑھ جائے گا یا دیر سے اچھا ہوگا، تو اس صورت میں وہ کرسی پر بیٹھ کر اشارے سے نماز ادا کر سکتا ہے۔ اور اگر وہ زمین پر یا زمین پر رکھی ہوئی ایسی چیز جس کی اونچائی بارہ انگل سے زیادہ نہ ہو، اس پر سجدہ کر سکتا ہے، تو پھر اس صورت میں کرسی پر بیٹھ کر سجدے کے لئے اشارہ کافی نہیں ہوگا،اگر سجدہ پر قادر ہونے کے باوجود اس کے لئے اشارہ کیا تو سرے سے نماز ہی نہیں ہوگی۔ اس صورت میں جتنی دیر قیام کر سکتا ہو،اتنا قیام کریں ،پھر جب قیام پر قدرت ختم ہوجائے، تو کرسی پر بیٹھ کر نماز جاری رکھیں اور سجدہ زمین پر کر یں۔

اس حوالے سے مزید تفصیل کے لئے دار الافتاء اہلسنت کے مطبوع فتوی بنام کرسی پر نماز پڑھنے کے احکام کا مطالعہ فرمائیں۔اس رسالے کو ڈاؤن لوڈ کر سکتے ہیں

وَ اللہُ اَعْلَمُ عَزَّ وَ جَلَّ وَ رَسُوْلُہ اَعْلَم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَ سَلَّم

مجیب: مولانا رضا محمد عطاری مدنی
فتویٰ نمبر: Web-2510
تاریخ اجراء: 08 ربیع الآخر 1447ھ / 02 اکتوبر 2025ء